مساجد،بازاروں اور دوران سفر ماسک لازمی،پنجاب حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید نرمی،منہ اور ناک ڈھانپنے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ

  مساجد،بازاروں اور دوران سفر ماسک لازمی،پنجاب حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ مساجد، بازاروں اور دیگر پرہجوم مقامات پر ماسک پہننا لازم قرار دیا ہے، جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کر نے کی ضرورت ہے،آنیوالے دنوں میں ہمارے کیسز اور بدقسمتی سے اموات بھی بڑھیں گی، لوگوں سے اپیل ہے قوم اور لوگوں کو صحیح معلومات پہنچائیں، صحیح رہنمائی کریں اور درست معلومات فراہم کریں،پاکستان کے نئے نظام ریسورس منیجمنٹ سسٹم سے جلد تفصیل سے آگاہ کریں گے اور پاکستان میں بستروں، آئی سی یو اور وینٹی لیٹرز اور دیگر سہولیات کی کیفیت پر بریفنگ دیں گے۔ ہفتہ کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں معاون خصوصی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ظفر مرزا نے کہا جیسے کیسز اور اموات بڑھ رہی ہیں تو جو احتیاطی تدابیر دی گئی ہیں ان پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کرماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاک آپ دفتر یا باہر کہیں بھی ہوں اور سمجھتے ہوں کہ سماجی فاصلہ رکھنا ہے تو وہاں ماسک پہننا لازمی ہے، پرہجوم جگہوں پر ماسک پہننا ہم نے لازمی قرار دیا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ مساجد، بازاروں، شاپنگ مالز، ذرائع آٓمد رفت چاہے جہاز، ریل، بس یا ویگن ہو یہاں ماسک پہننا لازم ہے۔ ہم اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کے قریب ٹیسٹ کرچکے ہیں اور مصدقہ کیسز کی شرح 12.4 فیصد ہے۔ہم نے پچھلے 24 گھنٹوں میں 12 ہزار20 ٹیسٹ کیے جسکے نتیجے میں 2 ہزار 429 ٹیسٹ مثبت آئے اور اگر صرف پچھلے 24 گھنٹوں کا جائزہ لیں تو اس کی شرح تقریباً20.4 فیصد بنتی ہے۔جب سے کورونا آیا ہے مثبت ٹیسٹ کی تعداد بتدریج بڑھتی گئی اور اب یہ 20 فیصد سے زائد تک پہنچ چکی ہے، پاکستان میں 36 فیصد لوگ صحت یاب ہوئے۔ ان اموات کی نشاندہی ہم کافی عرصے سے کررہے تھے کیونکہ جس طرح پاکستان میں وبا پھیل رہی ہے اورمقامی سطح پرمنتقلی کے کیسز کی تعداد92 فیصد ہے۔یہ امکان تھا ہے اور ابھی مستقبل میں کچھ عرصے رہنے کا امکان بھی ہے کہ ہمارے کیسز اور بدقسمتی سے اموات بھی بڑھیں گی۔ وی کیئر پروگرام کے تحت ڈاکٹر ہماری اولین ترجیح ہیں جو قوم کی خدمت کررہے ہیں، اس حوالے سے کئی اقدامات بھی کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں بعض اوقات بڑے ذمہ دار افراد بھی غلط معلومات دیتے ہیں یا ان کا مقصد یاسمت صحیح نہیں ہوتی۔ تمام افراد سے درخوست کرتا ہوں کہ وہ قوم اور لوگوں کو صحیح معلومات پہنچائیں، صحیح رہنمائی کریں اور درست معلومات فراہم کریں۔ یقیناکہیں کوتاہی ہوسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں وہاں پر ہنگامہ آرائی کی جائے اورلوگوں کو نشانہ بنایا جائے، اس سے مجموعی صورتحال خراب ہوگی۔ میڈیا اور دیگر جگہوں میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام بیٹھ گیا ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان کے نئے نظام ریسورس منیجمنٹ سسٹم سے جلد تفصیل سے آگاہ کریں گے

ظفرمرزا

لاہور، کراچی (جنرل رپورٹر،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب نے لاک ڈاون میں مزید نرمی کا فیصلہ کر لیا، ایس او پیز کے مطابق مختلف اداروں کو کھولنے کیلئے وفاق کو سفار شات پیش کرنے پر اتفاق کرلیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدات کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے جلاس میں شرکاء نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کیلئے تجاویز اور سفارشات پیش کیں، ایس او پیز کے مطابق مختلف اداروں کو کھولنے کیلئے وفاق کو سفارشات پیش کرنے پر اتفاق کیساتھ صوبہ بھر میں منہ اورناک ڈھانپنے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔حکومتی سفارشات کے تحت انتظامیہ، پولیس اور ٹریفک وارڈن منہ اورناک نہ ڈھانپنے والے افراد کو تنبیہ کر سکیں گے۔اجلاس میں ایک ہزارلیڈی ڈاکٹرز کے انٹرویوزکی اجازت دیدی گئی جس کے بعد پبلک سروس کمیشن ایس او پیزپر عملدرآمد کو یقینی بنا کر تحریری امتحان اور انٹرویوز لے سکے گا جبکہ این سی او سی کو نئی بھرتیوں کی اجازت کے فیصلے سے آگاہ کیاجائے گا۔مقامی طو رپر وینٹی لیٹر اور ریسپارائٹر کی تیاری کی اجازت کیلئے ڈریپ سے رجوع کیاجائیگا۔ صوبے میں پارکس کھولنے، تجارتی اداروں کے نئے اوقات کار اور 2 دن تعطیل کا فیصلہ بھی این سی او سی سے مشروط کردیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیاکہ لاہور کے میو اورجناح ہسپتال میں پلازما ڈونرز کی فہرستوں کی تیاری شروع کر دی گئی،ایکسپرٹ پروٹوکول کے تحت نازک حالت میں کورونا مریض کا پلازما سے علاج کیا جاسکے گا۔لاہور میں کورونا مریضوں کی نقل و حمل کیلئے سنٹرل کنٹرول روم میو ہسپتال میں بنایا جائیگا اور ڈاکٹر اسد اسلم سنٹرل کنٹرول روم کے آپریشن کمانڈر ہو ں گے۔ پنجاب میں 2لاکھ 28ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔پنجاب میں کورونا مریضوں کیلئے بیڈز یا سہولیات کی کوئی کمی نہیں۔ایک ہزار سے زائد بیڈ ابھی تک خالی ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے آگاہ کیاکہ کورونا اخراجات سے متعلق اعدادوشمار محکمانہ ویب سائٹ پر میسر ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وفاق سے 1500 وینٹی لیٹر فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی- میسر وسائل میں کورونا سے بچاؤ کیلئے بہترین اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ریسٹورنٹس،کیفے وغیرہ کھولنے سے متعلق وفاق کی ہدایات پر عمل کیاجائیگا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کورونا کے کسی مریض کو سرکاری ہسپتال میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ صوبائی وزراء عبدالعلیم خان،راجہ بشارت، یاسمین راشد،میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،آئی جی،سیکرٹری پرائمری ہیلتھ، سیکرٹریز خزانہ واطلاعات،کمشنر لاہورنے اجلاس میں شرکت کی جبکہ دیگر اعلیٰ حکام کی ویڈیولنک کے ذریعے اپنے دفاتر سے اجلاس میں شریک ہوئے۔ادھر کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے یکم جون (پیر) سے شہر میں بسیں چلانیکا اعلان کردیا۔صدرکراچی ٹرانسپورٹ اتحاد ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے ضابطہ کار (ایس او پیز) پر عمل کریں گے۔ ارشاد بخاری کاکہنا ہے کہ اگرگاڑیاں بند کی گئیں اور ڈرائیور گرفتار ہوئے تو دھرنا دیں گے۔خیال رہے کہ سندھ میں کورونا کے پھیلا ؤ کو روکنے کیلئے صوبے بھر میں 23 مارچ سے پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد ہے۔اس حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں آن لائن ٹیکسی سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کیلئے ایس او پیز تیار کرلیے گئے ہیں۔ صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے سے متعلق فیصلہ ڈاکٹرزکی ہدایات کی روشنی میں کیا جائے گا۔ سماجی دوری کے اصول پر عملدرآمد کیساتھ اور سینیٹائزیشن کیساتھ ٹرانسپورٹ کھولنا چاہتے ہیں۔

