مخالف میڈیا کا مقابلہ کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں جنگی کمرے کا قیام

مخالف میڈیا کا مقابلہ کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں جنگی کمرے کا قیام

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی میڈیا صدر ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کے خلاف بدستور سر گرم ہے اور اس میں صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ ٹیم کے روسی کنکشن کے بارے میں جاری تفتیش کو زور شور سے اچھال رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بیرونی دورے سے واپس آتے ہی میڈیا کے خلاف جوابی حملے شروع کردیئے ہیں اور اب انہوں نے میڈیا کے حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں ایک ’’جنگی کمرہ‘‘ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، میڈیا سے ڈیل کرنے کی اپنی پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے کیلئے انہوں نے سب سے پہلے وائٹ ہاؤس کے کمیونکیشن ڈائریکٹر مائیک ڈیکے کو فارغ کردیا ہے لیکن طریقہ وہی اپنایا کہ ان سے استعفیٰ دلوایا ہے، انہوں نے مارچ میں یہ عہدہ سنبھالا تھا اور اب تین ماہ بعد اپنے استعفیٰ کی وجوہات انہوں نے ذاتی بتائی ہیں جس پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے، قبل ازیں پریس سیکرٹری سین سپائسر کو فارغ کئے جانے کی افواہیں تھیں لیکن فی الحال انہیں کچھ عرصہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس کے ’’جنگی کمرے‘‘ کے قیام کا مقصد میڈیا کو ڈیل کرنے کیلئے نئی حکمت عملی پر عمل کرنے کے لئے صدر ٹرمپ ایک دو مزید مشیروں کا اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس وقت ’’جنگی کمرے‘‘ کی نگرانی وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رینس پریبس اور سینئر ایڈوائزر سٹیو بینن کے سپرد ہے۔

جنگی کمرہ

مزید : صفحہ اول