اگر حمل کے دوران یہ کام ہوجائے تو پیدا ہونے والے بچے کے بانجھ ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے

اگر حمل کے دوران یہ کام ہوجائے تو پیدا ہونے والے بچے کے بانجھ ہونے کا خطرہ بہت ...
اگر حمل کے دوران یہ کام ہوجائے تو پیدا ہونے والے بچے کے بانجھ ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے

  


کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) حاملہ خاتون کا شوہر مر جائے یا اس کی طلاق ہو جائے تو اس کے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے، اس کے متعلق آسٹریلوی سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کر ڈالا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”اگر حاملہ خاتون کے پیٹ میں لڑکا پرورش پا رہا ہو اور اس کا شوہر مر جائے یا اسے طلاق دے دے تو اس صدمے کا اس کے پیٹ میں پرورش پاتے بچے کی صحت پر انتہائی منفی اثر ہوتا ہے اوراس کے بانجھ ہونے کے امکانات کئی گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔“

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”ایسی ماﺅں کے ہاں پیدا ہونے والے بیٹوں میں جوان ہو کر سپرمز کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے اور بسا اوقات وہ اولاد پیداکرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ “ اس تحقیق میں یونیورسٹی آ ف ویسٹرن آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے 600لڑکوں پر تجربات کیے جن کی اوسط عمر 20سال تھی۔ ان میں سے جن کی پیدائش سے قبل ان کی ماں بیوہ ہو گئی تھی یا اسے طلاق ہو گئی تھی، ان میں سپرمز کی تعداد دوسرے لڑکوں کی نسبت 60فیصد سے زائد کم تھی۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر راجر ہارٹ کا کہنا تھا کہ ”ممکنہ طور پر طلاق یا شوہر کی موت سے عورت کو جو شدید ذہنی صدمہ لاحق ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کے بچوں کی جنسی صحت متاثر ہوتی ہے۔ آئندہ زندگی میں ان کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو کر رہ جاتی ہے۔“

مزید : تعلیم و صحت