رمضان المبارک اور مہنگائی ، ساتھ ساتھ کیوں؟

رمضان المبارک اور مہنگائی ، ساتھ ساتھ کیوں؟

مہنگائی کی ایک مضبوط لہر نے عام لوگوں کو روز مرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری کے حوالے سے پریشان کر رکھا ہے۔اس مرتبہ مہنگائی کی دو بنیادی وجوہ سامنے آئی ہیں۔ رمضان المبارک کے آغاز پرہر سال اشیاء مہنگی ہوا کرتی ہیں، چنانچہ تاجروں اور دکانداروں کی طرف سے روزے داروں کو سستی اشیاء مہیا کرنے کی بجائے اُن سے منافع وصول کر کے سال بھر کی کمائی کا بندوبست ہو رہا ہے،جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ موسم گرما کے پھل اور سبزیاں حسبِ معمول مہنگی بیچی جا رہی ہیں۔ چینی،لیموں، کھجور، کیلا، خربوزہ، خربوزہ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء معمول کے نرخوں کی بجائے 50روپے سے 100روپے تک مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز میں مرغی کا گوشت220روپے کلو بیچا گیا ہے۔اشیاء ضروریہ کی مہنگائی کے علاوہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ دوسرے درجے کی اشیاء کو درجہ اول قرار دے کر بیچنے کے ساتھ ساتھ وزن بھی کم ہوتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ نہ تو اشیاء کے معیار کی چیکنگ کا کوئی بندوبست ہے، نہ ہی کم وزن تولنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والا عملہ کہیں موجود ہوتا ہے۔چنانچہ صارفین کو مہنگے داموں اور کم وزن اشیاء ملتی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کے لئے سپیشل مجسٹریٹوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے اور کچھ کارروائی ہو رہی ہے،لیکن مہنگائی پر قابو پانے کے لئے بھرپور مہم کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ سرکاری طور پر جو سستے رمضان بازار لگائے گئے ہیں، وہاں بھی اشیاء کے معیار اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے بھرپور مہم چلائی جائے اور غیر معیاری اشیاء پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ صارفین کو بھی اشیاء ضرورت کی خریداری میں حقیقت پسندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کا رونا روتے ہوئے ضرورت سے زیادہ اشیاء نہ خریدی جائیں تو دکاندار خود بخود نرخ کم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جہاں تک مرغی کے گوشت کے نرخوں میں نمایاں کمی لانے کی اشد ضرورت ہے اس کے لئے حکومت کو چاہئے کہ پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر مرغی کا گوشت سستا مہیا کرنے کو یقینی بنائے۔

مزید : اداریہ