وڈے حاجی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وڈے حاجی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 وڈے حاجی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  

شکرہے مسلم لیگ اور تحریک انصاف نے ڈائیس الگ کرلئے ہیں، بھانڈے وکھرے کرنے کے بعد ڈائیس وکھرے کرنا ایک اچھا شگون ہے۔ یہ اکیسویں صدی ہے اب اخلاقیات اتنے گھاٹ کا پانی پی چکی کہ وہ اپنا رنگ بھول گئی، اسلام آباد میں مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے وکلاء میں ڈائس پر پہلے خطاب کرنے کے حوالے سے جو فوٹیج ٹی وی چینلز نے دکھائی مجھے اپنے بچوں کو بتانا پڑا کہ یہ کوئی مزاحیہ ’’ایپی سوڈ‘‘ نہیں۔ سچ مچ میں رکھ رکھاؤ، نفاست، شرافت اور اعلیٰ اقدار کی سیاست کا عملی نمونہ ہے۔ پہلے آپ، نہیں پہلے آپ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ اب پہلے میں، نہیں پہلے میں کا دور ہے۔ اخلاقیات گئی بھینس چرنے، اب مائیٹ از رائٹ کا دور ہے۔ مائیک اور ڈائیس گرائے جانے کی فوٹیج دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ ڈائس تھا کس کا؟ جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ خطاب فرما سکتے ہیں۔ میں نے اسلام آباد ایک دوست کو فون کیا اور پوچھا بھائی لڑائی کا سبب بننے والا ڈائیس تھا کس کا؟ ماشاء اللہ آجکل انویسٹی گیٹو صحافت کا دور ہے اور ہمارا یہ دوست بریکنگ نیوز دینے کا ایکسپرٹ ہے۔ اس نے سوچ کے جواب دیا رانا صاحب! وہ ڈائس لکڑ کا تھا، میرے چودہ طبق روشن ہوگئے وا کیا تحقیق ہے، خیر میں نے دوسرا سوال کیا کہ جس نے ڈائس اور مائیک گرائے وہ کون تھا؟ وہ بولا وکیل، میں نے کہا بھائی یہ تو مجھے بھی پتہ ہے کہ ڈائس لکڑ کا اور گرانے والا وکیل تھا لیکن ان کا کوئی نام بھی تو ہوگا، وہ بولا یہ فالو اپ سٹوری ہے کل دونگا، خیر مائیک گرانے والے صاحب کا نام جو بھی ہو انہوں نے تاریخ میں اپنا نام بھٹو صاحب اور میاں شہباز شریف کی صف میں شامل کرلیا، خیر وہ جتنے مرضی مائیک گرالیں، چھوٹے بھائی جان سب سے ’’ودھ‘‘ ہیں۔ اب تو جہاں انہوں نے خطاب کرنا ہو، سپیکر وغیرہ کا انتظام کرنے والے مائیک بھیجنے سے انکار کردیتے ہیں کہ خادم اعلیٰ نے ان کے مائیک کو مدھول کے رکھ دینا ہے، مجھے امید ہے کہ وہ کسی نہ کسی دن بھٹو کی طرح مائیک گرانے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔

آہو نی آہو فیم ٹیم ن لیگ کی ہو یا پی ٹی آئی کی، ان کی باتیں سننے والی ہیں۔ قسم سے مولا جٹ فلم کا سین یاد آجاتا ہے، جب مولا جٹ اور نوری نت کچہری جا رہے ہوتے ہیں اور ان کے تانگوں میں آہو نی آہو ٹیم تانگے کے پائیدانوں پر لٹکی گا رہی ہوتی ہے۔

مولے جٹ نے نوری نت نوں

سٹ دینا جے تھلے

ایہہ تے ویلا آپ دسے گا

کون مار دا میدان پہلے ہلے

دونوں طرف کے تانگوں پر گانوں کے دوران میاں صاحبان اور عمران خان معاف کیجئے گا جٹ اور نت ان رنگ برنگے آہو نی آہو گروپ کو دیکھ کر صرف مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ ایک خاتون کو شاپنگ کے دوران پرانا دوست مل گیا انہوں نے طلال چودھری، دانیال عزیز، فواد چودھری جیسے پر عزم انداز میں بیٹے کو کہا کہ بیٹا سلام کرو یہ تمہارے ماموں ہیں بچہ بولا ماما آپ تو بہت پاپولر تھیں یہ بارہویں ماموں ملے ہیں مجھے جنہیں سلام کرنا پڑا۔ پرانے معاشقے اور پرانی چوٹیں ہر سیزن اور ہر موڑ پر اپنا آپ بتاتی ہیں۔ خود بتائیں آپ کیسا محسوس کرتے ہیں جب دانیال عزیز یہ کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی کے ایک رکن جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی رہے ہیں وہ یہ کہتے ہیں تو ٹھیک کہتے ہیں انہوں نے تو فیر میاں صاحب کے پاس آنے سے پہلے مشرف جراثیم کا آپریشن کرالیا ہوگا، اس کلینک سے فواد چودھری، طلال چودھری، ماروی میمن بھی ہوکر آئے ہونگے۔ سردی اور بے عزتی جتنی محسوس کریں اتنی لگتی ہے، بندہ تھوڑا ڈھیٹ ہونا چاہئے لیکن مجھے حیرانگی ان قائدین پر ہے جو اپنے ان کمٹڈ ساتھیوں کے ان کارکنوں کو دیکھتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، بھیا میرے یہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دکھا رہے ہیں کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ میڈیا کے سامنے پہلے بولنے کی خواہش میں لائیو ایک دوسرے کو دھکے دیگا۔ مائیک گرائے گا، کیا یہی جمہوریت ہے کیا اسی کو تہذیب اور رکھ رکھاؤ کہتے ہیں؟

سردار جی کو کسی نے کہا آپ کی بیگم کو جن چمڑ گیا ہے، وہ بولے تے فیر میں کی کراں جن دی اپنی غلطی ہے۔ اب تو جمہوریت کو جنگلی پن کا جن چمڑ گیا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ ایسا جن ہے کہ کبھی پیپلز پارٹی کو چمڑتا ہے کبھی مسلم لیگ کو کبھی جنرل مشرف کو کبھی عمران خان کو۔ یہی ہے پاکستان میرے جان جگر اور یہی ہے اس کی جمہوریت۔ دنیا بحث کررہی ہے ان کی لیڈر شپ ان کے لئے کیا وژن رکھ رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ جیسا رنگ باز اپنے ملک کیلئے دنیا بھر میں نکلا ہوا ہے، فرانس کا صدر اسکا مضبوطی سے ہاتھ تھام کر دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ وہ مرعوب ہونے والا نہیں، عرب اپنے خطے کو محفوظ بنانے کیلئے اربوں ڈالر کے تحائف بانٹتے پھر رہے ہیں اور میری لیڈر شپ یہ بحث کررہی ہے کہ بڑا چور کون ہے؟ یہ کھربوں روپے کیسے چوری کئے؟ یہ کئی کنال کہاں کہاں سے گفٹ ہوئے؟ یہ ہے وہ وژن جسے لیکر ہم اپنی قوم کو ترقی خوشحالی کے خواب دکھاتے ہیں اور کروڑوں دہائیوں پر مشتمل یہ غول نما قوم اپنے طور پر ’’اَنّی‘‘ پانے میں مصروف ہے۔ وہ ٹکا کے رمضان کمانے میں مصروف ہے پھر بتائیں جب پوری قوم جہاں ہے جیسا کی بنیاد پر لوٹنے میں مصروف ہے۔ لیڈروں کے لیڈر فرشتے تو نہیں ہوسکتے ہیں چوروں کا سربراہ مہا چور ہی ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے ساتھ بیٹھا دوست دوسرے نمازی کو ان کی تعریفیں کررہا تھا، بہت نیک ہیں پرہیز گار ہیں، وہ ایکدم نماز توڑ کر بولے ’’اینو دس میں حج وی کیتا اے‘‘۔ ماشاء اللہ ہماری قیادت نیک پرہیزگار متقی ہے اور حاجی بھی ہے۔ ہمیں آپ پر فخر ہے، پوری دنیا میں آپ ہماری دیانت شرافت کی پہچان ہیں، دنیا کو پاکستانی قوم پر رشک آتا ہے کہ ہمیں آپ جیسے متقی پرہیز گار نیک پار سا لیڈر میسر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مثالی ترقی کررہے ہیں کچھ علاقے امریکہ لے چکا ہے اور باقی کیلئے چین سے بات چیت چل رہی ہے، اللہ اللہ خیر صلا ! آپ کا کیا ہے آپ نے تو برطانیہ امریکہ جدہ چلا جانا ہے آپ کے بچے پہلے سے ہی ’ڈوئل نیشنلٹی‘‘ ہولڈر ہیں ہمارے بچوں کا کیا ہے، محکوم قوم کے بچے کا کوئی استحقاق ہوتا ہے نہ مستقبل، بس آپ سلامت رہیں وڈے حاجی صاحب۔

مزید : کالم