کس منہ سے شکر کیجئے اس لطفِ خاص کا؟

کس منہ سے شکر کیجئے اس لطفِ خاص کا؟
 کس منہ سے شکر کیجئے اس لطفِ خاص کا؟

  

پاکستان کا ہر شہری میڈیا کا دلدادہ ہے۔ ابھی تک مردم شماری کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا لیکن عام اندازے یہی ہیں کہ ہماری آبادی 20اور 22کروڑ نفوس کے درمیان ہوگی۔ فرض کریں 21کروڑ ہے۔ ان میں سے بمشکل آٹھ کروڑ نابالغ ہوں گے، باقی 13کروڑ بالغان میں دو تہائی اکثریت نوجوان بچوں اور بچیوں پر مشتمل ہے۔ان سب نوجوانوں، جوانوں اور بزرگوں کے پاس موبائل فون بھی ہے اور گھر میں کم از کم ایک ٹیلی ویژن سیٹ بھی ہے۔ اور ہمارا سب سے زیادہ تفریحی مشغلہ ٹیلی ویژن پر سیاسی دنگل دیکھ دیکھ کر جی بہلانا یا جی جلانا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ٹیلی ویژن کو وسیلہ ء تفریح نہیں بلکہ وسیلہ ء سیاسی تفریح کے طور پر جانتے اور مانتے ہیں۔ آج اگر یہ ریفرنڈم کرایا جائے کہ پاکستانی عوام کا سب سے زیادہ وسیلہ ء تفریح کیا ہے تو لاریب اس میں وسیلہ ء سیاسی تفریح والا فریق جیت جائے گا۔

سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے تفریحی شو بھی وہی کامیاب ہوتے ہیں جن کا موضوع مبنی بر سیاسیات ہو۔ میں سوچتا ہوں ہم پاکستانی کہاں سے چلے تھے اور کہاں آ گئے ہیں۔ ایک نسل پیچھے مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ٹیلی ویژن، وی سی آر، ریڈیو اور سنیما وغیرہ واقعی ذرائع تفریح ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج جن چینلوں پر صرف ڈرامے نشر ہوتے ہیں یا صرف ملکی اور غیر ملکی فلمیں دکھائی جاتی ہیں ان کی مقبولیت (Rating) کس مپرسی کا شکار ہے۔

اس ای میڈیا کے بعد جب پرنٹ میڈیا پر نظر جاتی ہے تو وہاں بھی خبروں کا محبوب موضوع سیاست ہے۔ ویسے تو یہ بات درست ہے کہ اخبار زیادہ تر سیاسی خبرنامے ہی کا نام ہے۔ لیکن مقامی، ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی خبروں کے مابین پہلے ایک صحت مند توازن ہوا کرتا تھا جو آج ناپید ہے۔ اشتہاروں کی بھرمار ہے لیکن معلوماتی مواد کا قحط ہے۔

ہر اتوار جب اخباروں کی فائلیں دیکھتا ہوں تو انگریزی اخبارات میں ’’ریشمی کاغذوں‘‘ پر ’’ریشمی ماڈلوں‘‘ کی اس قدر کرامات ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی آدھی جوان بچیاں پڑھ لکھ کر بھی صرف ماڈلنگ کا پروفیشن ہی تلاش کر پائی ہیں۔ موبائل، ملبوسات، میک اپ کا سامان، آرائش و زیبائش والی اشیاء کی چکاچوند نگاہوں کو خیرہ کرتی ہے۔ سوچتا ہوں کیا پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے؟ آبادی کی اکثریت غربت و افلاس کی لکیروں سے کتنی آگے اور کتنی پیچھے ہے، اس کا اندازہ شہری زندگی میں بیٹھ کر نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے کسی گزشتہ کالم میں تذکرہ کیا تھا کہ پاکستان کے تین درجن نیوز چینلوں میں 24گھنٹوں کی جو نشریات آن ائر کی جاتی ہیں ان میں زیادہ خبریں کراچی شہر کی ہوتی ہیں۔ اگر نسبت تناسب کی بات کروں تو 70فی صد خبریں کراچی، 20فی صد لاہور، پانچ فی صد اسلام آباد، ایک فیصد بلوچستان، ایک فیصد خیبرپختونخوا اور باقی تین فی صد مختلف پاکستانی اضلاع کی شہری آبادیوں سے متعلق ہوتی ہیں جبکہ آبادی کا 65فی صد حصہ اب بھی گاؤں اور قصبوں میں رہتا ہے۔یہ سب کچھ بڑے تواتر سے ہو رہا ہے۔ اخباروں کا حال بھی یہی ہے۔ لیکن جن ممالک نے ترقی کی ہے ان کی گزشتہ 100برس کی دیہی اور شہری زندگی کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ آپ پر فرق واضح ہو جائے گا۔

صبح جب اٹھ کر سوچتا ہوں کہ آج کس موضوع پر قلم اٹھاؤں تو ایک عجیب مخمصے کا سامنا ہوتا ہے۔ کیاپاناما لیکس یا ڈان لیکس یا تازہ ترین ’’JITلیکس‘‘ کا ذکر کروں؟۔۔۔ کیا لوگ اس جگالی کو پسند کریں گے؟۔۔۔ کیا پاکستان میں آج بھی ایسے لوگ ہیں جو بار بار کی دہرائی ہوئی باتوں کو دہرانا پسند نہیں کرتے؟۔۔۔کیا عمران خان کا سحر ٹوٹ رہا ہے؟۔۔۔ کیا نون لیگ واقعی اکھاڑے سے باہر ہونے جا رہی ہے؟۔۔۔ کیا پاکستان میں واقعی کوئی متبادل قیادت موجود نہیں؟۔۔۔ کیا لوگ آج بھی تھک ہار کر فوج کی طرف دیکھنا پسند کریں گے؟

یقین کیجئے مجھے ان سوالوں سے کراہت ہونے لگتی ہے۔ دل چاہتا ہے ادارتی صفحے پر کوئی ایسے آرٹیکل نظر آئیں جو تعمیرِ قوم کی طرف قارئین کو لے کر جائیں۔ یہ جو ہم ایک بار کسی ایک فرد کو وزیراعظم منتخب کر لیتے ہیں تو پورے پونے پانچ سال تک اس کے پیچھے کیوں پڑ جاتے ہیں؟۔۔۔ قوم بار بار ایک ہی غلطی کیوں دہراتی ہے؟۔۔۔ کچھ ماہ بعد فوج کی طرف دیکھنے کی راہ پر کیوں نکلتی ہے؟۔۔۔ کیا قوم کسی وزیراعظم کو پانچ سال تک سکون سے کام کرنے کا موقع دیتی ہے؟مانا کہ وہ کرپٹ ہو گا،،تسلیم کو اس میں ساتوں شرعی عیب ہوں گے ۔ لیکن اگر آپ نے اس کو ان عیوب کے ساتھ اپنا لیڈر مان ہی لیا ہے تو ایک باوقار حزبِ اختلاف کا رول کیوں ادا نہیں کرتے؟۔۔۔ اگر وہ وزیر اعظم اتنا ہی کرپٹ یا بدکردار ، بدخو اور بد عہد ہے تو اس کو اگلی بار مسترد کیوں نہیں کردیتے؟۔۔۔سوچتا ہوں قوم کی یہ دو عملی، دوغلا پن اور منافقت کیوں ہے؟۔۔۔اس کے پیچھے کون سے ایسے ملکی یا غیر ملکی عناصر ہیں جن کے ہاتھوں ہم اسیر ہیں؟ ذرا خیال کیجئے یہ ڈرل ہم نے ماضی میں کتنی بار دہرائی ہے لیکن بار بار یہی ڈرل کیوں دہراتے ہیں؟

بعض حلقے کہتے ہیں پاکستان میں ’’خاندانی جمہوریت‘‘ ہے۔ ان بھلے مانسوں کو کون بتلائے کہ ایسی نام نہاد جمہوریت کو اگلی بار مسترد کیوں نہیں کرتے؟ آپ کیوں بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں؟ اور اگر ایک بار ڈس ہی لئے جاتے ہو تو 5برس کرلو۔اگلی بار ’’خاندانی جمہوریت‘‘ کی جگہ’’ اصلی جمہوریت‘‘ لے آنا۔

میں کہہ رہا تھا کہ کالم کے موضوع پر سوچتا ہوں تو ایک ’’عذاب‘‘ میں گرفتار ہو جاتا ہوں۔ دل چاہتا ہے کوئی ایسا موضوع ہو جس میں قوم اور ملک کی ترقی کا ذکر ہو، قوم کو لاحق سماجی عوارض کا خاتمہ ہو، مالی احتیاجات دم توڑ جائیں، اقتصادی خوشحالی آئے، ملکی برآمدات میں اضافہ ہو، دفاعی صلاحیتوں کو جلا نصیب ہو اور ہم اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرسکیں۔ لیکن ان آرزوں کو عملی جامہ پہنانے کا نسخہ کیا ہو؟ کیا یہ نسخہ جات ماضی قریب وبعید کی تواریخ میں درج نہیں؟۔۔۔ کیا ہم ان سے بیگانہ محض ہیں؟۔۔۔ کسی بے نوا کالم نویس کے کسی مثبت مشورے پر کان دھرنے والے حکمران آج کہاں ہیں؟۔۔۔ کیا ماڈرن میڈیا ٹی وی دور، ماضی کے دورِ بے خبری کے سامنے بے بس ہو چکا ہے؟ اگر ایسا ہو تو آج کی جدید اور طاقتور اقوام کی ترقی اور خوشحالی کا راز کیا ہے؟۔۔۔ یقین کیجئے میں اس سادہ لوحی اور بے وقوفی کے گرداب میں گھومتا رہتا ہوں اور ساحل پر شادوآباد کھڑے ہجوم کو رشک کی نگاہوں سے دیکھ دیکھ کر زندگی کے غروب ہوتے سورج کو دیکھ کر صرف کفِ افسوس ہی مل سکتا ہوں!

قوموں کا ماضی و حال اور ان کے عروج و زوال کی داستانیں آپ نے بھی پڑھ رکھی ہیں اور مجھے بھی ازبر ہیں۔ کیا ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ایک افیون خور وہ قوم ایک عظیم قوم میں نہیں ڈھل گئی؟ اس قوم میں بھی کرپٹ لوگوں کی کمی نہیں۔ لاکھوں کروڑوں جھوٹے اور بد عہد لوگ آج بھی اس قوم میں موجود ہیں لیکن دیانت دار اور پاسِ وفا نبھانے والوں کی اکثریت نے اس قوم کو عظمت کی بلندیوں پر جابٹھایا ہے۔ یہ ایکسر سائز اور یہ ڈرل بھی ایک طرح کی جمہوریت ہے۔ یعنی معاشرے میں اچھے اور برے لوگ بھی ہیں اور اچھے اور برے حکمران بھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بری حکمرانی کی اقلیت پر اچھی حکمرانی کی اکثریت غالب آنے کا نام ہی جمہوریت ہے اور یہی اس قوم کی ترقی کا اصل راز ہے!۔۔۔ کیا ہم اِن چینیوں سے سبق نہیں سیکھ سکتے؟ آخر کب تک میری حکمرانی کی رٹ لگالگا کر خود کو اور قوم کو باؤلا کرتے رہیں گے؟اگر کوئی حکمران برا ہے اور آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اترتا تو اس کے موعودہ دور کا خاتمہ ہونے دیجئے اور دریں اثناء اچھی حکمرانی کی عادتوں کو راسخ کرنے کی پریکٹس کیجئے۔

ہم مسلمان ہیں، پاکستان میں پیدا ہوگئے ہیں، مسلمان گھرانے کے افراد ہیں ، خدائے واحد کے پیروگار ہیں، ایسے پیغمبر اسلامؐ کے نام لیوا ہیں جن پر اچھی حکمرانی کی تمام برکات تمام کردی گئیں۔ لیکن یہ سب کچھ ہم نے ارادتاً نہیں اپنایا ۔ یہ سب ہماری مجبوریاں تھیں یا ہیں۔ جب میں یہ سوچتا ہوں اور دنیا کے دوسرے ادیان اور ضابطہ ہائے حیات کا مطالعہ کرتا ہوں تو قنوطّیت کے بہت سے کالے بادل چھٹنے لگتے ہیں۔ یہ خدائے لم یزل کی ایسی عنایات ہیں جن کے حصول کے لئے ہمیں کوئی محنت نہیں کرنی پڑی ۔ یہ سب ہمیں بیٹھے بٹھائے مل گئی ہیں۔ سوچتا ہوں کیا اس خالق کائنات کا یہ کرم ایک ایسی نعمت نہیں جس کے متعلق سعدی نے کہا تھا:

شکر خدائے را کہ تواندشعار کرد؟

یا کیست آں کہ شکر یکے از ہزار کرد؟

[ایسا کون ہے جو خدا کا شکر ادا کر سکے اور وہ کون ہے جو اس کی ہزاروں نعمتوں میں سے کسی ایک کا شکر گزار بن سکے؟]

مزید : کالم