ڈاکوں، اجرتی قاتلوں کے 3گروہوں کے 27ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

ڈاکوں، اجرتی قاتلوں کے 3گروہوں کے 27ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                       لاہور ( کرائم سیل ) سی آئی اے پولیس نے بینکوں اور اے ٹی ایم سے رقم نکلواکرنکلنے والے شہریوں کو گن پوائنٹ پر لوٹنے ،گھروں خاص کر پوش علاقوں میں ریکی کے بعد اسلحہ کی نوک پر لوٹ مار کرنے، دوران واردات مزاحمت پر 4شہریوں کو قتل کرنے کے علاوہ پولیس حراست سے ملزمان فرار کرانے اوردیگر سنگین مقدمات میں ملوث ڈاکوﺅں، راہزنوں اور اجرتی قاتلوں کے تین گروہوں کے 27ملزموں کو گرفتار کرکے ان سے قریباً ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا مال مسروقہ اور ناجائز اسلحہ برآمدکرلےاہے۔یہ بات ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ اس موقع پر ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک اور سی آئی اے پولیس کے ڈی ایس پیز میاں محمد شفقت ، عمر فاروق بلوچ اور سید ریاض حسین شاہ سمیت دیگر افسران و اہلکاران بھی موجود تھے، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید نے تفصیلات بتاتے کہا کہ ملزمان نہایت سفاک اور بے رحم ہیں جو خاتون سمیت 6افراد کو قتل اور 4پولیس اہلکاروں سمیت 5افراد کو فائرنگ کر کے زخمی کرنے کے علاوہ لاہور ،قصور، اوکاڑہ، کراچی اور خانیوال میں ڈکیتی، راہزنی اورڈکیتی قتل کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہیں۔کل 27گرفتار ملزمان میں سے 14ملزمان عباس علی، محمد نواز،عبدالقیوم، نصرت بی بی، عامر عرف عامری،عصمت بی بی، حیدر توقیر، شہزاد احمد، محمد فاروق، محمد شفیق، محمد اشفاق، جعفر حسین، محمد ثاقب اور محمد نذیر ڈکیتی قتل،ہاﺅس رابری، قتل اور راہزنی کی 60سے زائد وارداتوں میں اشتہاری ہیں جبکہ ان کے دیگر 13ساتھی محمد وقار، نادیہ بی بی، ناصر علی، عابد علی، مرتضیٰ، مزمل حسین، کرامت علی، مشتاق احمد، ابرار احمد، ناظم علی، غلام سرور،عمران صابر اور عبدالغفوربھی ڈکیتی، راہزنی،دوران ڈکیتی قتل کی 65سے زائد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ملزموں کی نشاندہی پر پولیس نے قریباً ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا 40تولے خالص سونا،30تولے طلائی زیوارت,ساڑھے 38لاکھ روپے نقدی،چاندی کے زیورات، کاریں، لیب ٹاپ، آئی پیڈ، کیمرے،گھڑیاں، سونا پگھلانے کے آلات، 55موبائل فونز اور بھاری مقدار میں آتشیں اسلحہ برآمد کیا ہے۔عباس عرف اسلم ڈکیت گینگ کے ملزمان نے دوران واردات مزاحمت پر 2افراد کو قتل کرنے کے علاوہ ڈیفنس کے مختلف گھروں میں وارداتیں کرنے اوراپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے جیل وین پر فائرنگ کرکے پولیس ملازمان کو زخمی کرنے سمیت 50سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔اسی طرح فاروق سعید سنیچر گینگ کے ملزمان نے تھانہ باغبانپورہ اور شالیمار میں دوران واردات مزاحمت پر دو شہریوں کو قتل اور تین کو زخمی کرنے کے علاوہ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے رقم جانے والے 15شہریوں سے گن پوائنٹ پر رقم، لیب ٹاپ اور موبائل فونز کے علاوہ دیگر قیمتی اشیاءچھیننے کی 20سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔مرزا عبدالغفور قاتل گینگ کے ملزمان نے پولیس حراست سے ملزمان فرار کرانے اور قصور میں مرزا رحمت بیگ کو قتل کرنے سمیت،قتل اور اندھے قتل کی 12سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تمام ملزمان نہایت بے رحم ہیں جوپیسوں کے لالچ میں اجرتی قاتل کے طور پر کام کرتے تھے۔عباس عرف اسلم اور فاروق سعید سنیچر گینگ کے ملزمان انٹر نیٹ کے ذریعے OLXکی ویب سائٹ پر سامان فروخت کرنے کا اشتہار دیکھ کر سامان خریدنے کے بہانے ہاﺅس رابری کرنے اور بینکوں اور ATMسے رقم نکلوا کر جانے شہریوں کو لوٹنے میں مہارت رکھتے ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان ملزمان میں تین خواتین بھی شامل ہیں یہ خواتین شہر کے مختلف پوش علاقوں میں گھروں میں ملازمت حاصل کر کے کچھ ہی دنوں میں گھروں کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو بلا کر لوٹ مار کر کے فرار ہو جاتے تھے۔ ملزمان واردات کے دوران لوٹے ہوئے طلائی زیورات کو پگھلا کر ڈلی کی صورت میں سونا تیار کرکے مختلف لیبارٹریوں کو فروخت کرتے تھے۔ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے رہائش تبدیل کرتے رہتے تھے اور ان دنوں یہ ملزمان فردوس مارکیٹ اور مکہ کالونی میں کرائے کے مکان لے کر رہ رہے تھے۔صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ فین روڈ پر سیف سنٹر کے سامنے اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی 25سالہ فرزانہ کے مقدمہ قتل میں پولیس نے 5ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے جن میں سے ایک لڑکی کا چچا، ایک گاڑی کا ڈرائیور، اس کے2 کزن اور ا س کا باپ شامل ہے جبکہ دیگر ملزموں کی گرفتاری کے لیے ایس پی سی آئی اے اور ایس پی سول لائنز انویسٹی گیشن کی ٹیمیںمختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔سنبل کیس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں تفتیش جاری ہے ۔

مزید :

علاقائی -