کچھ دلچسپ واقعات (2)

کچھ دلچسپ واقعات (2)
 کچھ دلچسپ واقعات (2)

  

1994ئ میں جب صدر سردار فاروق احمد لغاری نے پیپلزپارٹی کی حکومت آئین کی دفعہ 58-2-B کے تحت ختم کی تو ایک نگران حکومت قائم کی گئی۔ ملک معراج خالد نگران وزیراعظم تھے انہوں نے ایک دن حکم دیا کہ سا بق وزیراعظم محترمہ بینظیر کے شوہر جناب آصف علی زرداری کے گھوڑوں سے متعلق مشاغل پر فلم بنائی جائے۔ ڈائریکٹر نیوز حبیب اللہ فاروقی نے یہ ذمہ داری مجھے سونپ دی۔ میں ٹیم لیکر وزیراعظم ہاؤس پہنچا وہاں ہو کا عالم تھا۔ جو چند آدمی پھر رہے تھے وہ بھی کوئی بات بتانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ جناب آصف علی زرداری نے وزیراعظم ہاؤس میں گھوڑے پال رکھے تھے اور ایک پولو گراؤنڈ بھی بنوایا تھا۔ اِسی پولو گراؤنڈ کا مقدمہ بعد میں سی ڈی اے کے دو چیئرمینوں سعید مہدی اور ظفراقبال پر چلتا رہا۔ ہم نے ضروری شوٹنگ کرلی۔ وہاں کسی نے بتایا کہ یہاں ایک گھوڑا ایسا تھا جس کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی۔ یاد رہے یہ 90 کی دہائی کی بات ہے اور ان قیمتی گھوڑوں کے لئے مخصوص اصطبل ایئرکنڈیشنڈ تھے۔ ظاہر ہے اُن کی خوراک بھی خاص ہی ہوتی ہو گی۔ میں نے واپس آ کر فلم ریفرنس سیکشن میں جمع کرا دی کیونکہ ایسی فلموں کے بارے میں فیصلہ شام کو ہوتا تھا اور یہ صرف خبرنامے میں استعمال ہوتی تھیں۔ میں نے فاروقی صاحب کو بتا دیا اور اپنی ڈیوٹی ختم ہونے پر گھر چلا گیا بعد میں ایک کولیگ قمر محی الدین نے اس فلم کی کمنٹری لکھی جس میں بتایا گیا کہ یہ گھوڑے سیب کھاتے تھے ، رات کو فلم چلی، میں کچھ ذاتی مصروفیات کی بناء پر خبرنامہ نہیں دیکھ سکا۔ ظاہر ہے یہ فلم پیپلزپارٹی کے لئے کافی Damaging ثابت ہوئی۔ یہی اِس کا مقصد تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اِس کا بہت برا منایا۔ انہوں نے گراؤنڈ اور گھوڑوں کی موجودگی سے انکار تو نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ گھوڑے زرداری صاحب کے ایک دوست ٹوانہ صاحب کے تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کوئی غیرمتعلقہ آدمی اپنے مال مویشی وزیراعظم ہاؤس میں کیسے رکھ سکتا ہے؟ کچھ عرصے کے بعد ایک غیرملکی صحافی نے کہیں محترمہ سے اِسی فلم کے حوالے سے سوال کر دیا کہ آپ کے دور اقتدار میں تو وزیراعظم ہاؤس کے گھوڑوں کو انسانوں سے بہتر خوراک دی جاتی تھی تو محترمہ بہت Irritate ہوئیں۔ سیب والی بات کا حوالہ اس موضوع پر مختلف تحریروں میں اب بھی کبھی کبھی آ جاتا ہے۔

اِس فلم کے حوالے سے ایک دفعہ میری ملازمت خطرے میں پڑ گئی تھی کیونکہ پیپلزپارٹی کے اگلے دور حکومت میں میرے ایک ریٹائرڈ رفیق کار یہ ایشو لیکر وزیر اطلاعات شیری رحمان کے پاس جا پہنچے تھے۔ انہوں نے وزیر سے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ جس شخص کو آپ نے ڈائریکٹر نیوز بنایا ہے اس نے گھوڑوں والی فلم بنائی تھی۔ وزیر اطلاعات پریشان تو ہوئی ہوں گی لیکن کچھ تحقیق کے بعد معاملہ ختم ہو گیا۔

میری ڈائریکٹر شپ کے زمانے میں ایک دن سپریم کورٹ سے فون آیا کہ آپ کل 10 بجے رجسٹرار کے دفتر حاضر ہوں۔ میرے منہ سے نکل گیا کہ میرے خلاف نہ تو کوئی سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور نہ ہی عدالت نے میرے خلاف کوئی Suo moto لیا ہوا ہے پھر مجھے کس سلسلے میں طلب کیا گیا ہے۔ یہ میری طرف سے کچھ اضطراری ردعمل تھا۔ تاہم میں اگلے دن سپریم کورٹ جا پہنچا۔ میں نے رجسٹرار صاحب سے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے بڑے خاص انداز میں کہا کہ اچھا آپ کہتے ہیں کہ آپ کو کیوں طلب کیا گیا ہم Suo moto بھی لے سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ ضرورلیں ۔ بہرحال میں نے پوچھا کہ میرے لئے کیا حکم ہے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس خبرنامے میں اپنی خبروں کی Placing سے مطمئن نہیں،آئینی تقاضوں کے تحت اُن کی خبر صدر اور وزیراعظم کے بعد تیسرے نمبر پر آنی چاہئے۔ راجہ لہراسپ خان رجسٹرار تھے اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس۔ میں نے کہا کہ خبریں صرف پروٹوکول کے حساب سے نہیں دی جاتیں اِس دوران اُن کے دو تین ساتھی بھی پہنچ گئے، وہ بھی اِس بحث میں کود پڑے کہنے لگے کہ پی ٹی وی میں خبریں پروٹوکول کے حساب سے ہی جاتی ہیں۔ صدر ، وزیراعظم پہلے ہوتے ہیں اس پر میں نے کہا کہ آپ مجھے خبروں کی ٹریٹمنٹ کے بارے میں نہ پڑھا ئیں یہ میں آپ سے بہتر جانتا ہوں۔

میں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ آپ اس معاملے میں اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری یا متعلقہ وزیر سے بات کریں۔ راجہ صاحب نے کہا کہ اُن سے بات ہوئی ہے لیکن چونکہ ہماری اطلاعات کے مطابق خبروں کی Placing کا فیصلہ آپ کرتے ہیں اس لئے آپ کو بلایا ہے۔ میں نے کہا راجہ صاحب آپ کا مطالبہ میں اپنے حکام تک پہنچا دوں گا اور انہوں نے جو فیصلہ کیا اس پر عمل ہو گا۔ یہ کہہ کر میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ تلخی کچھ اتنی بڑھی کہ میں نے اُن کے کہنے کے باوجود چائے بھی نہیں پی۔ میں نے یہ ساری کہانی لکھ کر ایم ڈی اور چیئرمین کو بھیج دی ، اس پر سیکرٹری اطلاعات جناب اشفاق احمد گوندل نے فائل پر دلچسپ ریمارکس دیئے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’As per rules and Practice ‘‘ خبریں تقریباً اُس طرح جاتی رہیں لیکن پھر میرے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا ۔

ایک دن کچھ لوگ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے خلاف ایک کیس لیکر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ اس واقعہ میں ایک گارڈ قتل ہو گیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا زمانہ تھا۔ انہوں نے پولیس کو حکم دیا کہ ملک صاحب کے خلاف پرچہ درج کیا جائے۔ سپریم کورٹ میں ہمارے نمائندے اعجاز حسین نے خبر لکھوائی اور اس کا ٹِکرچلنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد خوشنود علی خان کا فون آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹِکر نکلوا دیں۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ تھوڑی دیر بعد ایم ڈی کا فون آ گیا انہوں نے بھی یہی کہا میں نے ٹِکر نکلوا دیا۔ تاہم خوشنود علی خان مجھ سے ناراض ہو گئے حالانکہ اُن سے بڑی پرانی دوستی تھی۔ رات کو خبرنامے میں میں نے یہ خبر Tonedown کرکے جانے دی کیونکہ ایم ڈی صاحب نے ٹِکر کے علاوہ کوئی واضح ہدایت نہیں دی تھی۔ میری غلطی یہ کہ میں نے اس بات کی اُن سے وضاحت نہیں مانگی۔ سپریم کورٹ کی خبروں میں کوئی گڑبڑ کرنے میں بھی کچھ رسک تھا۔ اگلے دن ایوان صدر سے بڑا دباؤ آیا۔ ڈاکٹر قیوم سومرو نے ایم ڈی صاحب کو کہا کہ ملک ریاض صدر کے ذاتی دوست ہیں اُن کی یہ خبر ہم نے جیوٹی وی پر نہیں چلنے دی (جیو کی آزادی ملا حظہ کیجئے) تو پی ٹی وی پر کیسے چل گئی ۔ ایم ڈی صاحب مجھ سے ناراض ہوئے اور تحریری وضاحت مانگی۔ میرے خط کا کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی مجھے ہٹایا گیا غالباً ایسے اقدامات میں بھی رسک تھا تاہم میری پروموشن تقریباً ایک سال کے بعد ہوئی جس سے مجھے خاصا مالی نقصان اُٹھانا پڑا۔

