عمران خان منی ٹریل ثابت کریں ورنہ نتائج بھگتنا ہونگے : چیف جسٹس ، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن میں بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرنے میں پھر ناکام

عمران خان منی ٹریل ثابت کریں ورنہ نتائج بھگتنا ہونگے : چیف جسٹس ، پی ٹی آئی ...

اسلام آباد (آن لائن، ما نیٹر نگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے غیر ملکی اور ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے سماعت کا دائرہ اختیار کس کا ہے ، جبکہ عدالت عظمیٰ نے حنیف عباسی کی جانب سے دائر متفرق درخواستوں پر عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ، دوران سماعت چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ آپ کومنی ٹریل ثابت کرنا ہو گی، اگرمنی ٹریل ثابت نہیں ہوتی نتائج کیاہوں گے اس کا اندازہ آپکو ہوگا، عمران خان کوبراہ راست رقم منتقل نہیں ہوئی رقم تیسرے فریق کے ذریعے منتقل ہوئی۔ منگل کو عمران خان کی آف شور کمپنی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ کی، مقدمہ کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ سے جو سوالات کیے تھے انکے جوابات دے دیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ آج کوشش کرونگا تمام سوالات کے جوابات دوں گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی گزارشات تحمل سے بیان کریں،آجکل انرجی لیول کم ہے اس لیے آرام سے کام کرینگے،1978 سے1988 تک عمران خان پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے بلکہ پروفیشنل کرکٹر تھے، کاؤنٹی کرکٹ انگلینڈ میں بھی کھیلتے رہے، 1981 تک عمران خان پاکستان میں مقیم نہیں تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے سوال کیا تھا کہ پاکستان میں اور بیرون ملک میں مقیم کیلئے قانون کیا کہتا ہے، نعیم بخاری نے کہا کہ یہ فلیٹ پروفیشنل کرکٹ کی کمائی سے خریدا گیا لندن اور آسٹریلیا میں کھیلیں گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تاریخ کیا تھی جب خریدا گیا،نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ 10 مئی 1983 میں خریدا گیا تھا، نیازی سروسز تین مختلف پارٹنر نے قائم کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نام کیا تھے ان پارٹنرز کے؟نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ1983 میں عمران خان نان ریذیڈنٹ تھے اس لیے ٹیکس بچانے کیلئے قائم کی گئی عمران خان پاکستان میں رہتا تھا 2000 میں اپنی جائیداد سکیم کے تحت رجسٹر کروائی، جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ پاکستان کب منتقل ہوئے ، نعیم بخاری نے بتایا کہ 1981 میں پاکستان منتقل ہوگئے تھے2000 تک عمران خان کے پاس کوئی پبلک آفس نہیں تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پراپرٹی نیازی سروس کی تھی،این ایس ایل پاکستانی کمپنی یا شخصیت نہیں تھی، یہ باتیں اپنے ذہین میں رکھیں، یہ سکیم صرف پاکستانی کمپنیوں یا افراد کے لیے تھی، ہم نے یہ چیز کو تول اور پرکھنا ہے، یہ سکیم سرکاری تھی، یہ فلیٹ NSL کی جائیداد نہیں تھے ، نعیم بخاری نے کہا کہ شیئر ہولڈر کمپنی کے اور بینفشل مالک عمران خان تھے، فلیٹ انہوں نے بیچے اور رقم حاصل کی، جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق یہ کمپنی ختم ہوگئی تھی تو سات سو پاؤنڈ سالانہ کیوں جمع کراتے رہے، نعیم بخاری نے کہا کہ لندن فلیٹ بیچ کر رقم بنکوں کے ذریعے منتقل کی گئی، جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ عمران خان آف شور کمپنی کے شیئرز ہولڈر تھے؟ نعیم بخاری نے بتایا کہ کمپنی میں عمران خان شیئرز ہولڈرز نہیں تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ الزام ہے کہ لندن فلیٹس نیازی سروسز لمیٹڈ کی ملکیت تھے، نیازی سروسز لمیٹڈ پاکستان کی کمپنی نہیں تھی، الزام ہے کہ عمران خان نے فلیٹ سے متعلق ڈکلیریشن درست نہیں دی، ایمنسٹی سکیم پاکستان کے رہائشیوں کیلئے تھی نیازی سروسز لمیٹڈ پاکستانی رہائشی کمپنی نہیں تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں موقف نہیں اپنایا، کوئی شخص اپنی درخواست سے باہر نہیں جا سکتا، ہم نے پھر بھی آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فلیٹ فروخت کرنے کے بعد بھی سالانہ 7سوپاؤنڈ خرچ کرکے نیازی سروسز کو ایکٹو کیوں رکھا گیا، نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ فلیٹ فروخت کا معاہدہ پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی جس کے باعث جمائمہ خان سے رقم لینا پڑی، جمائمہ خان نے بنی گالا اراضی کے لیے بذریعہ بینک رقم بھجوائی، اراضی کے لیے بعض رقم عمران خان نے براہ راست بھی ادا کی تھی، گزشتہ سماعت پر پہلی بار زمین کی فرد دیکھی تھی، اس بات کا جواب بھی دوں گا کہ طلاق کے بعد زوجہ کیوں لکھا گیا، بذریعہ کراس چیک عمران خان نے جمائمہ کو ادائیگی کی، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جمائمہ کو ادائیگی نیازی سروسز کے اکاوئنٹس سے کی گئی،لندن فلیٹ کی فروخت سے عمران خان کو 6لاکھ 90ہزار پاونڈ ملے، جمائمہ نے تقریبا 4 کروڑ روپے ادائیگی کی، جسٹس بندیال نے کہا کہ جمائمہ نے بنی گالہ اراضی کی قیمت سے زائد رقم کیوں بھجوائی، نعیم بخاری نے کہا کہ یہ میاں بیوی کا معاملہ تھا لیکن عدالت کو تمام دستیاب دستاویزات فراہم کروں گاجسٹس بندیال نے کہا کہ جمائمہ کو اس کے قرض سے زائد رقم ادا کر دی گئی عدالت نے پہلا سوال جمائمہ کو ریونیو ریکارڈ میں طلاق کے بعد بیوی ظاہر کرنے پر اٹھایا، چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے آپ نے اب کسی پٹواری کو پکڑا ہے،میرے پاس کتابیں ہیں جن سے پٹواری کا کام کا پتا چل سکتا ہے، 1981سے آج تک ٹیکس ریٹرن عدالت کو فراہم کر دیں گے، جمائمہ نے زبانی بنی گالہ پراپرٹی تحفہ کر دی، جمائمہ سے رقم بھجنے کی دستاویزات مانگی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ بخاری صاحب آپ کومنی ٹریل ثابت کرنا ہو گی، اگرمنی ٹریل ثابت نہیں ہوتی نتائج کیاہوں گے اس کا اندازہ آپکو ہوگا، عمران خان کوبراہ راست رقم منتقل نہیں ہوئی رقم تیسرے فریق کے ذریعے منتقل ہوئی، آبزرویشن عدالتی حکم کاحصہ نہیں ہوتی، میرا اونچا بولنے کو برہمی نہ لکھا جائے، بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ /ممنوعہ فنڈنگ پرجواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بتایاجائے کہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے سماعت کادائرہ اختیار کس کاہے کیوں کہ کیس کااہم پہلو غیرملکی فنڈنگ ہے، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزارکاکہناہے کہ آپ قومی لیڈر ہیں معاملہ ایمانداری کاہے بینک ڈرافٹ یاپے آرڈر کی شکل میں ادائیگیاں ہوتیں تو معاملات اورہوتے، اب ادائیگیوں میں تھرڈ پارٹی شامل ہوگئی ہے،مزید سماعت آج پھر ہوگی ۔

سپریم کورٹ

اسلام آباد(اے این این،ما نیٹر نگ ڈیسک) الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر پارٹی فنڈنگز کی تفصیلات پیش نہ کر سکی۔تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حکم کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے، سماعت ملتوی کی جائے۔منگل کو الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کی۔سماعت کے دوران تحریک انصاف ایک بار پھر بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرنے میں ناکام رہی اور عمران خان کے وکیل ثقلین حیدر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ نے کوئی حکم امتناع جاری کیا ہے،اگر کوئی حکم امتناع جاری نہیں ہوا تو سماعت کیسے ملتوی کردیں، آپ کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا گیا تھا۔وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ اسی نوعیت کی درخواست پرروزانہ کی بنیاد پر سماعت کررہی ہے،انورمنصورکل بھی سپریم کورٹ میں مصروف ہونگے، سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی جائے۔الیکشن کمیشن نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی ۔الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر تحریک انصاف کو پارٹی اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کا آخری موقع دیا تھا تاہم کیس پر مزید سماعت اب بدھ کو ہو گی۔سماعت کے بعددرخواست گزار اکبر ایس بابر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف آج پھر اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کروانے میں ناکام رہی، تحریک انصاف مالی معاملات میں بالکل شفاف نہیں،یہ سنگین معاملہ ہے، امید ہے الیکشن کمیشن اپنا آئینی اختیاراستعمال کریگا، تحریک انصاف اب ق لیگ بن چکی ہے، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔اس موقع پررہنما ن لیگ دانیال عزیز نے کہا کہ آج دہشت گردی کی عدالت میں آواز پڑی، عمران خان ولد اکرام اللہ نیازی پیش ہو،نعیم الحق نے پچھلی پیشی پرکہا کہ ہم سارا ریکارڈ الیکشن کمیشن کو دیں گے،اس کے پاس نہ اب منی ٹریل ہے نا کوئی ریکارڈ موجود ہے، عمران خان اسمبلی آئے تو سبق سکھائیں گے۔

الیکشن کمیشن

مزید : صفحہ اول