لوڈشیڈنگ کے خلاف پُرتشدد مظاہرے

لوڈشیڈنگ کے خلاف پُرتشدد مظاہرے

خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج زیادہ شدید اور پُرتشدد ہو گیا ہے، جس میں دو افراد ہلاک بھی ہو گئے ہیں،درگئی میں مشتعل افراد نے تھانہ اور پیسکو کا دفتر جلا دیا، ورتیر کے ہزاروں مظاہرین نے بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا، صوبے کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے ایم این اے جنید اکبر خان بھی مظاہرین میں شامل ہو گئے، واپڈا سب ڈویژن درگئی ٹو کے دفاتر کو نذرِ آتش کیا گیا، حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے لیویز نے فائرنگ کی، مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے کم از کم 16افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر درگئی سردار بہادر بھی شامل ہیں۔ حالات مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لئے فوج طلب کر لی گئی۔ ڈی سی ملا کنڈ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما جاوید خان کی ہلاکت لیویز اہلکاروں کے ہاتھوں نہیں ہوئی،بلکہ مظاہرے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی۔ واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر آفس پر دھاوا بولتے ہوئے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور اسسٹنٹ کمشنر درگئی پر تشدد کرتے ہوئے اُنہیں زخمی کر دیا، مظاہرین نے جاوید خان کی نعش درگئی چوک پر رکھ کر مین شاہراہ ملاکنڈ کو بند کر دیا۔ چار سدہ کے علاقے عمر زئی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کے دوران تنگی روڈ کو بند کر دیا گیا، مُلک کے دوسرے حصوں میں بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے، جس کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کے خلاف کئی دن سے مظاہرے اور احتجاج جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے حاجی فضل الٰہی نے جمعہ کے روز ہزار خوانی فیڈر کا کنٹرول سنبھال کر اپنی مرضی سے لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب تک پیسکو حکام اُن کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل نہیں کرتے اُس وقت تک وہ قبضہ نہیں چھوڑیں گے۔ایسے واقعات کے بعد انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان عام طور پر تصادم کی نوبت ہی آتی ہے اور یہاں بھی یہی ہوا اور بات یہاں تک بڑھی کہ دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ احتجاج پُرامن ہوتا تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا اشتعال انگیزی کس جانب سے ہوئی،اس تنازعے میں پڑے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اشتعال انگیزی کی فضا کسی کے لئے بھی مناسب نہیں، احتجاج کا مطلب اگر پُرامن طور پر اپنی آواز حکام تک پہنچانا تھا تو یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ ہو سکتا تھا اور اس امر کا بھی امکان تھا کہ معاملات روبہ اصلاح ہو جاتے،لیکن احتجاج میں تشدد اور ضد کے عنصر نے شامل ہو کر حالات کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کیا۔

اسسٹنٹ کمشنر انتظامی افسر ہے اس کا بجلی کی سپلائی یا لوڈشیڈنگ سے کچھ لینا دینا نہیں، لوڈشیڈنگ کم یا زیادہ جیسی بھی ہو رہی تھی اس میں اسسٹنٹ کمشنر کا تو کوئی کردار نہیں تھا یہ متعلقہ کمپنی کرتی ہے اور جو پالیسی اسے دی گئی تھی اس نے اسی کی روشنی میں شیڈول دیا ہو گا تاہم اگر مظاہرین اُن کے دفتر تک پہنچ ہی گئے تھے تو احتجاج کو پُرامن رکھا جا سکتا تھا،لیکن مظاہرین نے اس سے بھی آگے بڑھ کر نہ صرف اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، بلکہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہجوم کی نفسیات میں عموماً ایسا ہی ہوتا ہے، جوابی اقدام کے طور پر انتظامیہ نے جو بھی اقدام کیا اس کو ہدفِ تنقید اِس لئے نہیں بنایا جا سکتا کہ توڑ پھوڑ اور اسسٹنٹ کمشنر کو تشدد کا نشانہ بنتے دیکھ کر سیکیورٹی فورسز بھی تو ردعمل پر اُتر آتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس وقت شدید گرمی پڑ رہی ہے اِس حالت میں روزہ داروں کا غصہ بھی زیادہ ہو سکتا ہے،لیکن اگر جذبات کنٹرول میں رہتے تو زیادہ اچھا تھا۔ایم پی اے حاجی فضل الٰہی نے جس طرح بجلی سپلائی کے فیڈر پر قبضہ کر کے اسے اپنی مرضی سے چلایا اس اقدام کی تو کسی طور پر حمایت نہیں کی جا سکی، نہ وہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کر سکتے ہیں۔ وزارتِ پانی و بجلی کا موقف ہے کہ جن فیڈروں سے بل وصول نہیں ہو رہے وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوتی ہے،اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ بجلی کے بلوں کا اصلی تنازع کیا ہے اور صارفین بل کیوں ادا نہیں کرتے، اس وقت صارفین کا نقطہ نظر ہمارے سامنے نہیں ہے،لیکن عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ بجلی کمپنیاں ہر اُس صارف کی بجلی کاٹ دیتی ہیں جس کے ذمے ایک مہینے سے زیادہ واجبات ہوتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو کمپنی کے اہلکار خوف فسادِ خلق کے باعث ایسے صارفین کی بجلی کاٹنے کا حوصلہ ہی نہیں کرتے ہوں گے اور اگر کوئی اہلکار جاتا ہو گا تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہو گا، لیکن بل دیئے بغیر بجلی کے حصول پر اصرار کرنا تو انصاف نہیں ہے۔ یہ تو اُن صارفین کے ساتھ بھی ناانصافی ہے جو بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔

مُلک بھر میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں سے40فیصد سے زیادہ بلوں کی ریکوری نہیں ہوتی۔البتہ پنجاب میں تو بعض ایسے علاقے بھی ہیں جہاں سے سو فیصد بل باقاعدگی سے وصول ہوتے ہیں اگر دیکھا جائے تو سو فیصد ادائیگی کرنے والوں کو تو کسی نہ کسی انداز میں ترجیح دینی چاہئے،لیکن ان علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ البتہ بل ادا نہ کرنے والے علاقوں میں اگر زیادہ لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی ہے تو صارفین کو بھی بلوں کی ادائیگی پر توجہ دینی چاہئے۔ اگر پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا تو اس سے بجلی کی پیداوار میں تو اضافہ نہیں ہو گا بجلی جتنی بھی ہے اگر اس میں سے بڑی تعداد میں چوری بھی ہو جائے گی اور اس کا کوئی حساب بھی نہیں رکھا جائے گا کہ کتنی بجلی چوری ہوتی ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ کیسے کم ہو گا؟

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے بھی بجلی و پانی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سندھ کو بجلی کی کم سپلائی پر بات کی ہے،لیکن کے الیکٹرک کے معاملات جس طرح چل رہے ہیں اُن پر طویل عرصے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی،کہا جاتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے صارفین سے بل زیادہ وصول کئے جاتے ہیں جس پر جماعتِ اسلامی نے دھرنے بھی شروع کئے ہیں،لیکن جس طرح کے الیکٹرک کو پرائیویٹائز کیا گیا اور اس کے ذمے بہت سے واجبات ختم کر دیئے گئے اور روڈ کٹ وغیرہ کے اخراجات ادا کرنے سے اُسے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا اس کے بعد کے الیکٹرک کی انتظامیہ نے صارفین کا زیادہ استحصال شروع کر دیا ہے۔کراچی اور اندرونِ سندھ میں بھی بجلی چوری کی شکایت ہے اس کا بندوبست بھی ہونا ضروری ہے، جن بااثر افراد کے ذمے لاکھوں روپے کے بل جمع ہو جاتے ہیں وہ بھی کمپنیوں کے اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں، اِن معاملات پر بیٹھ کر ٹھنڈے دِل سے غور کر کے اصلاحِ احوال کرنا ہو گی، پُرتشدد مظاہروں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

مزید : اداریہ