میرے فیصل آباد میں قیام کے دوران ایک دفعہ جنرل محمد ضیاء الحق دورے پر آئے۔ اِس دوران زرعی یونیورسٹی میں انہوں نے صحافیوں سے خطاب کیا۔

ایک مقامی صحافی رؤف قریشی کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جناب صدر یہاں پریس کلب میں بچوں کے ساتھ بدفعلی ہوتی ہے۔ اس پر عجیب صورتحال پیدا ہو گئی۔ پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان نے جو ساتھ بیٹھے تھے ایک چِٹ صدر صاحب کے سامنے رکھی جس پر غالباً یہ اشارہ تھا کہ یہاں صحافیوں کے درمیان دھڑے بندی ہے اور یہ الزام بھی اِسی کا شاخسانہ ہے۔ صدر نے کہا کہ گروپ بندی اپنی جگہ لیکن اس قسم کی غیراخلاقی حرکتیں برداشت نہیں کی جا سکتیں بہرحال صدر کا موڈ بڑا خراب ہوا۔ انہوں نے پیچھے کھڑے ہوئے ڈی سی کو بلایا۔ اُس وقت ایک پی سی ایس افسر چوہدری وحید صاحب فیصل آباد کے ڈی سی تھے وہ تقریباً کانپنے لگے۔ صدر صاحب نے کہا کہ وحید صاحب ان باتوں کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ ایسی حرکتیں نہ ہوں۔

فیصل آباد میں قیام کے دوران ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔ ایک دن صبح دس بجے کے قریب میں اخبار دیکھ رہا تھا کہ ہیڈکوارٹرز سے ہمارے ڈائریکٹر نیوز برہان الدین حسن کا فون آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹی کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایک پاگل نے ریل گاڑی کے انجن پر سوار ہو کر اس کا ایکسیڈنٹ کر دیا ہے، میں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کیونکہ میں نے ابھی اخبار کھولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے شہر میں اتنا بڑا واقعہ ہو گیا ہے اور آپ کو پتہ ہی نہیں یہ کہہ کر انہوں نے غصے سے فون بند کر دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک ریلوے انجن سٹیشن پر آ کر رکا۔ ڈرائیور شاید چائے پینے کے لئے اُتر گیا تاہم انجن سٹارٹ رہا۔ یہ صورتحال ایک پاگل پلیٹ فارم پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اُس نے جمپ کیا اور انجن پر سوار ہو گیا۔ اُس نے انجن کے آلات کو آگے پیچھے کیا تو انجن چل پڑا۔ آگے جا کر ایک رکاوٹ پر رک گیا۔

اتفاق سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا، ریلوے سٹیشن پر بھگدڑ سی مچ گئی پاگل کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا اور یوں یہ ڈرامہ تھوڑی دیر میں ختم ہو گیا لیکن ہمارے ڈائریکٹر نیوز کا جوش و خروش قائم رہا اور انہوں نے لاہورسے ایک پروڈیوسر اویس بٹ کی قیادت میں ایک ٹیم روانہ کر دی جو ظاہر ہے کچھ نہ کر سکی کیونکہ کوئی چیز موقع پر موجود نہیں تھی۔ کاش وہ پاگل ہمارے ساتھ کچھ Coordination کر لیتا تو بڑی اچھی سٹوری بن سکتی تھی۔ ویسے میں سوچتا ہوں کہ اگر اُن دنوں نجی شعبے کے الیکٹرانک چینل موجود ہوتے تو پتہ نہیں یہ کتنی بڑی بریکنگ نیوز ہوتی اور اُس پاگل کا کیا حشر ہوتا۔ (جاری ہے)

چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اُن کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف اتفاق سے اُس رات لاہور میں تھے وہ اگلے دن صبح فاتحہ کے لئے چوہدری صاحب کے گھر جا پہنچے۔ وہ فاتحہ پڑھ کر وہاں سے نکلے تو چوہدری صاحب پی ٹی وی کے رپورٹر کو الگ لے گئے اور فرمائش کی کہ خبر میں یہ بات ضرور آنی چاہئے کہ صدر پرویز مشرف سب سے پہلے پہنچے۔

خبروں کا کام ایسا ہے کہ احتیاط کے باوجود غلطیاں ہو جاتی ہیں تاہم ایک دفعہ ایسی غلطی خبرنامے میں چلی گئی جس کی پی ٹی وی کی نصف صدی میں شاید مثال نہ ملے۔ ہوا یوں کہ فیکس پر کہیں سے وزیراعظم نوازشریف سے عالمی بنک کے صدر کی ملاقات کی طویل خبر نیوز روم میں لینڈ کر گئی۔ خبر فوراً ڈرافٹ کر لی گئی، کسی نے سورس چیک نہیں کیا، اِسی دوران خبرنامے کے پروڈیوسر مجدد شیخ نے ریفرنس سے چیک کرکے ڈائریکٹر شکور طاہر صاحب کو بتایا کہ ملاقات کی فلم نہیں آئی۔ جو ایک عجیب بات تھی کیونکہ وزیراعظم کی ہر ملاقات کی فلم بنتی تھی اور اب بھی بنتی ہے اور فوراً نیوز روم بھیجی جاتی ہے۔ بہرحال تفصیلی خبر خبرنامے میں چلی گئی یہ وزیراعظم نوازشریف کے دوسرے دور حکومت کا قصہ ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ ایسی کوئی ملاقات سرے سے ہوئی ہی نہیں تھی کیونکہ عالمی بنک کے صدر پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے دراصل عالمی بنک کے صدر نے کئی مہینے پہلے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ خبرنامے کے بعد بھونچال سا آ گیا اگلے دن صبح پی ٹی وی کے چیئرمین پرویز رشید نے ہیڈکوارٹرز میں سینئرز کی میٹنگ بلائی اور بجا طور پر اس Blunder پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں سارے نیوز روم کو فارغ کر دوں، تین چار دن بعد ڈائریکٹر نیوز کا چارج کنٹرولر پریذینٹیشن اور نیوز کاسٹر اظہر لودھی کو دے دیا گیا۔

میں نے تقریباً چھ سات سال پی ٹی وی کیلئے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کی ہے اس میں نوازشریف ، بینظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کا دورحکومت شامل تھا۔پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ایک دن میں نے سینٹ کی کارروائی کی خبر دی۔ میں نے Interpretitiveانٹرو نکالا کہ سب پارٹیاں موجودہ سسٹم کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں جس سے پیپلزپارٹی کی حکومت کی حمایت کا پہلو نکلتا تھا۔ دوسرے دن حزب اختلاف کے لیڈر راجہ محمد ظفرالحق نے اس خبر کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی ہمارے مؤقف کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔

اُن کی مؤثر تقریر سے متاثر ہو کر وزیر اطلاعات خالد کھرل نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ معاملے کی تحقیق کریں گے اور متعلقہ لوگوں کو سزا دی جائے گی۔ اگلے دن دفتر سے مجھے ایک لیٹر ملا جس میں مجھ سے خبر کی وضاحت مانگی گئی۔ انتظامیہ وزارت کے دباؤ کی وجہ سے میری وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئی اور مجھے ایک نرم سا لیٹر جاری کر دیا گیا اور یوں معاملہ ختم ہو گیا لیکناُسی دن جنگ اخبار کے اندر کے صفحات پر ایک تین کالمی خبر لگی ہوئی تھی جس میں اس واقعہ کا حوالہ دے کر کہا گیا تھا کہ متعلقہ پروڈیوسر کو معطل کر دیا گیا ہے اگرچہ خبر میں میرا نام نہیں تھا لیکن ظاہر ہے اشارہ میری طرف تھا۔ میں نے جنگ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر جواد نظیر کو فون کیا اور کہا کہ آپ کی خبر کے مطابق مجھے معطل کیا جا چکا ہے جو حقائق کے برعکس ہے کیونکہ میں تو اس وقت بھی دفتر میں کام کر رہا ہوں۔ وہ کچھ پریشان سے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تحقیق کے بعد آپ کو بتائیں گے۔ اگلے دن انہوں نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ یہ خبر فاروق اقدس نے دی تھی اور انہیں اُن کے بقول یہ بات وزیراطلاعات خالد کھرل نے کیفے ٹیریا میں بتائی تھی۔