لاک ڈاؤن نرمی

اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد، گلگت بلتستان (سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا سے مزید 78 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 1443 ہو گئی جبکہ 3136مزیدنئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 68283 تک پہنچ گئی۔اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 445 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ سندھ میں 427 اور پنجاب میں 439 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 46، اسلام آباد 23، گلگت بلتستان میں 9 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز ہفتہ ملک بھر سے اب تک کورونا کے مزید 3136 کیسز اور 78 ہلاکتیں سامنے آئیں جن میں پنجاب سے 1140 کیسز 29 اموات،سندھ میں 1247نئے کیسزاور38اموات، خیبر پختونخو ا میں 457کیسز اور8اموات،بلوچستان 159 کیسز، اسلام آباد 92 کیسز اور آزاد کشمیر سے 7 کیسز اور ایک ہلاکت جبکہ گلگت بلتستان میں 18نئے کیسز اور2اموات رپورٹ ہوئیں۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1140 کیسز اور 29 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 24104 اور ہلاکتیں 439 ہوگئی ہیں۔صوبے میں اب تک کورونا سے صحتیاب ہونیوالوں کی تعداد 6507 ہوگئی ہے۔سندھ میں کورونا وائرس سے مزید 1247 افراد متاثر جبکہ ایک روز کی سب سے زیادہ 38 اموات سامنے آگئیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 481 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 1247 کے نتائج مثبت آئے۔ان نئے کیسز کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 27 ہزار 360 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38 اموات بھی ہوئیں اور کورونا کے باعث اموات بڑھنے پر دل افسردہ ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ روز ایک دن میں 31 اموات سامنے آئی تھیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا ہفتہ کے روز ہونیوالی 38 اموات کے بعد مجموعی تعداد 465 تک پہنچ گئی ہے۔بلوچستان میں کورونا کے مزید 159 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کی تصدیق محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کل کیسز کی تعداد 4087 جبکہ اب تک 46 اموات ہوچکی ہیں۔اس کے علاوہ صوبے میں کورونا سے صحت یاب ہونیوالے مریضوں کی تعداد 1400 ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے بروز ہفتہ کورونا وائرس کے مزید 92 کیسز سامنے آئے جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 2192 ہوگئی جبکہ اموات 23 ہو چکی ہیں۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 161 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔دوسری طرف اسلام آباد میں کورونا وباء کی صورتحال سنگین ہونے سے متعلق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیسز کی تعداد 3 ہزار سے بڑھنے پر اسلام آباد کے ہسپتال صورتحال سے نمٹ نہیں سکیں گے، وفاقی دارلحکومت میں کل 90 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ قرنطینہ سینٹرز میں بھی مزید گنجائش نہیں ہوگی، لاک ڈاون ممکن نہیں تو لوگوں کی جانیں بچانے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے صرف آئی 10 سیکٹر میں کورونا کے 157 پازیٹیو کیسز موجود ہیں، دو سر ے شہروں کے آنیوالے کورونا کے 63 مریض بھی اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہفتے کو مزید 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 453 تک جا پہنچی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق کے پی میں مزید 473 مریض سامنے آئے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 9540 ہوگئی جبکہ اب تک 2809 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔گلگت بلتستان سے ہفتے کو کورونا کے مزید 18 کیسز اور 2 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جس کے بعد گلگت بلتستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 678 ہوگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 11 ہے۔آزاد کشمیر میں بھی گزشتہ روزکورونا کے مزید 7 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔حکومتی اعدادو شمار کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 234 ہوگئی ہے جبکہ علاقے میں اب تک وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 105 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

پاکستان کورونا

نیویارک، لندن، برسلز، ابوظہبی،نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 70ہزار سے زائد نئے کیسزسامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 61 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی جبکہ گزشتہ روز دنیا بھر میں 2559اموات کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ69 ہزار 890 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 30 لاکھ 5 ہزار 744 مریض اب بھی ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 53 ہزار 733 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 26 لاکھ 61 ہزار 120 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔امریکہ تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی اب تک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں آج بروز اتوار سے سرکاری ادارے اور سرکاری محکمے کھل جائیں گے، سرکاری اداروں کے ملازمین کی مرحلہ وار واپسی ہوگی، جبکہ بھارت میں حکومت نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن کل سے مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے گزشتہ روزمزید556اموات ہوئیں جس کے بعدوہاں ہلاکتوں کی تعداد 1 لاکھ 5 ہزار 542 ہو گئی جبکہ بیمار ہونیوالوں کی مجموعی تعداد 17 لاکھ 93 ہزار 530 ہو چکی ہے۔امریکہ کے ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں 11 لاکھ 69 ہزار 419 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 17 ہزار 204 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 5 لاکھ 19 ہزار 569 کورونا مریض اب تک شفایاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مما لک کی فہرست میں برازیل دوسرے نمبر پر ہے جہاں گزشتہ روز مز ید 85اموات ہوئیں اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار944ہو گئی جبکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 69ہزار 338 تک جا پہنچی ہے۔کورونا وائرس سے روس میں مز ید 189 اموات کے بعد ہلاکتیں 4 ہزار 477ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 87 ہزار 623 ہو چکی ہے۔سپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 85 ہزار 644 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اس وبا سے اموات 27 ہزار 121 ہو چکی ہیں۔برطانیہ میں گزشتہ روز235ہلاکتوں کے بعد اموات کی تعداد 35 ہزار 561 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 222 ہو گئی۔اٹلی میں مز ید 122اموات سے کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 33 ہزار 429 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 2 لاکھ 32 ہزار 948 رپورٹ ہوئے ہیں۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 28 ہزار 714 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 86 ہزار 835 ہو گئے۔جرمنی میں کورونا سے کْل اموات کی تعداد 8 ہزار 594 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 83 ہزار 19 ہو گئے۔بھارت میں گزشتہ روز225اموات کے بعد کورونا وائرس سے5 ہزار 980 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ مریضوں کی تعدا د 1 لاکھ 73 ہزار 763 ہو گئی۔ ادھر میکسیکو میں وباء تیزی سے پھیل رہی ہے جس کے باعث گزشتہ روز بھی وہاں 384اموات ہوئیں۔ ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونیوا لوں کی تعداد 4 ہزار 489 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 62 ہزار 120 ہو گئے۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 7 ہزار 677 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 46 ہزار 668 ہو گئے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا وہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 82 ہزار 999 اور اس سے اموات 4 ہزار 634 ہوگئی ہیں۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 458 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 81 ہزار 766 تک جا پہنچی ہے۔دوسری طرف بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں وزارتیں، سرکاری ادارے اور سرکاری محکمے آج اتوار سے کھل جائیں گے البتہ صرف 30 فیصد ملازمین ڈیوٹی دیں گے، وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے ملازمین کی مرحلہ وار واپسی ہوگی۔ جن ملازمین کو پہلے دفاتر آنے سے استثنیٰ دیا گیا تھا، انہیں اب بھی استثنیٰ ہوگا اور وہ گھر سے کام کر تے رہا کریں گے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جن ملازمین کو اب بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت ہے ان میں حاملہ خواتین، معذور افراد، وہ ملازمین جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے، وہ ملاز مین جو مستقل بیماریوں میں مبتلا ہیں اور وہ جنہیں معمر کہا جاتا ہے، شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین جن کے بچوں کی عمریں 9 سال سے کم ہیں اور جنہیں نگہداشت کی ضرور ت ہے، یا جن کے بچے بیمار یا معذور ہیں انہیں بھی گھر سے کام کرنے کی اجازت ہے۔تمام سرکاری اداروں میں ملازمین کی کل تعداد کے حساب سے صرف 30 فیصد ملازمین کو ڈیوٹی پر بلایا جارہا ہے، باقی ملازمین گھر سے کام کرتے رہیں گے۔ ملازمین کے دفتر آنے کی شرح وقت کیساتھ بڑھا دی جائے گی۔ادھربھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کو ختم کردیا گیا ہے۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن کو ختم کیا جائے، تاہم لاک ڈاؤن ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں تمام ریاستوں اور اداروں کو کھول دیا گیا ہے بلکہ یہ مرحلہ وار ہوگا، جبکہ 30جون تک مخصوص علاقوں میں لاک ڈاؤن برقرار رہے گا۔امیت شاہ نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں عبادت گاہیں،ریسٹورنٹس اورشاپنگ مالز کھولے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں ریاستی حکام سے مشورے کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا جائے گا، میٹروٹرینز اور سینما ہالز کے حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائیگا۔

کورونا دنیا

مزید :

صفحہ اول -