بجٹ میں تعلیم ، صحت اور سماجی شعبوں کیلئے پہلے سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائینگے

بجٹ میں تعلیم ، صحت اور سماجی شعبوں کیلئے پہلے سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائینگے

 لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے آج لندن سے4 گھنٹے طویل ویڈیو کانفرنس کی ،جس میںآئندہ مالی سال کے بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کے اہم خدو خال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ویڈیوکانفرنس کے ذریعے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تیز رفتار ترقی اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے،گزشتہ برسوں کی طرح صوبے کے عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے فلاح عامہ کے پروگرام آئندہ بھی جاری رہیں گے ۔ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کیلئے پہلے سے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال کے دوران بھی عوام کی فلاح و بہبود پر اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر قدم عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کیلئے اٹھ رہا ہے۔ شفافیت، معیار اور رفتار حکومت پنجاب کا طرۂ امتیاز ہے۔ عوام کی ایک ایک پائی کے امین ہیں اور تمام وسائل ان کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کئے جا رہے ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کرکے بچائے جانے والے وسائل بھی فلاح عامہ کے منصوبوں پرصرف کیے جارہے ہیں جس سے صوبے کے عوام مستفیدہو رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام عوامی امنگوں اور عام آدمی کو اس کی دہلیز پر سہولتوں کی فراہمی کا عکاس ہونا چاہیئے اورآئندہ مالی برس ایسے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے جن سے زیادہ سے زیادہ آبادی مستفید ہوکیونکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا ہماری ترجیح ہے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جاری سکیموں کو ترجیحاً مکمل کیا جائے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنا ترجیحات میں شامل ہے۔ مفاد عامہ کی سکیموں کی بروقت تکمیل بے حد ضروری ہے کیونکہ وسائل کے بروقت استعمال سے نہ صرف عوام کو سہولتوں کی فراہمی یقینی ہوتی ہے بلکہ منصوبے بھی مقررہ مدت میں مکمل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی اور عام آدمی کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت بچائے گئے اربوں روپے کے وسائل بھی عوام کوبنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں پر صرف کیے جارہے ہیں ۔غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے منصوبوں کو برق رفتاری سے مکمل کیا جائے گااوران منصوبوں کی تکمیل سے 2018ء میں ملک سے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے انقلابی نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔سکل ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو ہنر مند بنایا گیا ہے۔آئندہ بجٹ میں بھی لاکھوں نوجوانوں کو فنی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت صوبے کے عوام کی پائیدار ترقی و خوشحالی اور مضبوط معیشت کے اہداف کے حصول پر خصوصی توجہ دی جائے۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تمام محکمے ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل یقینی بنائیں اوراس ضمن میں مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے موثر اور فعال طریقے سے کام کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کرکے ایک مثال قائم کی گئی ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی کو آگے بڑھائینگے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو سفر کی جدید،معیاری اورباوقار سہولتوں کی فراہمی کے بڑے پروگرام پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے ۔لاہور اور راولپنڈی،اسلام آباد میں میٹروبس سروس کی کامیابی کے بعد ملتان میں بھی میٹروبس پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔انفراسٹرکچر کے شعبہ میں جدید میٹروبس پراجیکٹ ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں اورنج لائن میٹروٹرین کے عظیم الشان منصوبے پر بھی تیزرفتاری سے کام جاری ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے ٹرانسپورٹ کلچر بدلے گا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کمشنر آفس فیصل آباد، صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا پنجاب ہاؤس اسلام آباد، صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر ملک ندیم کامران، ایم پی اے منشاء اللہ بٹ، سمیع اللہ خان اور متعلقہ حکام ایوان وزیراعلیٰ جبکہ مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان سول سیکرٹریٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

مزید : صفحہ اول


loading...