1977ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی اور پی این اے کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ اپوزیشن کی ایک پٹیشن پر عدالت نے حکم جاری کر دیا کہ پی ٹی وی پر دونوں فریقوں کو ایک جیسا ٹریٹمنٹ دیا جائے۔ پی ٹی وی میں روایت رہی ہے کہ آواز صرف وزیراعظم کی دی جاتی تھی اب اس روایت میں کچھ نرمی ہوئی ہے۔ اب عدالت کے اس فیصلے سے پی ٹی وی انتظامیہ کے لئے بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ساتھ پی این اے کے لیڈر مفتی محمود کی آواز کیسے دی جائے۔ یہ ان دنوں ایک انہونی سی بات تھی۔ انتظامیہ کے لئے یہ کڑوی گولی تھی تاہم انہوں نے اس کا ایک حل نکالا۔ ایک جلسے میں مفتی محمود کی ساؤنڈ ریکارڈ کر لی گئی اور خبرنامے میں استعمال کے وقت سٹوڈیو میں ساؤنڈ کنٹرول کرنے والے آلے FADER کو مسلسل آگے پیچھے کیا جاتا رہا جس سے مفتی صاحب کی آواز یا تو بالکل نیچے چلی جاتی تھی یا بلاسٹ ہوتی تھی اس طرح اس بات کا اہتمام کر لیا گیا کہ عدالت کے فیصلے پر عملدآمد بھی ہو جائے اور مفتی صاحب کی آواز بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ پی این اے کا نعرہ تھا’’ہل ہمارا جیتے گا‘‘ ہل اُن کا انتخابی نشان تھا ۔اس سلسلے میں ہدایت دی گئی کہ پی این اے کے جلسوں میں لگائے جانے والے نعروں میں سے ہل کا لفظ غائب ہونا چاہئے لہٰذا ایسا ہی ہوا ۔ مسعود نبی نور اُس وقت پی ٹی وی کے ایم ڈی تھے۔

پیپلزپارٹی کی حکومت میں پروفیسر این ڈی خان پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر تھے۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن پارلیمنٹ میں اپنے چیمبر میں پریس ٹاک کیا کرتے تھے۔ پریس کانفرنس میں وہ بہت سارے موضوعات کا احاطہ کرتے تھے یوں یہ واضح نہیں ہوتا تھا کہ اُن کا مقصد کیا ہے۔ صحافتی زبان میں اُن کی پریس ٹاک کا ’’انٹرو‘‘ واضح نہیں ہوتا تھا چونکہ میں پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرتا تھا لہٰذا اُن کی پریس ٹاک بھی رپورٹ کرتا تھا۔ ایک دفعہ کسی مسئلے پر وزیر اطلاعات خالد کھرل کے لئے سفارش کی ضرورت تھی تو میں نے این ڈی خان سے کہہ دیا حالانکہ خالد کھرل ہمارے آبائی حلقے سے ہی منتخب ہوئے تھے اور اُن سے کچھ خاندانی تعلقات بھی تھے۔ بہرحال این ڈی خان نے فون کیا تو خالد کھرل دفتر میں نہیں ملے۔ میں اگلے دن این ڈی خان کے دفتر گیا تو خان صاحب نہیں تھے۔ میں نے اُن کے پی ایس سے پوچھا کہ کیا این ڈی خان اور خالد کھرل کے درمیان بات ہوگئی تھی تو اُس نے کہا کہ بات ہو گئی ہے اور خان صاحب نے آپ کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ اس شخص کو رپورٹنگ کے سلسلے میں کبھی رہنمائی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بلکہ اِن کی خبر ہمیشہ میرے ما فی الضمیر کی صحیح ترجمانی ہوتی ہے۔

ایک دن مجھے ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر اکیڈمی زمان علی خان مرحوم نے بلایا۔ وہاں ہمارے ڈائریکٹر نیوز شکور طاہر صاحب بھی بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اطلاعات مشاہد حسین کی خواہش ہے کہ پی ٹی وی اکیڈمی کو فعال کیا جائے۔ (یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ پی ٹی وی نے بہت پہلے اپنی اکیڈمی قائم کر لی تھی لیکن افسوس کہ اس کے مقاصد پورے نہیں ہوئے اسے Dumping ground بنا دیا گیا اور اب تک صورتحال یہی ہے عموماً ناپسندیدہ افراد کو اکیڈمی بھیج دیا جاتا ہے) انہوں نے کہا کہ مجھے چند پڑھے لکھے آدمیوں کی ضرورت ہے تاکہ اکیڈمی سے صحیح فائدہ اُٹھایا جا سکے اور ہماری نظر میں آپ اِس کام کے لئے موزوں آدمی ہیں۔ میں نے تجویز کیا کہ اس مقصد کے لئے زیڈ اے قریشی موزوں آدمی ہیں لیکن زمان صاحب نے یہ تجویز رَد کر دی۔ میں نے کچھ طنزیہ مزاحیہ انداز میں کہا کہ پھر آپ اظہر مسعود کو لے لیں۔ اس پر زمان صاحب نے کہا کہ آپ ذرا میری آنکھوں میں دیکھیں میں متوجہ ہوا تو کہنے لگے کہ میں اتنا بیوقوف ( شاید اس سے سخت لفظ استعمال کیا تھا جو لکھنا مناسب نہیں) نہیں جتنا آپ کو نظر آ رہا ہوں بہرحال میں نے اکیڈمی کیلئے Volunteer نہیں کیا، میں نے کہا کہ اگر آپ نے تبادلہ کر دیا تو میں چلا جاؤں گا۔ میرا تبادلہ نہیں کیا گیا بعد میں نے سوچا کہ مجھے چلے جانا چاہئے تھا اس تبدیلی سے میں بہت کچھ سیکھ سکتا تھا۔

ایک دن غالباً ECNEC کے اجلاس کی طویل خبر آئی۔ اجلاس کی صدارت اُس وقت کے وزیر خزانہ سرتاج عزیز نے کی تھی۔ میں خبر پڑھنے لگ گیا۔ ایک پیرے میں ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرازڈ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ میں نے کنٹرولر نیوز حبیب اللہ فاروقی کی توجہ اس طرف دلائی کہ یہ بہت اہم بات ہے اس کا فالو اپ کرنا چاہئے۔ انہوں نے مجھ سے اتفاق کر لیا۔ میں نے اس موضوع پر سرتاج عزیز کا انٹرویو کیا جو سارے بُلیٹنز میں استعمال ہوا یہ غالباً نوازشریف کے دوسرے دور حکومت کی بات ہے۔ پنجاب میں اب ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرازیشن مکمل ہو چکی ہے۔ بلوچستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ باقی صوبوں میں شاید ابھی یہ کام شروع ہی نہیں ہوا۔ حیرت کی بات ہے کہ پی ٹی وی سمیت کسی ٹی وی چینل نے اس اہم موضوع پر کوئی پروگرام نہیں کیا۔

آصف علی زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے برسلز کا دورہ کیا۔ میں ایڈوانس ٹیم لیکر کر ایک رات پہلے برسلز پہنچا۔(زرداری صاحب اپنے طیارے میں میڈیا ٹیم کو نہیں لے جاتے تھے) رات کا وقت تھا ایئرپورٹ پر پتہ چلا کہ میرا سامان نہیں آیا۔ کئی اور ٹیمیں بھی ہمارے ساتھ اتریں۔ اُن میں سے بھی کچھ کا سامان نہیں پہنچا تھا۔ سفارتخانے کا عملہ لینے آیا میں مطمئن رہا کہ وہ صورتحال کو سنھبال لیں گے اور سامان کل پہنچ جائے گا لیکن سامان اگلے دن بھی نہیں پہنچا۔ اگلے دن صدر صاحب پہنچ گئے ہم بھی مصروف ہو گئے اور سفارتخانے کا عملہ بھی۔ یوں میں نے تین دن کا دورہ ایک ہی سوٹ میں گزار دیا۔ سامان سرے سے ملا ہی نہیں۔ اسی دوران مجھے کسی نے بتایا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پی ٹی وی سے بڑے ناراض ہیں کیونکہ اُن کی فلمیں نہیں چل رہیں۔

