رواں برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر

رواں برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ نے کہاہے کہ 2017 کے ابتدائی چار مہینوں میں ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارے اوسی ایچ اے نے جاری کی ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں رواں برس کی پہلی چوتھائی میں ایک لاکھ تین ہزار سے زائد افراد کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔ ان افراد کے بے گھر ہونے کی وجہ افغان فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں شدت اور اضافہ ہے۔ اس ادارے کے مطابق بے گھری کی ایک وجہ شورش زدہ علاقوں میں مسلسل لڑائی اور جھڑپوں میں تسلسل ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل جنگی حالات کی وجہ سے غربت میں بھی افزائش ہوئی ہے۔ غربت سے تنگ لوگ بھی روزگار کی تلاش میں شورش زدہ علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ادارے کے مطابق کئی شہروں میں سکیورٹی کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے اور یہ علاقے جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانے بنتے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت کابل کو وقفے وقفے سے عسکریت پسند اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حملہ کرنے والوں کا تعلق طالبان اور جڑیں پکڑتی ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے ہے۔ رواں برس بے گھر ہونے والوں میں بیالیس فیصد کا تعلق افغانستان کے ان شمالی علاقوں سے ہے، جو ماضی میں انتہائی پر امن خیال کیے جاتے تھے۔

مزید : عالمی منظر