ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں واقعی انجری ہوئی تھی یا پھر اداکاری کی تھی؟ احمد شہزاد نے منہ کھولا تو شعلے ہی نکلے، ایسی ایسی باتیں کہہ دیں کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں واقعی انجری ہوئی تھی یا پھر اداکاری کی تھی؟ احمد ...
ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ میں واقعی انجری ہوئی تھی یا پھر اداکاری کی تھی؟ احمد شہزاد نے منہ کھولا تو شعلے ہی نکلے، ایسی ایسی باتیں کہہ دیں کہ آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

برمنگھم (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی بلے باز احمد شہزاد ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹی 20 میچ کے دوران انجر ہو کر ایمبولینس میں ہسپتال جانے اور پھر ٹیکسی کے ذریعے واپس آنے پر مذاق کرنے والوں اور انہیں بہترین اداکار قرار دینے والوں کو کھری کھری سنا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ فیصل اقبال نے احمد شہزاد کی انجری کو’ڈرامہ‘ قراردیدیا،آسکر ایوارڈ دینے کا مطالبہ

نجی ٹی وی کے صحافی نے احمد شہزاد سے سوال پوچھا کہ ” آپ ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹی 20 میں انجر ہو کر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال گئے تو سب نے دعائیں کی لیکن جب آپ ٹیکسی میں واپس آئے تو سب نے کہا کہ آپ بہت بڑے اداکار ہیں، تو آپ اس معاملے پر کیا کہنا چاہتے ہیں۔“

احمد شہزاد نے جواب دیا کہ ”کہیں نہ کہیں سے گزرتے ہوئے ہمیں بھی یہ چیزیں پتہ لگ جاتی ہیں کہ کون کیسا سلوک کر رہا ہے۔ ہم سارے انسان ہیں اور مذاق اڑانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ سامنے آپ کا اپنا بھائی، باپ اور بیٹا بھی ہو سکتا ہے۔

میچ کے دوران جب میری ٹکر ہوئی تو میں 5 سیکنڈ کیلئے اندھا ہو گیا، میں بہت زیادہ فیلڈ میں ایکٹو رہنا چاہتا ہوں شائد اس لئے حادثات میرے ساتھ ہی ہوتے ہیں ، کبھی کندھا لگ جاتا ہے تو کبھی ٹکر ہو جاتی ہے۔ جب ٹکر ہوئی تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میری گردن نہیں ہل رہی۔

جیسے ہی مجھے ایمبولینس میں ڈالا اور ہسپتال لے جانے لگے تو میں نے کہا کہ میں نے نہیں جانا، میری گردن ہل رہی ہے، ہم نے بڑا ٹوٹل نہیں کیا، مجھے فیلڈنگ کرنے دیں کیونکہ ٹیم کو میری ضرورت ہے۔ لیکن ان کی پریکٹس ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ مجھے لے جانے پر بضد تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ 5 سیکنڈ کیلئے اندھے ہو گئے تھے تو پھر آپ کو جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”ایمبولینس احمد شہزاد کو لے کر جا رہی تھی تو کامران اکمل۔۔۔“ وسیم اکرم، شعیب اختر اور ثقلین مشتاق احمد شہزاد کی انجری پر کس انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں؟ دیکھ کر آپ کسی بھی صورت ہنسی پر قابو نہیں پا سکیں گے

ہسپتال بالکل ساتھ ہی تھا، وہاں جا کر انہوں نے ایکسرے کیا اور پھر واپس بھی ایمبولینس میں ہی آیا، نہ کہ ٹیکسی میں، اب کسی کو لگتا ہے کہ میں اداکار ہوں اور کوئی سمجھتا ہے کہ میں نے ٹیم کیلئے یہ سب کیا ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنی پسند یا ناپسند کا شکار بھی خود ہی ہو جاتے ہیں۔ جو فیورٹ ہوتے ہیں اسے کہہ دیتے ہیں کہ ٹیم مین ہے اور جس کا مذاق اڑانا ہوتا ہے، اسے اداکار کہہ دیا جاتا ہے۔

مزید : کھیل