فلمیں نہ چلنے کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا بہرحال اُن کی توقعات پوری نہیں ہو رہی تھیں۔ ایک دن اتفاق سے میں ہوٹل سے باہر نکلنے لگا تو میں نے دیکھا کہ قریشی صاحب گاڑی میں سوار ہو رہے تھے میں آگے بڑھا تاکہ صورتحال کی وضاحت کر دوں۔ میں نے قریشی صاحب سے اپنا تعارف کرایا اور پوچھ لیا کہ سنا ہے آپ پی ٹی وی سے ناراض ہیں۔ وہ کچھ زیادہ ہی نالاں تھے کہنے لگے کہ یہ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ کام جیو ٹیلی ویژن کے حوالے کر دیا جائے اس صورتحال میں انہیں مطمئن کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا میں نے کہا کہ سر آپ نے صحیح سوچا ہے اس پر عمل کریں۔

پیپلزپارٹی کی حکومت میں ایک دفعہ وزارتِ اطلاعات سے ایک آدمی ایم ڈی کے پاس بھیجا گیا کہ اسے نیوز میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی ملازمت دی جائے اور تقرری کے لیٹر کی کاپی وزارت کو فراہم کی جائے۔ شیری رحمان اطلاعات کی وزیر تھیں یہ آدمی ایوان صدر سے ریفر کیا گیا تھا۔ ایم ڈی ارشد خان اس بات پر تیار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اُس کے کاغذات مجھے بھجوا دیئے کہ میں انٹرویو کرکے اپنی رائے دوں۔ میں نے اُن صاحب کا انٹرویو کیا تو پتہ چلا کہ اُس نے صرف میٹرک کیا ہوا ہے اور جی نائن میں ایک پرائیویٹ جرنلزم انسٹیٹیوٹ کا ایک سرٹیفکیٹ ساتھ لگایا ہوا تھا۔ موصوف دراصل کہیں سیکورٹی میں کوئی چھوٹا موٹا جاب کرتے تھے۔ اور اب جرنلسٹ کا روپ دھارنے والے تھے۔ میں نے ایم ڈی صاحب کو بتا دیا کہ اِسے سکیورٹی میں کوئی جاب دے دیا جائے۔ جرنلزم سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔

بینظیر کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت میں سیدہ عابدہ حسین وزیر اطلاعات مقرر ہوئیں۔ ایک دن اُن کے دفتر سے کہا گیا کہ ایک رپورٹر بھیجیں۔ سینئرز نے میری ڈیوٹی لگا دی۔ ایک رپورٹر اے پی پی سے پہنچ گیا اور ایک ریڈیو سے وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں کنونشن سنٹر کی تعمیر کے بارے میں کچھ حقائق سے آگاہ کیا جن سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اس کی تعمیر میں کرپشن ہوئی ہے کنونشن سنٹر وزیر اطلاعات خالد کھرل کی نگرانی میں تعمیر ہوا تھا۔ عابدہ حسین نے ہدایت کی کہ خبر اُن کے نام سے نہ دی جائے بلکہ سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا جائے۔ خبر ٹیلی وژن پر ٹیلی کاسٹ ہو گئی۔ چند دن بعدلاہور سے ایک ماہر تعمیرات (اُن کا نام بھول رہا ہوں) نے ہماری کنٹرولر نیوز خالدہ مظہر کو فون کیا اور بتایا کہ کنونشن سنٹر کیلئے ڈیزائن کا جو مقابلہ ہوا تھا وہ اُس میں شامل تھے اور دراصل انہی کا ڈیزائن منظور ہوا تھا اور وہ اس سلسلے میں ایمبیسیڈر ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں لہٰٰذا آپ اپنا نمائندہ بھیجیں۔ میں اُن دنوں لاہور گیا ہوا تھا ۔خالدہ مظہر نے مجھے ہدایت کی کہ میں ہی اس پریس کانفرنس کی رپورٹنگ کروں۔ میں ہوٹل پہنچا۔ اُس ماہر تعمیرات نے بتایا کہ کنونشن سنٹر کے ڈیزائن کیلئے جو مقابلہ ہوا تھا وہ اُس میں شامل ہوئے تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی کا ڈیزائن منظور کیا تھا البتہ انہوں نے اِس میں چند تبدیلیاں تجویز کی تھیں۔ ماہر تعمیرات نے کہا کہ لاہور واپس پہنچ کر انہوں نے ڈیزائن میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور دوبارہ سامان لیکر اسلام آباد پہنچے اُس کے بیان کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو ڈیزائن دیکھنے مقررہ جگہ پہنچیں لیکن کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کرکے فوراً وہاں سے روانہ ہو گئیں اور بعد میں نیئر علی دادا کا ڈیزائن منظور کر لیا گیا حالانکہ وہ ڈیزائن منتخب کرنے والی کمیٹی کے رکن تھے۔ پریس کانفرنس میں وی سی آر پر اُس دن کا پی ٹی وی کا خبرنامہ دکھایا گیا جس دن محترمہ بینظیر بھٹو نے اِس ماہر تعمیرات کا ڈیزائن ابتدائی طور پر منظور کیا تھا۔ پی ٹی وی کی یہ خبر حکومت کے پریس ریلیز پر مبنی تھی جس میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم نے مجوزہ کنونشن سنٹر کیلئے فلاں ماہر تعمیرات کا ڈیزائن منظور کرلیا ہے۔

2002ء میں صدر جنرل پرویز مشرف نے چین اور جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔ پی ٹی وی نیوز ٹیم کے سربراہ کے طور پر ہمارے کنٹرولر نیوز ایم زیڈ سہیل اُن کے ساتھ تھے۔ چین کا دورہ مکمل کرکے صدر نے جنوبی کوریا جانا تھا لیکن یہاں ایک غیرمعمولی واقعہ ہو گیا۔ ہوا یوں کہ بیجنگ میں ایم زیڈ سہیل صدر کا انٹرویو کرکے ہوٹل پہنچے اور سامان باندھنے کے بعد واش روم چلے گئے۔ اِس دوران صدر کا قافلہ روانہ ہو گیا یوں میڈیا ٹیم صدر کے قافلے کے ساتھ نہ چل سکی اور ٹریفک میں پھنس گئی لہٰذا ٹیم کوئی 45 منٹ کی تاخیر سے ایئرپورٹ پہنچی اس لئے صدر کے قافلے اور انہیں خداحافظ کہنے والے چینی وی آئی پی کو اتنی دیر ایئرپورٹ پر انتظار کرنا پڑا۔ تاخیر سے روانگی کے باعث سیول ایئرپورٹ پر صدر کا استقبال کرنے والے کورین وی آئی پی کو بھی اتنی دیر انتظار کی زحمت اُٹھانا پڑی۔ اس پر صدر کے سٹاف نے بجا طور پر بڑے غم و غصے کا اظہار کیا اور یوں سہیل صاحب کو ہیڈکوارٹر ٹرانسفر کر دیا گیا وہیں وہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے وہ نیوز میں واپس نہیں آ سکے حالانکہ ان کا تمام کیئریٹر نیوز سے ہی وابستہ تھا۔

پی ٹی وی کا ابتدائی دور تھا ٹیکنیکل سہولتیں زیادہ نہیں تھیں۔ مائیکرو ویو لنک نہیں تھا لہٰذا ہر سنٹر اپنا اپنا خبرنامہ کرتا تھا۔ پیپلزپارٹی کا دورحکومت تھا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو عید کی نماز لاڑکانہ میں پڑھا کرتے تھے۔ پی ٹی وی انتظامیہ کے لئے یہ ایک مسئلہ تھا کہ کس طرح وزیراعظم کی عید کی نماز کی فلم اُسی دن خبرنامے میں چلائی جائے۔ لاڑکانہ اور کراچی کا درمیانی فاصلہ کافی تھا لہٰذا اس مسئلے کے حل کیلئے ایک طیارہ چارٹر کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ اِس سلسلے میں مجھے بھی طیارے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم موہنجوداڑو ایئرپورٹ پر اُترے اُدھر لاڑکانہ سے ہماری ٹیم نجم الحسن کی قیادت میں فلم لیکر موہنجوداڑو ایئرپورٹ پہنچی اور اس طرح یہ فلم شام کو کراچی پہنچی اور اُسی رات خبرنامے میں ٹیلی کاسٹ ہوئی۔

(جاری ہے)

مزید : کالم