1ارب کی خطیر رقم سے پنجاب میں ٹڈی دل کیخلاف بڑا آپریشن شروع

1ارب کی خطیر رقم سے پنجاب میں ٹڈی دل کیخلاف بڑا آپریشن شروع

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیا ل نے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے ہنگامی حالت نافذکرکے 1ارب روپے کی خطیر رقم جاری کردی گئی ہے۔ ٹڈی دل کی موثر نگرانی کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر وقف کردیا ہے۔پنجاب لوکسٹ کنٹرول پلان مرتب کرکے پی ڈی ایم اے،تمام ڈویژنز اور اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کردئیے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب (بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر زراعت توسیع شہزاد صابر،ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ ڈاکٹر محمد اسلم،ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر زراعت نے مزید کہا کہ گزشتہ جولائی سے لیکر اب تک ٹڈی دل کے حملہ سے پنجاب کے متاثرہ 24اضلاع میں 1کروڑ 47لاکھ سے زائد رقبے پر ٹڈی دل کی موثر نگرانی کی جاچکی ہے۔اینٹی ٹڈی دل سکواڈ کی جانب سے جدید ترین آلات ومشینری کے ذریعے 7لاکھ56ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر75ہزار لٹر سے زائد زرعی ادویات کا سپرے کیا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد ٹڈی دل دوسری بڑی قدرتی آفت ہے جس کے کنٹرول کیلئے محکمہ زراعت بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔مکڑی کی سمر بریڈنگ کنٹرول کرنے کیلئے فضائی سپرے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔محکمہ زراعت،پی ڈی ایم اے،پاک آرمی اور ضلعی انتطامیہ کے افسران واہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں ٹڈی دل کی سرولنس اور کنٹرول آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ٹڈی دل کے بڑے سوارم کے پی کے سے لیہ،بھکر،میانوالی،خوشاب اور جھنگ کے اضلاع میں داخل ہوئے۔بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ بگٹی،رکنی، بارکھان سے ٹڈی دل کے سوارم راجن پوراورڈی جی خان کے اضلاع میں داخل ہوئے۔اب ٹڈی دل چولستان،راجستھان اور تھر کی طرف محو سفر ہے۔اب سوارم خانیوال،مظفر گڑھ،ملتان،لودھراں،وہاڑی،راجن پور،رحیم یار خان،بہاولپور،بہاولنگر اور ڈی جی خان سے ہوتے ہوئے چولستان اورراجستھان کی طرف سمر بریڈنگ کیلئے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چولستان میں سرولنس اور کنٹرول بارے مکمل تیاری کرلی گئی ہے۔ عید کی چھٹیوں کے دوران بھی محکمہ زراعت،پی ڈی ایم اے،پاک آرمی اور ضلعی انتظامیہ کے تحت سرولنس اور آپریشنل سرگرمیاں جاری رہیں۔محکمہ زراعت کی بروقت کارروائیوں اور بہترین حکمت عملی کی بدولت پنجاب میں فصلوں کو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا۔تاہم کہیں کہیں فصلوں کو پہنچنے والے مکمل یا جزوی نقصان کے سروے کیلئے محکمہ زراعت و ریونیو کے افسران کی ڈیوٹیا ں لگا دی گئی ہیں۔ حکومت پنجاب نے سپرے مشینری اور زہریں ہنگامی بنیادوں پر خرید کر فیلڈمیں فراہم کی ہیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے3 ہزار سے زائد ورکرز اور328 گاڑیاں ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس وقت محکمہ زراعت کے پاس 20ہزار لٹر زہروں کا سٹاک موجود ہے مزید 50ہزار لٹرآئندہ چند روز تک خرید کر لی جائے گی۔ 2ہزار سے زائد مختلف قسم کی سپرے مشینیں موجود ہیں۔ وفاقی ادارہ پلانٹ پروٹیکشن کے پاس 68ہزار لٹر میلاتھیان کا سٹاک بہاولپور میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے مکمل تدارک تک تمام متعلقہ محکموں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان سرگرمیوں کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔مقامی نمبرداروں اور کاشتکاروں کو بھی سرولنس اور کنٹرول آپریشن میں حصہ لینے کیلئے کہا جارہا ہے۔ وزیر زراعت پنجاب نے جعلی زرعی ادویات کھادوں کے خلاف جاری مہم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ زرعی ادویات وکھادوں کی قیمتوں اور کوالٹی کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔حکومت پنجاب معیاری زرعی ادویات و کھادوں کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ملاوٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جنوری 2020سے اب تک 4کروڑ 36 لاکھ روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات پکڑی گئیں۔2020کے دوران شعبہ پیسٹ وارننگ کے تحت 83ریڈز کئے گئے،10جعلی پیسٹی سائیڈز کمپنیاں پکڑیں،77ایف آئی آرز کا اندراج کرایا گیا اور 44 ملزمان کو پکڑ کر حوالہ پولیس کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق کپاس کی بحالی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔کورونا وائرس اور ٹڈی دل جیسی قدرتی آفات کے باوجودکپاس کی بہتر نگہداشت اور فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -