1930ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،نواب یوسفزئی

1930ء کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،نواب یوسفزئی

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے ضلعی نائب صدر اور میڈیا انچارج نواب علی یوسفزئی نے 31 مئی 1930 ؁ء شہداء بازار کلاں کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح تاج برطانیہ نے اپنی غاصبانہ اقتدار کو دعوام بخشنے کیلئے ٹکر‘ سپین تنگی‘ ہاتھی خیل‘ جلیانوالہ‘ قصہ خوانی بازار‘ میروس ڈھیری اور بازار کلاں میں نہتے عوام کی بے گناہ خون سے ہولی کھیلی جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے ملک کی آزادی چاہتے تھے مگر 1930 ؁ء کی خونین سانحات سے ٹھیک 3 سو سال پہلے 1630 ؁ء میں بھی پشاور کے غیور آزادی پسند قوم نے مغل امپائر کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں مغل امپائر کو بدترین شکست سے دو چار کر کے ان کو پشاور چھوڑ کر بھاگنا پڑا‘ شہداء قصہ خوانی اور بازار کلاں کی طرح پشاور کے غیور عوام نے ہر دور میں ہر جابر و غاضب حکمران کے خلاف حق کی آواز بلند کی اکیسویں صدر میں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف بھی پشاور کے عوما نے ڈھکی نعلبندی اور مینا بازار کی صورت میں بھی خون کا نذرانہ پیش کیا جس سے شہداء قصہ خوانی اور بازار کلاں کی شہیدوں کی عطیم قربانی کی یاد تازہ کی‘ قصہ خوانی‘ بازار کلاں‘ ٹکر سپین تنگی‘ ہاتھی خیل‘ میروس ڈھیری‘ بابڑہ نے وطن کو آزادی دی جبکہ مینا بازار اور ڈھکی نعلبندی کے شہیدوں نے مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو شکست دے کر پختونخوا میں خصوصی طور پر امن قائم کیا

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر