ایسا پل جس کی تیاری پر اربوں روپے لاگت آئی لیکن استعمال نہیں ہوتا؟

ایسا پل جس کی تیاری پر اربوں روپے لاگت آئی لیکن استعمال نہیں ہوتا؟
 ایسا پل جس کی تیاری پر اربوں روپے لاگت آئی لیکن استعمال نہیں ہوتا؟

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) اربوں کی لاگت سے بننے والے بڑے بڑے پلوں پر سے روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں مگر چین کو شمالی کوریا سے ملانے کے لئے بنایا گیا یہ پل ہر وقت ویران پڑا رہتا ہے، کیونکہ یہ دریا کے اس پار کسی بڑی شاہراہ سے ملنے کی بجائے کھیتوں میں جااترتا ہے۔یہ عظیم الشان عجوبہ 2.2 ارب یووان (تقریباً 33 ارب پاکستانی روپے) کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے اور چین سے شروع ہو کر دریائے یالو سے گزرتا ہوا شمالی کوریا میں داخل ہوتا ہے۔اسے چین کو شمالی کوریا کے ساتھ ملا کر اس علاقے میں قائم کئے گئے فری ٹریڈ زون کو ترقی دینا تھا، تاکہ دنیا بھر سے لڑائی پر تلے ہوئے شمالی کوریا کو جنگ کے راستے سے ہٹا کر کاروبار اور امن کے راستے پر لایا جاسکے۔ بدقسمتی سے چین کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور شمالی کوریا اوپر تلے ایٹمی دھماکے کرتا چلا گیا جس کے باعث اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے اس پر پابندیاں عائد کردیں۔ چین کی جانب سے بھی ان پابندیوں کی حمایت کی گئی جس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ دریائے یالو پر دونوں ممالک کو ملانے والا پل چین کی جانب سے تو مکمل ہوگیا لیکن شمالی کوریا کی جانب سے راستے میں ہی رک گیا۔اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے سرحدی شہر ڈان ڈونگ سے شروع ہونے والا یہ پل دریا کے اوپر سے گزرتا ہے اور دوسری جانب ہرے بھرے کھیتوں میں جا اترتا ہے، جبکہ دور دور تک کسی سڑک یا رہائشی علاقے کا نام و نشان بھی نظر نہیں آتا۔ اس پل کو دیکھنے والے حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ آخر یہ کہاں جارہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4