سندھ میں سکولوں کے نام پر بنائی بلڈنگیں جانوروں کی آماجگاہیں، حلیم عادل شیخ

سندھ میں سکولوں کے نام پر بنائی بلڈنگیں جانوروں کی آماجگاہیں، حلیم عادل شیخ

  

کراچی (این این آئی)پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کے ملیر کے مختلف علاقے مظفرآباد کالونی میں آصفہ بھٹو ڈگری کالیج و سیکنڈری گرلز اسکول، گوٹھ صالح محمد میں ڈگری کالیج کے دورے کئی سال سے بنائے گئے اسکول و کالیج عرصہ دراز گذرنے کے باوجود فنکشنل نہ ہوسکے۔ علاقہ مکینوں کی شکایات پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے مقامی پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ دورے کئے۔ آصف بھٹو ڈگری کالیج کے دورے پر میڈیا سے بات چیت کرتے حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ میں چوری کی داستانیں ہیں جن پر 18ویں ترمیم بنایا گیاہے۔ ملیر کے مختلف علاقوں میں عرصہ دراز سے آصفہ بھٹو گرلز ڈگری کالیج، بوائز ڈگری کالیج، سینکڈری گرلز اسکول سمیت کئی ھائی اسکول و پرائمری اسکولوں کی بلڈنگیں بنائی گئی ہیں جن کو عرصہ دراز گزرنے کے باوجود چلایا نہیں کیا جس کی وجہ سے علاقہ مکین تعلیم سے محروم ہورہے ہیں،کروڑوں کی بلڈنگ بننے کے بعد بند ہونے سے تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ پچھلے دنوں بڑا زور پڑا تھا کہ 18ویں ترمیم پر ناجانے کوئی زیادتی کہ جارہی ہے۔ ہم سمجھے تھے کہ 18ویں ترمیم نے عوام کو بہت فائدہ پہنچایا ہوگا کچھ دن پہلے دادو کی ہائی اسکول گئے دو سو بھینسیں اسکول میں تھیں۔ اسکولوں و کالیجوں کو سندھ میں جانوروں کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ 18ویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں بہت اچھی ترمیم ہے۔ صوبے مضبوط ہونگے تو وفاق مضبوط ہوگا سندھ میں 18ویں ترمیم کا غلط فائدہ اٹھایا گیا وفاق سے عوام کے نام پر ملنے والا بجٹ جعلی اکاؤنٹوں میں ڈال کر منی لانڈرنگ کی گئی۔ ہم گراؤنڈ پر جاکر 18ترمیم کے اوپر بنائے گئے قبرستان دکھا رہے ہیں۔ بڑی بڑی بلڈنگ صرف کرپشن کے لئے بنائی گئی انکی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی نے اپنے ووٹرس کو بھی کوئی سہولیات نہیں دی۔ ملیر میں کئی اسکول بننے کے بعد بھی ویران پڑے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم کو تباہ کیا گیا۔ سندھ حکومت کا اصل روپ دنیا کو دکھانے نکلیں ہیں۔ پورے سندھ جاکر دنیا کو دکھائیں گے کس طرح پیپلزپارٹی نے سندھ کو برباد کیا ہے کراچی سے لیکر لاڑکانہ تک عوام پیپلزپارٹی کے خلاف ہوچکی ہے۔ ڈگری کالیج کروڑوں کی مالیت سے بنایا گیا مگر بلڈنگ آباد نہ ہو سکی۔12 سالوں سے اربوں کا بجٹ ملنے کے باوجود تعلیم میں کوئی بہتری نہیں لائی گئی۔

حلیم عادل شیخ

مزید :

صفحہ آخر -