پٹے داروں نے پنجاب سیڈ کارپوریشن کو ایک ارب 25کروڑ روپے کا نقصان پہنچا دیا

پٹے داروں نے پنجاب سیڈ کارپوریشن کو ایک ارب 25کروڑ روپے کا نقصان پہنچا دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) پنجاب سیڈ کارپوریشن کی انتظامیہ کو اثررورسوخ کے حامل ناجائز قابضین کے روبرو بے بسی کا سامنا ہے۔ 427 ایکڑ سرکاری اراضی پر ناجائز قابض ، مافیا نے ایک طرف نہ صرف کروڑوں روپے مالیت کی 26ایکڑ اراضی فروخت کردی ہے تو دوسری طرف معاہدے کے باوجود12برسو ںسے پٹے کی طے شدہ رقم بھی ادا نہیں کررہے۔ جس سے قومی خزانے کو سوا ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے معاملے کانوٹس لیتے ہوئے اراضی واگزار کروانے کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی انتظامیہ نے 2001میں خانیوال میں واقع تین فارم پٹے پر دیئے۔ جس کے تحت پٹے داروں نے ادارے کو زربدل کے طورپر مخصوص ادائیگی کرنا تھی۔ لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ ادارے کے بعض چھوٹے بڑے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت سے یہ پٹے دار سرکاری اراضی پر ناجائز قابض بن بیٹھے ہیں۔ اور انہوںنے ایک طرف پیداوار ، درختوں کی قیمت اور پٹے کی رقم دینا بند کردی ہے۔ جس سے قومی خزانے کو ایک ارب 25کروڑ روپے سے زائد ریونیو خسارے کا سامنا ہے۔تو دوسری طرف ان پٹے داروں نے مبینہ طورپر فارم 81-82/10-Rِاور فارم 83-85/10-Rاورفارم 86-87/10-Rکی اربوں روپے مالیت کی 427ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ بھی کرلیا ہے۔ اور یہ سلسلے یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے سرکاری اراضی فروخت کرنابھی شروع کردی ہے۔اور اب تک کروڑوںروپے مالیت کی 26ایکڑ اراضی فروخت کی جاچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرا علیٰ پنجاب نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سرکاری اراضی واہگزار کروانے اور حقائق جاننے کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب سیڈکارپوریشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں ہے۔اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ہی مزید کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

مزید :

صفحہ آخر -