بنگلے توڑ کرگلیوں ،محلوں میں پورشن بنانے کے عمل کوروکنا ہو گا:میئر کراچی

بنگلے توڑ کرگلیوں ،محلوں میں پورشن بنانے کے عمل کوروکنا ہو گا:میئر کراچی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہاہے کہ شہر میں بنگلے توڑ کر گلیوں، محلوں میں پورشن بنائے جانے کے عمل کو فوری روکنا ہوگا جس کے انفراسٹرکچر پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ،تعمیراتی سرگرمیاں ،انفراسٹرکچر کے مطابق ہونی چاہئیں، 70فیصد پانی انڈسٹریل ایریا کو جارہا ہے جس کے باعث شہری آبادی کو پینے کے پانی کے مسائل درپیش ہیں جبکہ لائن لاسز میں بھی 30 فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے ، کراچی کی تعمیر و ترقی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کا اہم کردار ہے ، شہر میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے معاملے میں آباد بلدیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کرے اور کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد کرے،ہم سب مل کر ہی اس شہر کے مسائل کو حل کرسکتے ہیں یہ بات انہوں نے چیئرمین محسن شیخانی کی سربراہی میں اپنے دفتر میں ملاقات کے لئے آنے والے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، وفد میں وائس چیئرمین حسن بخش، ریجنل چیئرمین محمد ایوب، سابق وائس چیئرمین آباد رضوان آڈیا اور دیگر عہدیداران و ممبران شامل تھے جنہوں نے میئر کراچی کو یقین دلایا کہ کراچی کی بہتر ی ،انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے ان کی جدوجہد میں آباد پوری طرح ان کے ساتھ ہے اور انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلاتی ہے ، وفد نے میئر کراچی سے درخواست کی کہ سابق ناظمین کے ادوار میں کراچی میں پہلی دفعہ 12سڑکیں اوردوسری بار 16سڑکیں کمرشل قرار دی گئیں لہٰذا کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے لئے ان ہی سڑکوں کو استعمال میں لانا چاہئے نہ کہ رہائشی علاقوں اور تنگ گلیوں میں بنگلوں اور مکانات کے پورشنز بنائے جا ئیں جن کی وجہ سے شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، میئر کراچی نے کہا کہ کسی بھی بڑے شہر میں تعمیراتی سرگرمیاں موجودہ انفراسٹرکچر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں کیونکہ پانی و سیوریج ، بجلی ، گیس اور سڑکیں بنیادی انفراسٹرکچر ہیں جن پر تعمیراتی سرگرمیوں کا براہ راست اثرات ہوتے ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ پہلے انفراسٹرکچر کو توسیع و ترقی دی جائے اور اس کے بعد تعمیراتی سرگرمیاں خاص طور پر بلند و بالا اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر عمل میں لائی جائے ، انہوں نے کہا کہ کراچی شہر پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے اور شہری ان مسائل کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں جس کا ان کی روزمرہ زندگی سے براہ راست تعلق ہے ، شہر کی سڑکیں ابتر حالت میں ہیں ، سیوریج کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، صوبائی اور قومی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرنے کے باوجود کراچی شہر کے ساتھ مالیاتی ناانصافی جاری ہے اور بلدیاتی اداروں کو ضروری فنڈز تک فراہم نہیں کئے جارہے جس کی وجہ سے شہر کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ تمام تر مسائل اور مشکلات کے باوجود کام کرنے کے لئے ہمارے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی اور ہم محدود وسائل کے باوجود کراچی کے شہریوں کو بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے شہر کے مسائل حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شہر کے دیگر ادارے خاص طور پر ترقیات سے متعلق ادارے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی بلدیات کے ساتھ تعاون کریں اور شہر میں تعمیر و ترقی کا عمل جاری رکھنے میں ہمارے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ ہم سب مل کر کراچی کو ایک جدید ترقی یافتہ شہر بناسکیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول