سول جج سے وکلا ءکی بدتمیزی لاہور کے تمام سول اور ایڈیشنل سیشن ججوں نے کام چھوڑ دیا

سول جج سے وکلا ءکی بدتمیزی لاہور کے تمام سول اور ایڈیشنل سیشن ججوں نے کام ...
سول جج سے وکلا ءکی بدتمیزی لاہور کے تمام سول اور ایڈیشنل سیشن ججوں نے کام چھوڑ دیا

  

لاہور(نامہ نگار)سول جج وسیم احمد سے وکلا ءکی مبینہ بدتمیزی اور عدالتی فائلیں چھننے کے تنازع پر بار اور بنچ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ،وکلاءکے روئے پرلاہور کے تمام سول اور ایڈیشنل سیشن ججوں نے کام چھوڑ دیا.

جنوبی پنجاب کی 5شوگر ملوں کے خلاف کارروائی کی درخواست پر سیکرٹری انڈسٹریز کو 2ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

سول جج نے مذکورہ وکلاءکی جانب سے زدوکوب کرنے ا ور جان سے ماردینے کی دھمکیاں دینے پرسیشن جج لاہورکو 2وکلا ءکے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دے دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزعلی الصبح سول جج وسیم احمد کی عدالت میں وکلاءاور سول جج کے درمیان ایک کیس میں فیصلہ ان کے حق میں نہ دینے پر تنازع ہوگیا، واقعہ کی اطلاع پر تمام سول اور ایڈیشنل سیشن ججوں نے عدالتی کام چھوڑ دیا اور سیشن جج کے چیمبر میں جمع ہوگئے۔سیشن جج نے واقع پر فوری سیشن کورٹ کی مارکنگ برانچ کو بند کرادیا۔ججوں کے کام بند کرنے کی وجہ سے عدالتوں میں آئے ہوئے سائلین کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سول جج وسیم احمد نے دو وکلا ءفیصل اور عاطف عقیل کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج لاہور عابد حسین قریشی کو درخواست دے دی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ دونوں وکلا ءاپنے ساتھیوںکے ہمراہ آئے اور ان کی عدالت سے 6 فائلیں اٹھا کرلے گئے، ان کو زدوکوب کیاا ور جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیں۔لاہور بار کے صدر چودھری تنویراحمد کا کہنا ہے کہ واقع پرانا ہے جس کو نیا رنگ دیا گیا ہے۔وکلا ءکی کمیٹی بنائی جا رہی ہے جو جلد ہی معاملے کا حل نکال لے گی۔ سیشن جج سے مارکنگ برانچ کھولنے کو کہا گیا ہے تاکہ سائلین کو پریشانی نہ ہو سکے، ججوں کی جانب سے سیکیورٹی فراہم نہ ہونے تک کام بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید : لاہور