پیپلز پارٹی نے4سال چھپن چھپائی میں گزار دئیے، پی پی قیادت ن لیگ کے خلاف قضا نمازیں ادا کر رہی ہے: فردوس عاشق اعوان

پیپلز پارٹی نے4سال چھپن چھپائی میں گزار دئیے، پی پی قیادت ن لیگ کے خلاف قضا ...
پیپلز پارٹی نے4سال چھپن چھپائی میں گزار دئیے، پی پی قیادت ن لیگ کے خلاف قضا نمازیں ادا کر رہی ہے: فردوس عاشق اعوان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور رہنماءتحریک انصاف فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے 4سال مسلم لیگ ن کو کھلی چھوٹ دے کر محض چھپن چھپائی میں گزار دئیے، پاکستان کے عوام مسلم لیگ (ن) سے جان چھڑانے کے لئے نجات دہندہ کے انتظار میں تھے ، لیکن پیپلز پارٹی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا، اب پیپلز پارٹی کی مہم ویلے کی نمازیں نہیں بلکہ کویلے کی ٹکریں ہیں ، پیپلز پارٹی کو اب پنجاب میں کوئی کامیابی ملنے کے امکانات نہیں ہیں ، مسلم لیگ کے خلاف پی پی کی حالیہ جد وجہد قضا ءنمازوں کے مترادف ہے۔

مور زندگی میں کبھی بھی جنسی تعلق قائم نہیں کرتا ، راجستھان ہائی کورٹ کے جج کی انوکھی منطق

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماءتحریک انصاف فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مجھے وزیر اطلاعات بنایا یہ ان کا مجھ پر احسان تھا مگر ان کے دور حکومت میں وزارت اطلاعات 4جگہوں سے چل رہی تھی، میری ڈوریں ایک پتلی کی طرح ہلائی جاتی تھیں، میں نے اپنی وزارت کا ایک دن بھی اسلام آباد میں نہیں گذارہ میرا یک ایک لمحہ اپنے حلقے کے عوام کے درمیان میں گزرا،2013ءمیں مجھے کئی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ کی آفر ز تھیں لیکن پیپلز پارٹی کے مجھ پر احسانات تھے اس لئے میں نے کسی پارٹی کی کوئی بھی آفر قبول نہیں کی۔2013ءکا الیکشن محض پیپلز پارٹی کا ٹکٹ ہونے کی وجہ سے ہاری، مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالتے ہی میرے حلقے میں میرے شروع کئے گئے منصوبوں کو ختم کر دیا ، اس حوالے سے میں نے اپنی پارٹی کی قیادت اور لیڈر آف اپوزیشن سے بھی رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کسی بھی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا۔ سندھ اور پنجاب کی سیاست الگ الگ ہے، پیپلز پارٹی پنجاب پر مخصوص لوگوں نے قبضہ کرکے پارٹی کو تباہ کردیا ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

رمضان المبارک میں پھلوں کی گراں فروشی، سوشل میڈیا پر فروٹ بائیکاٹ مہم شروع ہوگئی

فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں سیاست میں آئی اس وقت میں نے حلف لیا تھا کہ میں” سٹیٹس کو “ کو چیلنج کروں گی لیکن مجھے اس نظام کا شکار بنا کر دیوار سے لگا دیا گیا ۔میں روزگار کی سیاست نہیں کرتی ایک سوشل ورکر ہوں اور ہر وقت اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں ، میں نے بلاول بھٹو کے نعروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا مگر ان کے نعرے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دبتے چلے گئے، عمران خان کی صورت میں مجھے” سٹیٹس کو“ کو چیلنج کرنے والا رہنماءمل گیا ہے، اس نظام کے خلاف جد وجہد کے لئے عمران خان سے بڑھ کر کوئی قائد نہیں ہے ، اس لئے میں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں