یوفون کا اسٹریٹ چلڈرن کو تعلیم کی فراہمی کیلئے تعاون

یوفون کا اسٹریٹ چلڈرن کو تعلیم کی فراہمی کیلئے تعاون

کراچی(پ ر) رمضان کی حقیقی روح کو جاری رکھتے ہوئے یوفون نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی معاشرتی بہبود کی سرگرمیوں کے لئے تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اس ضمن میں یوفون کی جانب سے اسٹریٹ چلڈرن کے لئے فٹ پاتھ اسکولوں جیسا مثالی کام کرنے والی سیدہ انفاس علی شاہ کے ساتھ تعاون کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں یوفون کی جانب سے پورے ماہ رمضان کے دوران ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پر اشتہارات کی شکل میں خصوصی جگہ دی جائے گی اور یہ تمام کام بلامعاوضہ ہوگا جس کی بدولت پاکستان بھر میں ان کا پیغام پھیلے گا۔ یوفون کا عزم ہے کہ سیدہ انفاس کے مثالی کام کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگہی پھیلائی جائے اور دیگر لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ان کے شاندار فلاحی کام کو آگے بڑھائیں۔ سیدہ انفاس پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے عزم کے ساتھ کراچی اور اندرون سندھ سات فٹ پاتھ اسکول چلا رہی ہیں۔ یہ بچے غربت سے متاثرہ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو بنیادی طور پر گلیوں و بازاروں میں پھرتے ہیں اور مزدوری کرتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت سے بڑا کوئی پیشہ نہیں ہے اور اپنے جیسے انسانوں کی ترقی اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے سے بہتر کوئی اقدام نہیں اور یہ فلاحی کام اس وقت زیادہ پراثر ہوجاتے ہیں جب اس کا مرکز بچے ہوں ۔ رمضان ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ہم ان غیرمعمولی افراد سے رہنمائی لے سکتے ہیں ۔ یوفون معاشرے کی سماجی و معاشی ترقی پر توجہ برقرار رکھنے کے لئے رواں رمضان میں ایسے ہی پرعزم افراد اور فلاحی کام کرنے والی سماجی تنظیموں سے تعاون جاری رکھے گا۔ انفاس بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کررہی ہیں اور اس سے قبل وہ کنسٹرکشن کے کام سے وابستہ تھیں لیکن اب انہوں نے اپنے آپ کو بچوں کی تدریس کے لئے وقف کردیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے اپنی آرام دہ زندگی کی قربانی دے دی ہے لیکن وہ اس پر خوش ہیں کیونکہ بے یارو مددگار افراد کی مدد سے انہیں اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے ۔ وہ 5 سال سے لیکر 17 سال تک کے بچوں کو پڑھاتی ہیں اور دن کے 12 گھنٹے ان بچوں سے متعلق سرگرمیوں کے لئے وقف کرتی ہیں۔ اب تک ان کے اسکول کی سات برانچز قائم ہوچکی ہیں جن میں چار اندرون سندھ اور تین ڈیفنس میں ہیں۔ ڈیفنس کے علاقے کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ کچی آبادیوں سے گھرا ہوا ہے جہاں بچوں کی بڑی تعداد موجود ہے اوران کے پاس تعلیم کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر