امریکہ میں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث 4کروڑ سے زائد افراد بیروزگار ہوگئے

امریکہ میں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث 4کروڑ سے زائد افراد بیروزگار ہوگئے

  

واشنگٹن(آن لائن) امریکہ کے محکمہ محنت نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے مزید 21 لاکھ افراد نے اسے بیروزگار ہونے سے متعلق آگاہ کیا ہے اسی طرح مارچ سے اب تک ذریعہ آمدن کھونے والے امریکیوں کی تعداد چار کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں 33 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی تھی۔اس کے بعد ہر ہفتے یہ تعداد بالترتیب 69 لاکھ، 66 لاکھ، 52 لاکھ، 44 لاکھ، 38 لاکھ، 31 لاکھ، 27 لاکھ، 24 لاکھ اور 21 لاکھ رہی۔ محکمہ محنت کے ریکارڈ کے مطابق 4 کروڑ 7 لاکھ افراد کے پاس حکومت کی امداد کے سوا آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔سرکاری اعدادوشمارکے مطابق امریکہ کے ایک چوتھائی سے زیادہ کام کرنے والے بیروزگار ہوچکے ہیں۔ریاست نیواڈا میں ان کی شرح 26.7 اور فلوریڈا میں 25 فیصد ہے جبکہ سب سے بڑی ریاست کیلی فورنیا میں 20.6 فیصد ورک فورس گھر پر بیٹھی ہے۔ فورڈ موٹرز ایک ملازم کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ریاست مزوری کے کینساس سٹی میں واقع اسمبلی پلانٹ کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح شکاگو اور ڈئیربورن میں فورڈ کے دو دوسرے پلانٹ بھی وقتی طور پر بند کیے گئے ہیں۔اوبر جیسی کمپنی لفٹ نے 29 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ وہ 982 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے جب کہ مزید 288 کو بلا تنخواہ رخصت پر بھیجا جا رہا ہے یہ اس کی ورک فورس کا چھٹا حصہ یعنی 17 فیصد ہے اخراجات کم کرنے کے دوسرے اقدامات میں اعلیٰ انتظامی افسروں کی تنخواہ میں کٹوتی بھی شامل ہے۔کار رینٹل کمپنی ہرٹز نے 20 اپریل کو بتایا تھا کہ وہ اپنے 10 ہزار ملازمین کو رخصت کرنے والی ہے اس کے ملازمین کی کل تعداد 38 ہزار ہے۔ا ئیر بی این بی کے ذریعے کسی بھی شہر میں قیام کا بندوبست کیا جا سکتا ہے اس نے بھی اپنی 25 فیصد ورک فورس یعنی 1900 ملازمین کو 5 مئی کو فارغ کر دیا تھا۔میک اپ اور جیولری فروخت کرنے والی کمپنی سیفورا نے 31 مارچ کو اپنے 3 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔جن مزید کمپنیوں نے ملازمین فارغ کرنے کا کہا ہے ان میں ڈیپارٹمنٹل سٹور چین میکیز، انڈرآرمر، آکشن ہاؤس سودبائیز، سکوٹی کمپنی برڈ، الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا اور ویمن کوورکنگ کمپنی ونگز شامل ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -