ایٹمی صلاحیت، متنازعہ کیوں؟

ایٹمی صلاحیت، متنازعہ کیوں؟
ایٹمی صلاحیت، متنازعہ کیوں؟

  

دل اداس ہے، اموات کورونا ہی کے سبب ہیں یا بعض مریض دوسرے امراض کی وجہ سے چل بسے، یہ تحقیق طلب ہے اسے بحث کا موضوع نہ بنایا جائے تو بہتر ہے۔ البتہ محکمہ صحت والوں سے گزارش ہے کہ وہ ہسپتالوں میں دیگر امراض کے مریضوں کی صحت یابی کی کوشش بھی جاری رکھیں۔ حکومت پر فرض ہے کہ وہ ساتھ ساتھ وضاحت کرے کہ کس ہسپتال میں کون سا مریض کورونا اور کون سا کسی دوسرے مرض کے باعث انتقال کر گیا۔ یہ امر متنازعہ نہیں ہونا چاہیے، یوں بھی اب لاک ڈاؤن کی نرمی ا ور اس کی دھجیاں بکھر جانے کے بعد یہ سب لازمی ہے اور یہ بھی کہ اب عوام کو احتیاط کرنے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ ہر طرف سے لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کرنے کی اپیل یا مطالبات سامنے آ رہے ہیں، تاجر برادری بے چین ہے وہ چاہتی ہے کہ چوبیس گھنٹے کاروبار کی اجازت دی جائے۔ ریسٹورنٹس والے بھی اجازت مانگ رہے ہیں، نجی تعلیمی اداروں والے احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ وہ تعلیمی ادارے کھلوانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ حضرات خود 20فیصد کمی کے ساتھ فیسیں وصول تو کررہے ہیں، لیکن اساتذہ کو تنخواہیں اور عمارتوں کے مالکان کو کرائے ادا نہیں کر رہے، اس کے باوجود ان کا مطالبہ ہے کہ ادارے کھول دیئے جائیں اور معصوم کلیوں کو بھی مر جھانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ یہاں سیانے اور بالغ کسی احتیاط کو خاطر میں نہیں لا رہے، بچوں کو موقع ملا تو ان کے لئے کسی احتیاط کی پرواہ کرنے کے حوالے سے سوچنا بھی حماقت ہو گی۔ بہرحال وفاقی حکومت نے کل (پیر) مشاورت کرنا ہے۔ صوبوں کی سفارشات بھی پیش نظر ہوں گی۔ بہتر ہوگا کہ متعلقہ محکموں کی معلومات کی بناء پر اب ٹھوس تجاویز اور ان پر مکمل عمل کے فیصلے کئے جائیں۔

قارئین! گزشتہ دو روز سے ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے لکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم صبح خبریں دیکھ کر کہ ایک روز میں 96 اموات ہوئیں، یہ چند سطور تحریر کرنے کی مجبوری لاحق ہو گئی، ورنہ ذکر یوم تکبیر کے حوالے سے ایٹمی صلاحیت کا مقصود ہے۔ بہرحال اب دل کی بھڑاس نکال ہی لیں کہ ایٹمی صلاحیت جیسے قومی خزینے اور دفاع کو بھی تعمیر کے حوالے سے متنازعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، حالانکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی داد ہر اس فریق کے لئے ہے جس نے جو بھی کیا یہ سب ملکی اور قومی دفاع ہی کے لئے کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے جنرل ضیاء الحق، اسحاق خان اور محمد نوازشریف تک سب اس قومی و ملکی دفاع کے حصہ دار ہیں، جس نے جو بھی کیا دفاعی مقاصد کے لئے کیا اور آج یہ ایٹمی صلاحیت امن کی ضامن بن گئی۔ اگرچہ بھارتی تعصب اب بھی جنگ ہی کو ہوا دے رہا ہے، تاہم یہ ایٹمی صلاحیت ہے جو اسے کسی بڑے ایڈونچر سے روکے ہوئے ہے۔

میں تو اس سارے معاملے میں نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو اور اسحاق خان کو داد دیتا ہوں،بلکہ تمام تر تحفظات کے باوجود جنرل ضیاء الحق کی بھی تحسین کرتا ہوں، جنہوں نے بھارت جا کر کانا پھوسی کی اور کہا”ہم نے ایٹم بم شب برات پر پھلجڑی چلانے کے لئے نہیں رکھا ہوا“ اس سلسلے میں اب تک جو کچھ بھی کہا گیا وہ ناروا ہے کہ اس وجہ سے بعض ایسی شخصیات خراج عقیدت سے محروم رہ گئیں جن کو بھٹو کے ساتھ ہی سزائے موت کا حق دار ٹھہرا کر قتل کر دیا گیا اور پھر محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ اس گمنام شخصیت کا بھی ذکر نہیں کیا گیا جس نے فرانس کی طرف سے ایٹمی پلانٹ دینے سے انکار کے بعد پورا پلانٹ ٹکڑوں میں سمگل کرکے ڈاکٹر خان کے لئے مہیا کر دیا تھا۔ میں پہلے بھی تحریر کر چکا اور بوجودہ اس امر کا قائل ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی کے قتل بھی اسی ایٹم بم کے باعث ہیں جسے ان سب کی بدولت اسلامی بم قرار دیاگیا۔ لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے یوں تو ایک سے زیادہ مقاصد تھے، لیکن اس سے ذوالفقار علی بھٹو نے جو فائدہ اٹھایا، وہ بنگلہ دیش منظور کے سیاسی عمل کے ساتھ ہی معاملہ، دفاعی نظام کا حصول بھی تھا کہ اسی مرحلے پر تیسری دنیا والی اصطلاح کے مقابلے میں چوتھی دنیا بنانے کی حکمت عملی طے کی گئی اور یہ سب ذوالفقارعلی بھٹو کی ذہنی ورزش کے ساتھ شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی کا تعاون تھا، بھٹو نے گزارش کی تھی کہ پاکستان کے پاس افرادی قوت اور صلاحیت ہے اگر معاشی تعاون کیا جائے تو اسلامی دنیا کو مغرب کی محتاجی سے نجات دلائی جا سکتی ہے، اس حکمت عملی میں زبردست اور ٹھوس تعاون کے حقیقی معید بھی شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی تھے۔ ہر دو نے ہماری ایٹمی صلاحیت کے لئے خزانے مختص کئے تو افرادی قوت کے لئے بھی اپنے دروازے کھول دیئے۔ آج اسی حکمت عملی کی بدولت غیر ملکی زرمبادلہ مسلسل آ رہا ہے اور اس کی سزا تینوں ہستیاں جان دے کر بھگت چکیں اور پھر یہ بھی نہ بھولیں کہ ایٹمی صلاحیت دفاع کے لئے موثر تر ہے تو اس کی حفاظت اور تحفظ کتنا ضروری ہے کہ دنیا بھی اتنی ہمدرد نہیں کہ پاکستان کی اس صلاحیت کو ٹھنڈے دل سے برداشت کر لے۔ اس کے لئے پاک فوج (مسلح افواج) مبارک باد اور تحسین کی مستحق ہیں کہ انہوں نے تحفظ کے ایسے انتظامات کئے ہوئے ہیں کہ عالمی ادارہ بھی تعریف پر مجبور ہے اور یوں ہماری یہ دفاعی صلاحیت ہماری سلامتی کی ضامن ہے۔

قطع نظر اس حقیقت کے کہ سب نے ملکی تحفظ کے لئے کیا۔ یہ بھی مناسب نہیں کہ ایک اور ہستی کی بھی تعریف نہ کی جائے، جس کی کوشش اور بصیرت سے آج ہم بھارت کے کم از کم ایک سو سے زائد اہداف کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں، یہ محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) تھیں جن کے دور اور کوشش و ہمت سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل ہوئی اور آج ہم اتنی صلاحیت اور اہلیت کے مالک ہیں کہ بھارت کے اہم اہداف کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر سکیں، اس لئے عرض یہ ہے کہ کم از کم قومی امور کو متنازعہ نہ بنائیں۔ باقی رہ گیا احتساب وغیرہ تو یہ سلسلہ الگ ہے اور اسے اپنی جگہ رہنے دیں، سیاست کو سیاست تک محدود رکھیں، تاریخ مسخ نہ کریں اور برائے مہربانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی والی کیفیت کو بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کے مطابق نرم کر دیں۔

مزید :

رائے -کالم -