توانائی بحران کا حل، عملی کام شروع، کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد

توانائی بحران کا حل، عملی کام شروع، کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد
توانائی بحران کا حل، عملی کام شروع، کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد
کیپشن: ch khadim hussain

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ: چودھری خادم حسین
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ساہیوال میں ایک پاور پلانٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جو کوئلے سے چلے گا اور اس سے ایک ہزار تین سو بیس میگا واٹ تک بجلی حاصل ہوسکے گی، یہ پلانٹ چین کی کمپنی کے اشتراک سے لگایا جارہا ہے اور چینی انجینئر ہی تعمیر کریں گے۔ موجودہ حکومت نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے کئی اور منصوبے بھی شروع کئے یا کرنے والی ہے مقصد توانائی کے بحران پر قابو پانا ہے، اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بہت زیادہ سرگرم عمل ہیں، کوئلے کے علاوہ چولستان میں ایک سومیگا واٹ کے سولر انرجی پارک کا کام بھی شروع ہوچکا ہوا ہے اور اب قومی اقتصادی کونسل نے باقاعدہ طور پر بھاشاڈیم اور داسو ڈیم کی بھی منظوری دے دی ہے یوں بات یقیناً مفاہمت کی یادداشتوں سے آگے بڑھ گئی ہے۔
موجودہ حکمران توانائی کے حوالے سے اپنی کوششوں سے مطمئن ہیں اور اعتراضات کے جواب بھی دئیے جارہے ہیں، کوئلہ والے پلانٹوں کے حوالے سے عالمی ماحولیاتی ایجنسی کے تحفظات ہیں اور اس کی طرف سے چین اور امریکہ کے پاور ہاﺅسوں پر بھی تنقید کی گئی جبکہ پاکستان میں تو نئے پلانٹ لگ رہے ہیں، یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ جدید مشینری اور درجہ اول کا کوئلہ استعمال کرنے سے ماحولیاتی آلودگی عالمی معیار کی حدود پار نہیں کرے گی۔
یہ تو کوئلے والوں کی بات ہے، اصل میں تو بھاشا ڈیم کی منظوری زیادہ اہم ہے جو عالمی بنک کے اعتراض اور قرضے سے انکار کے باوجود دی گئی ہے اور اس سے احساس ہوتا ہے کہ نواز شریف حکومت توانائی کے حصول میں سنجیدہ اور خطرات مول لینے کو بھی تیار ہے بھاشا ڈیم گلگت، بلتستان کی حدود میں ہے اور گلگت، بلتستان شمال میں ہمالیہ کے سلسلہ کا حصہ ہے جسے کشمیر کے تنازعہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کا موقف مختلف ہے، بہرحال منظوری دے دی گئی۔
کشمیر ہی کے حوالے سے آج کل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سخت تنقید کی زد میں ہیں، پاکستان میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اول تو وزیراعظم کو بھارت جانا ہی نہیں چاہیے تھا کہ من موہن سنگھ ان کی دعوت پر نہیں آئے تھے، ان کا جانا کمزوری کی علامت بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر گئے تھے تو پھر وہاں متنازعہ امور (کشمیر + سیا چن وغیرہ) پر پاکستانی موقف کا اظہار کرتے، معترض بہت سے دلائل لارہے ہیں، جواب میں کہا جارہا ہے کہ بات کی گئی ہے۔ مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ کشمیر پر بات کی گئی۔
اس سلسلے میں جو بھی بحث ہورہی ہے اس کے بارے میں ہمارا اپنا ایک موقف ہے جو دورے کے حق میں ہے تاہم تحفظات تو بہرحال ہوسکتے ہیں، لیکن آج تو بات بھارت کے ایک مہامنصف مزاج، امن پسند اور معتدل ترین صحافی کی کرنا ہے جن کے کالم کا ترجمہ آج ہی پڑھا ہے۔ کلدیپ نائر بھارت کا بڑا نام ہیں۔ پاکستان میں بھی مقبول ہیں خصوصاً پاک بھارت دوستی والے ممی ڈیڈی اور امن کی آشاوالوں کے نزدیک معتبر ہیں، ان کی تحریروں اور باتوں سے ہم بھی متاثر ہیں کہ بہتر اور دوستانہ تعلقات کے حمایتی ہیں لیکن اس کالم نے بہت تاثر زائل کیا اور صدمہ بھی پہنچایا ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں سرتاج عزیز کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے پریس کانفرنس کرکے کشمیر کا ذکر کیوں کیا، جبکہ بھارت میں ملاقات اور حلف برداری تقریب کے دوران ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ان کے نزدیک پاکستان کے وزیراعظم کی طرف سے ایسی بات نہ کرنے سے بھارتی میڈیا اور سیاسی پنڈتوں پر اچھے اثرات مرتب ہوئے جو اب زائل ہوگئے ہیں، اس موقف سے خود کلدیپ نائر کی اعتدال پسندی اور دوستی والی بات مشکوک ہوجاتی ہے، کیونکہ مطلب یہ ہوا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ اگر کشمیر پر یہ کہے کہ بھارت کا موقف واضح ہے، اس پر بات کی ضرورت نہیں تو ٹھیک اگر پاکستان کی طرف سے بات کی جائے تو یہ جرم ان کا کالم اور انداز بیاں مشتعل کرنے والا ہے اور بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن دورے کے بہتر مقاصد کے لئے گریز اور پرہیز کیا جارہا ہے ورنہ دوستی اور تعلق کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ بھارتی موقف کے سامنے سرتسلیم خم بات ختم کردیں۔
اس سلسلے میں اس حد تک بھی جایا جاسکتا ہے کہ یہ تقریب ایک رسمی کارروائی تھی اس سے نریندرا مودی نے اپنے بارے میں سخت گیر،متعصّب تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی تو میاں محمد نواز شریف نے امن پسند ہونے کا ثبوت دیا اس سے زیادہ بات ہونا بھی نہیں چاہیے کہ خراب تعلقات میں رسمی تقریب میں غیر رسمی ملاقات ہوگئی اور یہ کہا گیا تنازعات کے لئے بات چیت شروع کی جائے۔ اب مزید معنی نکالنا نہیں چاہئیں لیکن یہ سب بھی تو بھارتی میڈیا نے پہلے کیا، کلدیپ نائر کو اپنے کالم پر حقائق کی روشنی میں نظر ثانی کرنا چاہیے اور اپنے اندر کے محب وطن ہندوستانی کو انسان دوست کی حد تک بھی برقرا رکھنا چاہیے۔

مزید :

تجزیہ -