الیکشن 2018ء کے انعقاد سے پہلے ہی نحوست اور آسیب کے سائے

الیکشن 2018ء کے انعقاد سے پہلے ہی نحوست اور آسیب کے سائے

  

تجزیہ: مبشر میر

الیکشن 2018کے انعقاد سے پہلے ہی نحوست اور آسیب کے سائے چھانے لگے ،بلوچستان اسمبلی نے الیکشن ایک ماہ موخر کرنے کی قرارداد پاس کی ۔حلقہ بندیوں پراعتراضات کے فیصلوں نے تاخیر کی وجوہات میں اضافہ کیا، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دہشت گردی کے خطرات کا اشارہ دیا ،نگراں وزرائے اعلیٰ پر اتفاق نہ ہونا ،نگراں وزیراعظم پر بھی اعتراضات کا آغاز اور اب ذرائع کے مطابق حسا س اداروں کی طرف سے سندھ کے اہم شہروں کراچی ،حیدرآباد ،سکھر ،روہڑی ،لاڑکانہ اور نواب شاہ میں مستقبل قریب میں تخریب کاری یا دہشت گردی کے خطرات کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ باخبر ذرائع اطلاع دے رہے ہیں کہ گزشتہ کئی ماہ سے گورننس میں کمزوریوں اور ملک میں محاذآرائی کی کیفیت سے دہشت گرد تنظیموں کو پھر سے منظم ہونے کا موقع فراہم کردیا ہے ۔ایسی خبروں کی اطلاعات ہیں کہ مبینہ دہشت گرد گروپ سندھ کے اہم شہروں کو نشانہ بناسکتے ہیں اب جبکہ رمضان المبارک میں مساجد میں اوقات نماز میں بڑے اجتماعات دیکھنے میں آرہے ہیں ،جمعۃ المبارک کے اجتماع میں کثیر تعداد میں ادائیگی نماز کے لیے لوگ مساجد کا رخ کرتے ہیں ایسی صورت میں سخت ترین سکیورٹی کی ضرورت ہے ۔پاکستان دشمن قوتیں جمہوریت کے سفر کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں ہیں ۔شفاف الیکشن سے ملک اندرونی طور پر مضبوط ہوگا ،پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے بعد سے پاکستان دشمن عناصر ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اس لیے سخت ترین سکیورٹی کے انتظامات کی اشد ضرورت ہے ۔

تجزیہ مبشر میر

مزید :

تجزیہ -