ٹڈی دل کے حملے، مشترکہ کوشش کریں!

ٹڈی دل کے حملے، مشترکہ کوشش کریں!

  

پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ٹڈی دل کے حملے سے بچاؤ کے لئے سپرے اور سروے کا کام مسلسل جاری ہے،اطلاع ہے کہ سترہ اضلاع متاثر ہوئے ان میں سے دو صوبہ سندھ اور باقی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ہیں۔پنجاب میں جنوبی حصے کے اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان سے کپاس کی فصل اور آم کے باغات کو نقصان پہنچا، اب صوبائی حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھی ٹڈی دل سے بچاؤ پر غور کیا گیا،وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ٹڈی دل کے حملے سے پہلے ہی بچاؤ کے انتظامات کئے جائیں کہ جون اور جولائی میں شدت کی خبر ہے۔انہوں نے اپنا ہیلی کاپٹر بھی بچاؤ اور سپرے کے لئے مختص کر دیا ہے۔پی ڈی ایم اے اور پنجاب حکومت کی تیاریاں اور انتظامات اپنی جگہ، تاہم ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق ٹڈی دل نے بلوچستان اور سندھ کے متعدد اضلاع میں تباہی مچانے کے بعد جنوبی پنجاب پر بھی حملہ کیا اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا،اس سلسلے میں کسانوں اور سندھ حکومت کی شکایات بھی منظر عام پر آئیں اور بتایا گیا کہ کسانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت روایتی طریقوں سے ٹڈی دل کو بھگانے کا اہتمام کیا اور ٹین کے کنستر پیٹتے رہے۔اطلاعات، انتظامات اور اعلانات اپنی جگہ،مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں آم، جنوبی پنجاب میں کپاس اور آموں کے باغات کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے اور زمیندار و کسان مطمئن نہیں ہیں۔اب یہ بھی خبر ہے کہ بھارتی راجستھان میں بڑی تباہی پھیلانے کے بعد ٹڈی دل کا اگلا شکار تھر (سندھ) اور جنوبی پنجاب کے علاقے ہیں، اِس لئے لازم ہے کہ شکایات اور تنازعات کو ایک طرف رکھ کر اجتماعی کوششیں کی جائیں اور اس پرانی وبا کے تازہ حملوں سے فصلوں کا تحفظ کیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -