ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

  

کورونا رُت سے پیشتر کسی ریستوراں میں داخل ہو کر ایک آدمی نے پہلے تو کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیا، پھر بغیر پئے ڈرنک واپس کر دی اور کہنے لگا کہ اِس کی جگہ چائے لے آؤ۔ مزے سے چائے کا کپ پی کر جب وہ رخصت ہو رہا تھا تو ویٹر نے اُسے روک کر بِِل کی رقم مانگ لی۔ گاہک نے کہا ”اگر کولڈ ڈرنک کے پیسے چاہئیں تو اُس کی بوتل تو مَیں تمہیں کب کی واپس کر چکا ہوں اور اگر چائے کی قیمت کا مطالبہ ہے تو وہ مَیں نے بوتل کے بدلے منگوائی تھی‘‘۔ یہ واقعہ سُن کر ممکن ہے کہ آپ کی ہمدردیاں گاہک کی بجائے ریستوراں والے کے ساتھ ہو گئی ہوں۔ پھر بھی یہ تو ماننا پڑے گا کہ عملی زندگی میں انسان کئی ایسی حرکتیں کرتا ہے جنہیں پولیس کی دست اندازی کے دائرے میں لانا چاہیں تو وہ بارڈر لائن کیس بن جائیں گی اور آپ یہ سوچتے رہ جائیں گے کہ:

شرع و آئین پر مدار سہی

ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی

قبل از عید ہنگامی شاپنگ میں دکاندار نے سلام کا جواب نہ دیا۔ موٹر وے پر ٹول پلازہ کے اہلکار نے رسید یوں تھما ئی جیسے چپت لگانے کی خواہش رکھتا ہو۔ یا پھر دفتر کے کوئی جونئیر ساتھی جو آپ کو ’شاہد بھائی‘ کہتے نہیں تھکتے تھے، اپنے عہدے میں ترقی ہوتے ہی ’تم‘ کے صیغہ میں بات کرنے لگے۔ یہ اُس رویے کی موٹی موٹی مثالیں ہیں جسے معمولی بحث مباحثہ کے بعد بیشتر لوگ بدتمیزی کی ذیل میں شامل کر سکتے ہیں۔ تو کیا اِن سے کوئی ایسا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے جس کا مدار شرع و آئین پر نہ ہو۔ غالب کے اِس شعر کا پورا لطف اپنے ’ہول ٹائمر‘ چائے نوش استاد زمرد ملک کی زبان سے یہ سُن کر آیا تھا۔ کہنے لگے: ”یار، آج صبح بیٹے کو کانوینٹ اسکول اتارتے ہوئے اُسی کار والی بیگم نے میرے پیچھے آکر کل کی طرح یوں زور سے ہارن بجایا جیسے وہ پھر میرے اسکوٹر کا مذاق اڑا رہی ہوں“۔

منفرد دانشور پروفیسر امین مغل اور اُن کے ساتھی ’بھا‘ ظفر علی خاں تصور کر سکتے ہیں کہ انگریزی ادب کی کلاس ختم ہوتے ہی کالج ٹک شاپ میں ’کیونڈر‘ کا سگریٹ سلگا کر جب اُن کے دوست نے یہ کہانی کہی تو اُس کے دھیمے، شائستہ لہجہ کی پر مزاح ’گٹک‘ کیا مزا دے رہی ہو گی۔ گفتگو کا دلچسپ پہلو بیان کردہ حقائق سے ایک خاص طرح کی لا تعلقی بھی تھی، جیسے یہ واردات مسئلہ ہوتے ہوئے بھی کوئی مسئلہ نہ ہو۔ یوں بھی زمرد صاحب کئی بار کہا کرتے کہ بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے، پندرہ بیس دن گزر جانے پر تو وہ ایک لطیفہ ہی بن جاتا ہے، اِس لیے بہتر ہے کہ آدمی اُسے پہلے ہی لطیفہ سمجھ لے۔ میرا خیال ہے کہ استادِ محترم کی یہ سوچ ’شرع و آئین‘ کے مدار سے باہر کی وارداتوں سے نمٹنے کی حکمت عملی تھی، جسے مَیں شعوری کوشش کے باوجود پوری طرح اپنا نہیں سکا۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی چار سال کی عمر کے ایک واقعے کو یاد کر کے گلا بند ہو جانے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اُس روز دادا کے بڑے بھائی، جنہیں مجذوبانہ کیفیت کی وجہ سے ہم لالہ سائیں کہا کرتے، مجھے کلاس روم کی کھڑکی سے اشارہ کر کے چھٹی سے پہلے ہی بھگا لے گئے۔ آبائی شہر میں امام علی الحق کے چوک میں واقع ہمارے ا سکول کا نام تھا سٹی میموریل، مگر عام لوگوں نے اسے ہمیشہ یحیی شاہ کا اسکول ہی کہا۔ فرار کی کارروائی کو تیزتر کرنے کے لئے لالہ جی نے مجھے اپنے کندھے پہ سوار کر لیا تھا، لیکن ایک ایسے زاویے پر جیسے پاکستانی عورتیں اپنے باپ، بھائی یا شوہر کے پیچھے موٹر سائیکل پہ بیٹھا کرتی ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر لالہ سائیں شمال سے جنوب کی طرف جارہے تھے تو گھر پہنچنے تک میرا رُخ مسلسل مشرقی سمت میں رہا۔

کندھے پہ بیٹھے بیٹھے شاید شرع و آئین کا معاملہ بھی خود بخود طے ہو جاتا، لیکن ڈیوڑھی میں داخل ہونے سے پہلے لالہ جی نے مجھے ہدایت کر دی کہ گھر والوں کے سامنے کہہ دینا کہ اسکول میں چھٹی ہو گئی ہے۔ جھوٹ پر مبنی اِس ارشاد پہ عمل کرنا میری جبلت کے خلاف تھا اور یہ بات بھی آسان نہیں تھی کہ حکم عدولی کر سکوں۔ بس اپنی حالت کا کیا بتاؤں، سوائے اِس کے کہ حلق میں پتھر سے اٹک گئے تھے۔ رُک رُک کر اتنا کہہ سکا کہ اسکول لگا ہوا ہے اور لالہ سائیں مجھے ساتھ لے آئے ہیں۔ لالہ جی نے اسکول بند ہوجانے کے بیان کو اپنی بجائے، مجھ سے منسوب کر دیا۔ اب ایک عمر رسیدہ بزرگ سے کوئی کیا پوچھ گچھ کرتا، مگر میری طرح کبھی آپ نے بھی ماں کے علاوہ بیک وقت چار سیالکوٹی پھو پھیوں کا سامنا کیا ہو تو بقیہ داستان سنانے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ایک تجربہ ولایت میں پڑھائی کے دوران ہوا کہ ایمان افروز تصنیف ’موت کا منظر‘ کی طرز پر والد ِ محترم نے ایک مفصل ’ہدایت نامہء طالب علم‘ ارسال تو کیا مگر ان ہدایات میں سالِ نو کے جشن کے بارے میں چشم پوشی برت گئے۔ چنانچہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ٖایک باریش فوڈ ٹیکنالوجسٹ ڈاکٹر ریاض نے، جو ’پوسٹ ڈوک‘ کر رہے تھے، دو ہم وطن نوجوانوں کو ڈِسکو میں چلنے کی کامیاب ترغیب دے دی۔ ڈِسکو بھی وہ جہاں ’ٹاپ لیس‘ اور ’باٹم لیس‘ شرکاء کو بچوں کی طرح آدھے ٹکٹ کی رعایت حاصل تھی۔ چنانچہ پیسے بچانے کے لئے ہم نے استقبالیہ کاؤنٹر پر اپنی شرٹس جمع کرا دیں۔ افتخار کا تو پتا نہیں، مگر میری ہم رقص نے تو باقاعدہ میرے منہ پہ کہا تھا کہ دفع ہو جاؤ، تمہیں ڈانس کرنا نہیں آتا۔ اس جائے وقوعہ پہ میرا مدار شرع و آئین پر نہیں تھا، مگر عجیب سی حق تلفی بہرحال محسوس ہوئی۔

اب سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی حقوق کی اِن ’بارڈر لائن‘ خلاف ورزیوں کو اُور الجھا دیا ہے۔ فیس بک پر، جسے ’کتابی چہرہ‘ کہنا چاہیے، آپ کو دوستی کا پیغام ملتا ہے یا آپ خود اِس کی درخواست کرتے ہیں، جو کورونا رُت میں جلدی قبول ہو جاتی ہے۔ اگلے مرحلے پر کتابی چہرہ کھُلتے ہی آپ کو لفظوں، رنگوں اور کیفیتوں کے منظر دکھائی دینے لگیں گے اور آپ خوش کہ لو بھئی ’خود علاحدگی‘ کی کیفیت میں ہم بھی ’آہرے‘ لگ گئے۔ ’آہرے‘ لگانے کے لئے مزید آئٹم بھی ہیں۔ بے سمتی کا شکار کرنے والی سیاسی، ادبی اور فکری بحثیں، وزن سے عاری غزلیہ شاعری، ’لوکل پیج‘ والی سِنگل کالم خبریں۔ کسی کی آن لائن برتھ ڈے پارٹی، پوتے یا نواسی کی ولادت، کن کے بیٹے نے کینیڈا سے گریجوایشن کر لی، کس کا شوہر آسٹریلیا پہنچا اور کورونا کے کارن وہیں پھنس گیا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کتابی چہرہ دیکھ کر کسی کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور بار بار ’جھاتیاں‘ مارنے کے درمیان توازن پیدا کیا جائے تو کیسے؟

سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے مین بلاک کے باہر مجھے پائپ پیتا دیکھ کر ایک انڈر گریجویٹ نے میرے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے مَیں نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ”بیٹا جی، میں کاپی رائٹ میٹیریل ہوں‘‘۔ یہ خلافِ توقع مگر اصولی موقف سن کر سڑک پر کھڑے کوئی درجن بھر اسٹوڈنٹس خوب ہنسے اور میری ’ٹوہر‘ بن گئی۔ مگر دو ہی ہفتے بعد اِسی ’کاپی رائٹ میٹیریل‘ والے آدمی نے فیس بک پر یہ عجیب منظر دیکھا کہ وہ گہرے سُرخ رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس مری کی مال پہ ٹہل رہا ہے جبکہ ایک اور جگہ کسی نجی محفل میں کالی واسکٹ پہن کر بظاہر کلاسیکی موسیقی سنی جا رہی ہے۔ تیسری تصویر زیادہ حیران کن لگی جس میں ’کاپی رائٹ‘ والے کی اہلیہ ایک خوبرو نوجوان کو ’جپھا‘ مارے ہوئے تھیں، جو چشمہ لگا کر دیکھا تو اپنا ہی بیٹا اسد نکلا۔

یوں میری ذاتی زندگی کی جو بے حرمتی ہوئی اور میرے ملکیتی حقوق پہ (قانونی زبان میں مع حقِ ترجمہ وغیرہ) جو ڈاکہ ڈالا گیا، اُس کا سوؤ موٹو نوٹس کسی عدالت نے نہ لیا۔ مگر یہ طے تھا کہ میرے ’بارڈر لائن‘ انسانی حقوق کی اِن پامالیوں کے پیچھے کسی نہ کسی گھریلو جاسوس کی کارستانی کو دخل ہو گا۔ پچھلے ہفتے میرے ایک دوست کے ساتھ ہو بہو یہی حرکت تو نہیں ہوئی، لیکن امکانی احتیاط کے باوجود لوگوں کو بعض ایسے فن پارے دیکھنے کو مل گئے جو بھلے تو تھے مگر پہلی ہی نظر میں احساس ہوا کہ ”یہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے‘‘۔ پیچیدگی دُور کرنے کے لئے جب مجھے ’ان فرینڈ‘ کا اشارہ ملا تو دھچکا سا لگا، لیکن یہ واضح تھا کہ اپنی حفاظت کے لئے ہم انسانی طور پہ جو کچھ نہ کرسکیں، وہ فنی سطح پہ کر لینا بہر حال ممکن ہے۔ تو پھر آپ ہی بتائیے کہ ’ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی۔

مزید :

رائے -کالم -