چیف جسٹس نے پنجاب بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت جعلی عدالتی فیصلوں سے متعلق ڈگریوں پر عمل درآمد روک دیا

چیف جسٹس نے پنجاب بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت جعلی عدالتی فیصلوں سے متعلق ...
چیف جسٹس نے پنجاب بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت جعلی عدالتی فیصلوں سے متعلق ڈگریوں پر عمل درآمد روک دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت جعلی عدالتی فیصلوں سے متعلق ڈگریوں پر عمل درآمد روک دیا۔

عمران خان کا پورا حساب کتاب واضح اور کسی قسم کے شک و شبے سے پاک ہے:فواد چوہدری

چیف جسٹس نے یہ عبوری حکم سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں جاری کیا ۔کمشن نے اراضی اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ گزشتہ روزچیف جسٹس منصور علی شاہ کو پیش کی ۔ رپورٹ میں ایک لاکھ ترانوانے ہزار کینال اراضی سے متعلق جعلی عدالتی فیصلوں کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کو درست قراردیا گیاہے ۔رپورٹ میں کہاگیا کہ جعلساز چودھری ارشد کے نام کی تمام ڈگریاں جعلی ہیں۔ان عدالتی فیصلوں میں وکیل،جج بھی جعلی ہیں ،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جعلساز قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتے ۔چیف جسٹس نے عبوری حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے جعلی عدالتی فیصلوں سے متعلق پنجاب بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت تمام کیسز کو یکجا کرنے کاحکم دے دیا،چیف جسٹس نے تین ماہ میں سول جج کو تمام کیسز نمٹانے کاحکم دیتے ہوئے کہاکہ عدالتی فیصلوں کے بعد فوجداری کارروائی بھی کی جائے ۔انکوائری کمیشن نے جعلی عدالتی فیصلوں کی روک تھام کے لئے چیف جسٹس کو تجاویز پیش کیں جسے چیف جسٹس نے منظور کرتے ہوئے رجسٹرار ہائیکورٹ کو بھجوادیں ۔

مزید : لاہور