ٹڈی دل کے لشکر

ٹڈی دل کے لشکر
ٹڈی دل کے لشکر

  

ہماری سیاسی و معاشی فضا مکدر تھی اپوزیشن اور حکومت باہم دست و گریبان تھے نا امیدی اور ناکارکردگی کے بسیرے تھے کہ قدر زر میں کمی نے ایک بھونچال مچا دیا۔ مہنگائی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ غریب، غریب سے غریب تر ہونے لگا۔ سفید پوش طبقے کے لئے اپنی سفید پوشی سنبھالنا مشکل ہونے لگا ایسے میں کورونا وائرس نمودار ہوا۔ چین کے شہر ووہان میں اس نے اپنی چہرہ نمائی کرائی ہلاکت آفرینی دکھائی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کرہ ارض کے چہار سو پھیل گیا 220 سے زائد ممالک میں اپنی حشر سامانیاں دکھا چکا ہے گزرے نومبر، دسمبر میں یہ بلا نمودار ہوئی تھی اس کی ہلاکت آفرینیوں کو چھ مہینے ہو چکے ہیں اس نے انسانی عظمت و طاقت کے ڈھول کے پول کھول دیئے ہیں سینکڑوں سالہ انسانی جدوجہد کے ثمرات پر مشتمل عالمی معیشت کا بھرکس نکال کے رکھ دیا ہے ہمیں ابھی تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کورونا کی وباء انسانی ساختہ تھی یا قدرتی۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس نے وبا کی شکل اختیار کر کے انسان کا شکار کیا ہے گویا یہ آسمانی بلا بن کر انسان پر نازل ہوئی ہے۔ دنیا کی عظیم الشان ترقی یافتہ اقوام جنہیں تہذیب انسانی کی سربراہی کا مقام حاصل تھا بھی اس وبا کے آگے تنکوں کی طرح بہہ گئی ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ فن طب کی حیران کن ترقی کے باوجود ابھی تک اس غیر مرئی جرثومے کو مارنے یا اس سے نمٹنے کا بندوبست نہیں کیا جا سکا ہے۔، قرنطنیہ، سماجی فاصلہ، ماسک وغیرہ جیسی احتیاطی و حفاظتی تدابیر کے علاوہ کچھ بھی ہمارے بس میں نہیں ہے۔

انسان ابھی وائرس کے ہاتھوں پریشان تھا اور ہے کہ ٹڈی دل کے لشکر جرار ہم پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے کھیتوں پر یہ صحرائی ٹڈی دل حملہ آور ہو چکے ہیں یہ صحرائی ٹڈی دل ایران سے بلوچستان اور پھر پورے پاکستان میں پھیلا ہے اب تک پاکستان کے 160 اضلاع کی فصلوں پر حملہ آور ہو چکا ہے ایران سے جنوب مغربی بلوچستان کے راستے پاکستان پر حملہ آور صحرائی ٹڈی دل ایک دن میں 149 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر کھیتی کو اجاڑ کے رکھ دیتا ہے اس سے پہلے 1993 میں ٹڈی دل یہاں حملہ آور ہوا تھا پھر گزشتہ سال مئی کے مہینے میں اس نے حملہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (FAO) کے مطابق پاکستان کے 38 فیصد کھیت اس ٹڈی دل کی افزائش کے مراکز ہیں جن میں 60 فیصد بلوچستان میں واقع ہیں جنوبی سندھ میں 25 فیصد اور پنجاب میں تقریباً 15 فیصد افزائشی مراکز ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹڈی دل 600 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا سکتا ہے یعنی ہمیں 3.72 ارب ڈالر کے برابر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

ہم ابھی تک کورونا کے حملوں سے ہی جانبر نہیں ہو سکے ہیں ہماری قومی اور انفرادی معیشت جاں بلب ہو چکی ہے غربت بڑھ گئی ہے۔ بیروزگاری پھیل چکی ہے معیشت پر نا امیدی اور بے کارکردگی کا بسیرا ہے کہ ایسے میں ٹڈی دل نے ہماری فوڈ سیکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگانے شروع کر دیئے ہیں۔ اس سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت کیا ہے؟ اس بارے میں ہمیں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے ہماری ادارہ جاتی صلاحیت بھی ہمارے سامنے ہے ہم تو عمومی حالات میں بھی معاملات کو درست اور مطلوبہ سمت میں لیجانے کی اہلیت نہیں رکھتے، ہنگامی حالات میں ہماری صلاحیت کیسی ہو گی۔

ترکی، مشکل کے اس وقت میں ہمارے ساتھ شامل حال ہے ترکی نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے ہمیں ایک خصوصی سپرے ایئر کرافٹ بمع 4 کریو ممبران دیا ہے کہ یہ طیارہ ایسے ہی مقاصد کے لئے تیار کیا گیا ہے اور اس کے استعمال کے نتائج بھی ثابت شدہ ہیں۔ دوسری طرف ہمارے کسان روایتی طریقوں سے ٹڈی دل کا مقابلہ کر رہے ہیں۔پنجاب اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں کسان ڈھول کی تھاپ کے ذریعے ٹڈی دل کو ڈرانے اور بھگانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں اس میں کامیابی بھی ملتی ہے،سر دست ٹڈی دل کا لشکر ڈھول کی بیٹ سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لئے کسان کی جان میں جان آ جاتی ہے۔اس کے علاوہ دھواں بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، دھوئیں کے ذریعے آکسیجن کی سپلائی کو معطل کر کے ٹڈی دل کو ہلاک کرنے کی کاوشیں بھی ہمارے کسان کی ذہانت اور محنت کشی کا ثبوت ہیں اس سے بھی ٹڈی دل کے حملے کی شدت کم ہو جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے ہی سہی، ٹڈی دل بے بس ہو جاتا ہے اور کسان کو ریلیف ملتا ہے،لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کاوشیں نفسیاتی طور پر تو ریلیف دے سکتی ہیں،لیکن فی الاصل ان کے اثرات معمولی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید سائنسی طریقوں سے ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے وگرنہ معاملات بے قابو ہونے کی طرف جا رہے ہیں۔

کورونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر کے حتمی نتائج بارے بات کی جا سکتی ہے کہ ”ایسے کریں تو ایسے ہو جائے گا“ گویا معاملات پر قابو پایا جا سکتا ہے،لیکن ٹڈی دل کی آفت ایسی بلا ہے جو قحط کا باعث بن سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو کروڑوں انسان بھوک کا شکار ہو کر موت کی دلدل میں جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر جولائی تک یا اس سے پہلے تک ٹڈی دل کے خاتمے کا بندوبست نہ کیا گیا تو قحط سالی سے بچنا ناممکن ہو جائے گا۔جولائی میں مون سون کا موسم شروع ہو جائے گا اور یہ موسم ٹڈی دل کی وسیع پیمانے پر حتمی افزائش کے لئے نہ صرف موزوں ہو گا،بلکہ یقینی ہے کہ ٹڈی دل کی حیران کن افزائش ہو اور پھر کسی طور بھی اس کی تباہیوں کو روکا نہ جا سکے۔ ٹڈی دل پہلے ہی کپاس، گنا، آم اور دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے، سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی سبزی کو بھی چٹ کر گیا ہے ہم اگر اس کے پھیلاؤ پر قابو نہ پا سکے اور اس نے ہماری سردی کی فصلوں پر بھی حملہ کر دیا تو پھر ہماری فوڈ سیکیورٹی حقیقی خطرات میں گھر سکتی ہے اس طرح ٹڈی دل کے حملے، کورونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوں گے۔

ہندوستان میں تو کورونا وائرس کے حملوں کے باعث کسان پہلے بھی کھڑی فصلوں سے دستبردار ہو چکے ہیں،کیونکہ انہیں فصلوں کی کٹائی اور ان کی نقل و حمل کے لئے افرادی قوت دستیاب نہیں تھی۔ پاکستان کی وزارت فود سیکیورٹی کے ترجمان جاوید ہمایوں نے ایک اخباری بیان میں ماہرین کی طرف سے قحط کے خطرات کا ابطال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستا ن میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ہم نے پہلے ہی مطلوبہ اجناس کا ذخیرہ کر لیا ہے ٹڈی دل کے حملوں سے کھیتوں کی تباہی کے باعث ہونے والی تباہی، ہماری خوراک/ اجناس کی رسد پر اثر انداز نہیں ہو گی اس لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ کرے کہ ہم ٹڈی دل کے لشکروں کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ آمین۔

مزید :

رائے -کالم -