کورونا کا خطرہ کم نہیں ہوا بڑھ گیا ہے

کورونا کا خطرہ کم نہیں ہوا بڑھ گیا ہے
کورونا کا خطرہ کم نہیں ہوا بڑھ گیا ہے

  

ایک دن میں کورونا کے سب سے زیادہ کیسز اور سب سے زیادہ اموات خطرے کی گھنٹی بجا گئے مگر فیصلہ کرنے والے تو کچھ اور ہی سوچ رہے ہیں وہ تو لاک ڈاؤن میں ہر قیمت پر نرمی کرنا چاہتے ہیں، جب دس بارہ کیسز اور ایک دو اموات سامنے آتی تھیں تو بلا سوچے سمجھے سب کچھ بند کر دیا۔ کوئی تیاری کی ا ور نہ لوگوں کو گھروں میں راشن پہنچانے کا کوئی بندوبست کیا، اب جبکہ ایک دن میں 7 9اموات اور اڑھائی ہزار سے زائد کیسز سامنے آ رہے ہیں تو بس لوگوں سے التجا کی جا رہی ہے کہ وہ گھروں تک محدود رہیں کیا لوگوں نے پہلے یہ بات سنی ہے جو اب سنیں گے۔ جب ڈاکٹرز یہ دہائی دے رہے تھے کہ خدا را لاک ڈاؤن نرم نہ کریں، کورونا بے قابو ہو جائے گا، اس وقت کہا گیا کہ ملک ڈاکٹروں نے چلانا ہے یا ہم نے اب ایک دن میں پانچ چھ ڈاکٹرز کورونا کا شکار ہو کر زندگی ہار گئے ہیں تو کسی کے پاس اس کا جواب نہیں کہ فرنٹ لائن سولجرز اس طرح مرتے رہے تو کورونا کے خلاف کون لڑے گا۔ ڈبلیو ایچ او نے ایک واضع وارننگ جاری کی ہے کہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے سخت ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو جولائی کے وسط میں کورونا کیسوں کی تعداد 2 لاکھ ہو جائے گی۔ کیا ہمارا ہیلتھ سسٹم اس بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل ہے۔ آج بھی کئی ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لئے جگہ نہیں رہی، کئی سرکاری ہسپتالوں میں تو فرش پر لٹا کر علاج کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا بتا رہے تھے کہ پورے ملک میں وینٹی لیٹر پر 126 افراد ہیں اور جو وینٹی لیٹر تک پہنچ جائے اس کی زندگی کے امکانات دس پندرہ فیصد رہ جاتے ہیں ایک بڑی تعداد تو ان لوگوں کی بھی ہے جو ہسپتالوں کے بے رحمانہ نظام کیو جہ سے گھروں میں ہی کورونا کی علامات کے ساتھ بیٹھے ہیں، جب حالت سانس اکھڑنے تک آتی ہے تو انہیں ہسپتال لایا جاتا ہے، جو جانبر نہیں ہو سکتے۔

حکومتی وزراء اور مشیروں کی بات سنو تو ان کی سوئی اسی نکتے پر اڑی ہوئی ہے کہ ہم عوام کو بھوک سے نہیں مار سکتے۔ کوئی بھوک سے مرے گا تو دہائی دے سکے گا، کورونا سے مرنے والوں کو تو اذیت ناک تنہائی میں مرنا پڑتا ہے، جس کے بعد ان کی تدفین بھی تنہائی میں کی جاتی ہے دنیا کے دیگر ممالک کی منہ پھاڑ کے مثالیں دینے والے کہ وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی بلکہ اسے ختم کر دیا گیا ہے یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے جو ایس او پیز بنائے ہیں، ان پر عمل کو بھی یقینی بنایا ہے۔ ہماری طرح انہیں ایک مذاق نہیں سمجھا گیا، سختی کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں تو وہاں لاک ڈاؤن کھل رہا ہے۔ یہاں تو ایک دن کے لئے بھی مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا، آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق کام چلایا گیا اب اس کی ذمہ داری کوئی بھی نہیں لے گا کہ عید کی چھٹیوں میں اور اس سے پہلے عید کی خریداری کے لئے لاک ڈاؤن میں جو صریحاً غفلت برتی گئی، اس کے کیا نتائج نکل رہے ہیں یہ کیسوں اور اموات میں جو اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، اس کی وجہ یہی بے احتیاطی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بازار اور شاپنگ مال کھول دو، تو حکومتوں نے اپنی یہ ذمہ داری بھی از خود ختم کر دی کہ ایس او پیز پر عمل کرانا ہے۔ سب کچھ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ نتیجہ سامنے ہے کہ اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

کورونا کہاں کہاں مار کر رہا ہے، اس کا اندازہ گزشتہ چند روز کی اموات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے ایک انجینئر اور نیوز کاسٹر چند دنوں میں جاں بحق ہو گئے۔ نیوز کاسٹر کی والدہ ایک بہن بھی کورونا سے جاں بحق ہوئیں۔ اسلام آباد، گوجرانوالہ، لاہور اور ہنگو میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے چھ ڈاکٹرز جن میں ایک لیڈی ڈاکٹر بھی شامل ہیں کورونا کی نذر ہو گئے کئی سرکاری افسر، بڑے ریسٹورنٹس کے مینجر اور نجی کمپنیوں کے مالکان بھی کورونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کورونا کا شکار ہونے والوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، اس میں یہ قید بھی نہیں کہ کوئی پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہو تو کورونا کا شکار ہوتا ہے۔ اچھے بھلے کام کرتے افراد کورونا وائرس کی لپیٹ میں آکر زندگی ہار رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کرنا کیا چاہئے کیا اسی بیانیئے پر چلنا ہے کہ معیشت اہم ہے اسے چلنا چاہئے یا لوگوں کی زندگی اہم ہے اسے بچانا ضروری ہے۔ اس کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان نے کرنا ہے انہوں نے 31 مئی کو کابینہ کا اجلاس بلایا ہے جس میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ کورونا کے حوالے سے حکومتی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ کیسے کامیاب رہی ہے، یہ بھی تو بتایا جائے۔ ہر طرف ایک خوف و ہراس کی فضا موجود ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ خود 31 مئی تک کورونا مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک ہوتا دیکھ رہے تھے، مگر وہ بڑی تیزی سے 70 ہزار کے ہندسے کو چھونے جا رہی ہے۔ مرنے والوں کی تعداد کا میٹر بھی بڑی رفتار سے چل رہا ہے شاید یہ سطور چھپنے تک وہ پندرہ سو تک پہنچ گیا ہو۔ جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو حکومت اسے بھی نہیں بچا سکی۔ عوام بے روز گار اور مالی طور پر بد حال ہو چکے ہیں ان کے لئے، ریلیف پیکج صرف بارہ ہزار روپے تک آ کے رک گیا اور وہ بھی خوش نصیبوں کو ملا ہے، باقی تو اکثر محروم رہ گئے ہیں کورونا کے اعداد و شمار سے لگتا ہے کہ پاکستان میں تو اس کی اصل انٹری اب ہوئی ہے اب لوگوں کو یقین آنے لگا ہے کہ ان کے اردگرد سے لوگ اٹھتے جا رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کورونا کے حوالے سے عوام سنجیدہ ہوں تو حکومتیں غیر سنجیدہ ہو جائیں۔ دوسروں کی طرح میری اپنی بھی یہ خواہش ہے کہ زندگی نارمل ہو، ہر چیز اپنے معمول کے مطابق کام کرنے لگے۔ معیشت بھی چلے اور معاشرت میں بھی وہی سکھ چین واپس لوٹ آئے جو ہم سے چھن گیا ہے۔ مگر کیا صرف خواہش ظاہر کرنے سے یہ کام ممکن ہے کیا ایک خطرناک وائرس کو جس کا ابھی دنیا میں کوئی علاج نہیں دریافت ہوا اس کی موجودگی میں یہ ممکن ہے کہ حالات نارمل ہو جائیں۔ دنیا نے تو کورونا کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ وہاں احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی گئی ہیں اور حکومتوں نے قوانین بھی ایسے بنا دیئے ہیں کہ کوئی بے احتیاطی کر ہی نہ سکے۔ ہمارے ہاں تو ابھی تک اس بات کو بھی یقینی نہیں بنایا جا سکا کہ ہر شخص باہر نکلتے ہوئے ماسک ہی پہن لے۔ آپ کسی بھی شہر کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیں ماسک پہنے ہوئے لوگ خال خال ہی نظر آئیں گے۔ اتنی لا پروا ہ قوم کو حکومت اگر ان کے حال پر چھوڑ دیتی ہے تو پھر عالمی ادارہئ صحت کی اس وارننگ کو پورا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا جو اس نے پاکستان میں کورونا کیسوں کی تعداد 2 لاکھ تک جولائی کے وسط میں ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے دی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -