سائنسدانوں کا 5 ہزار سال پرانے شہر موہنجوداڑو کو دوبارہ دفن کرنے کا فیصلہ

سائنسدانوں کا 5 ہزار سال پرانے شہر موہنجوداڑو کو دوبارہ دفن کرنے کا فیصلہ
 سائنسدانوں کا 5 ہزار سال پرانے شہر موہنجوداڑو کو دوبارہ دفن کرنے کا فیصلہ

  

لاڑکانہ (نیوز ڈیسک) قدیم دور کا کوئی شہر دریافت ہو جائے تو ماہرین آثار قدیمہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے صبح سندھ میں دریافت شدہ 5 ہزار سالہ قدیم شہر موہنجو داڑو کو پھر سے زمین میں دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔دی انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق موہنجوداڑو کا قدیم شہر 1920 ء کی دہائی میں آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک افسر نے دریافت کیا تھا۔ اگلے50سال کے دوران کی جانیوالی تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ شہر پانچ ہزار سال پرانی کانسی کی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی یہاں بھی آج کے جدید شہروں کی طرح سڑکیں ، بازار اور سیوریج کا نظام موجود تھا۔ یہ شہر ہڑپہ کی تہذیب کا حصہ ہے جو اڑھائی ہزار سال قبل اپنے عروج پر تھی۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موہنجوداڑو کو ایک بار پھر ایسے خطرات لاحق ہیں کہ اس کے بچے کھچے آثار کو بچانے کیلئے اسے دوبارہ زمین میں دفن کرنا پڑے گا۔ موہنجو داڑوکے کھنڈرات پر کام کرنے والے جرمن سائنسدان ڈاکٹر مائیکل جینسن نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں گرمیوں کے موسم میں درجہ حرات 46 ڈگری سیلسیئس سے بھی بڑھ جاتا ہے ، جو قدیم آثار کیلئے خطرناک ہے۔ اسی طرح زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے علاقے میں سیم و تھور کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ شام کے تاریخی شہر پالمیرا کی داعش کے ہاتھوں تباہی کے بعد بھی سائنسدانوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ دہشتگرد موہنجو داڑو کے تاریخی مقام کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے افغان شہر بامیان میں بدھ مت کے تاریخی مجسمے بھی طالبان کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں۔ماہرین نے ان تمام خطرات سے بھی بڑا خطرہ ان ہزاروں سیاحوں کو قرار دیا ہے جو موہنجو داڑوکے تاریخی مقام کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فروری 2014 ء میں منعقد ہونے والے سندھ فیسٹیول کے دوران بھی سینکڑوں مزدور اور الیکٹریشن حساس ترین تاریخی آثار کے اپور چڑھ کر سٹیج ، تمبو اور لائٹیں لگاتے رہے۔ ان لوگوں نے نہایت حساس اور قیمتی نوعیت کے تاریخی اثاثوں میں میخیں او ر کھونٹے گاڑ کر انہیں نقصان پہنچایا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب اس مقام پر مزید کھدائی کرنے کی بجائے اسے زمین میں دفن رہنے دینا ہی بہتر ہو گا۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان داکٹر ریچرڈ میڈو کا کہنا تھا ’’ یہ دفن رہ کر ہی محفوظ رہ سکے گا۔‘‘

مزید : میٹروپولیٹن 4