تمام شعبوں کو ان پٹ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ سہولت فراہم کیجائے‘ احمد وحید

  تمام شعبوں کو ان پٹ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ سہولت فراہم کیجائے‘ احمد وحید

  

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں کاروبار کے تمام شعبوں کو آؤٹ پٹ ٹیکس کا 100فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے اور اس مقصد کیلئے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشنB 8 میں ضروری ترمیم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ کاروباری شعبہ کرونا وائرس کی وجہ سے اپنی بقا کیلئے جدوجہد کر رہا ہے ان حالات میں رجسٹرڈ افراد کو آؤٹ پٹ ٹیکس کا صرف 90فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی سہولت دینا ایک بہتر فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رجسٹرڈ افراد مقامی مارکیٹ سے گڈز اور سروسز خریدتے ہیں، نیلامی میں اشیاء خریدتے ہیں یا باہر سے امپورٹ کرتے ہیں تو حکومت ان سے اس وقت سیلز ٹیکس وصول کرتی ہے جو ان پٹ ٹیکس کہلاتا ہے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی سیکشن 8Bکے تحت ایسے رجسٹرڈ افراد کو اپنے آؤٹ پٹ ٹیکس کا صرف 90فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحرانی کیفیت کے پیش نظر حکومت کو چاہیے کہ وہ آئندہ بجٹ میں رجسٹرڈ افراد کو آؤٹ پٹ کا 100فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرے۔ محمد احمد وحید نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے اکتوبر 2019میں جاری کردہ 1190 (1) SROکے تحت الیکٹرک انرجی سیکٹر میں رجسٹرڈ افراد، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پیٹرولیم ریفائنریز، کھاد مینوفیکچررز، گیس کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت کچھ شعبوں کو آؤٹ پٹ ٹیکس کا 100فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی سہولت فراہم کی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کیا گیا جس سے معیشت کے تمام شعبوں کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے لہذا کاروباری طبقے کی موجودہ مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت آئندہ بجٹ میں معیشت کے تمام شعبوں کوآؤٹ پٹ ٹیکس کا سو فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام رجسٹرڈ افراد کو آؤٹ پٹ ٹیکس کا سو فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دینے کے لئے حکومت بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 8 بی میں ترمیم کرے تا کہ ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس کے درمیان جو 10فیصد کا فرق ہے اس کو ختم کیا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

مزید :

کامرس -