رمضان میں اہلِ حجاز "برتنوں" کو دْھونی کیوں دیتے ہیں ؟

رمضان میں اہلِ حجاز "برتنوں" کو دْھونی کیوں دیتے ہیں ؟
 رمضان میں اہلِ حجاز

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سعودی عرب میں اہلِ حجاز کی اکثریت کے گھروں میں اور اْن کے کھانے کے دسترخوانوں پر "مصطگی" کی دْھونی کی مہک پھیل جاتی ہے۔ اس موقع پر خواتین خانہ گھروں کے برتنوں بالخصوص "گلاسوں" کو مصطگی کی دْھونی سے مہکاتی ہیں۔ حجاز کے رہنے والے طویل عرصے سے نسل در نسل رمضان کے اس رواج پر کاربند ہیں۔مصطگی ایک گوند نما مواد ہوتا ہے جو MASTIC کے درخت کی جڑوں سے نکالا جاتا ہے۔ اقسام اور کوالٹی کے لحاظ سے اس کے متعدد رنگ ہوتے ہیں جن میں سفید ، زرد اور سْرمئی شامل ہیں۔ ضرورت کے مطابق اس کو مختلف استعمال میں لایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے خوشبودار دْھونی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عطر اور سنگھار و آرائش کے سامان کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔گھروں میں برتنوں کو مصطگی کی دْھونی دینے کے لیے پہلے کوئلے کا ٹکڑا جلا کر اْس پر مصطگی کے دانے رکھ دیے جاتے ہیں اور پھر پانی کے گلاس ، چائے کے کپوں ، فلاسکوں اور ڈشوں کو تقریبا 10 منٹ تک دْھونی دی جاتی ہے۔ اس طرح ان میں دْھونی کی مہک برقرار رہتی ہے۔تاریخی لحاظ سے سمجھا جاتا ہے کہ اس رواج کا آغاز مدینہ منورہ سے ہوا اور پھر وہاں سے حجاز کے دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ مدینہ منورہ کی ایک معروف شخصیت وائل کردی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ یہ رواج جس ضرورت کے تحت سامنے آیا تھا وہ ختم ہو چکی ہے تاہم مدینہ منورہ کے رہنے والوں نے ابھی تک اس کو رمضان کے رواج کے طور پر محفوظ رکھا ہوا ہے۔ وائل کے مطابق "زمانہ قدیم میں پانی کو مٹی کی مصنوعات میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ بجلی کی عدم فراہمی کے سبب لوگ اس کو مصطگی کی دْھونی دیتے تھے تا کہ یہ ٹھنڈا رہے اور ساتھ ہی اس میں خوشبو بھی باقی رہے"۔

دھونی

مزید : صفحہ اول