عظمیٰ خان تشدد معاملہ، معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی میدان میں آگئے،بڑا مطالبہ کر دیا

عظمیٰ خان تشدد معاملہ، معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی میدان میں آگئے،بڑا ...
عظمیٰ خان تشدد معاملہ، معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی میدان میں آگئے،بڑا مطالبہ کر دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان علما کونسل کے چیئرمین،معرو ف عالم دین اور سکالر علامہ حافظ طاہر محموداشرفی نے بھی عظمیٰ خان کے معاملے پر خاموشی توڑدی ،اُن کا کہناتھاکہ تحقیقات میں پتہ چلا کہ دوسری فریق خاتون ملک ریاض کی بیٹی نہیں ہے لیکن ایک بیوی کا یہ حق نہیں کہ وہ اپنے خاوند کا خیال رکھے ؟جس نے اپنے خاوند کیلئے پوری زندگی دیدی،وہ خاتون جو کہہ رہی ہے کہ میرے ناجائز تعلقات ہیں، وہ تو بڑی مظلوم ہے اور وہ جس خاتون سے نکاح ہے، اس سے اولاد ہے، وہ اس کے گھر والی ہے،اس غریب کا کوئی حق نہیں؟۔

اپنے ویڈیو پیغا م میں علامہ طاہر اشرفی نےکہاکہ"گزشتہ دو چار روز سے ہم بہت سن رہے ہیں کہ جناب ملک ریاض صاحب کی بیٹی،جبکہ تحقیقات میں توپتہ چلا کہ اُن کی بیٹی نہیں  لیکن پھر بھی ایک بیوی کا کیا  حق نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کا خیال رکھے ؟اپنے خاوند کے لیے جس نے اپنی زندگی دے دی ہو اور منکوحہ ہو اور اس سے اولاد ہو، تو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے خاوند کو دیکھے کہ وہ کدھر جاتا ہے کدھر نہیں جاتا؟۔

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہوا؟سوال یہ ہے کہ کیا ایک خاتون آکر اعتراف کر لے کہ میں دو سال سے ایک مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھے ہوئےہوں تو وہ خاتون جو کہہ رہی ہے کہ میرے ناجائز تعلقات ہیں وہ تو بڑی مظلوم ہے اور وہ جس خاتون سے نکاح ہے، اس سے اولاد ہے،وہ اس کے گھر والی ہے،اس غریب کا کوئی حق نہیں ہے؟یہ ہر باپ کا سوال ہے،ہربھائی کاسوال ہےاور یہ سوال معاشرہ پوچھ رہاہےکہ کیامنکوحہ بیوی کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنےخاوند کو گمراہ کرنے والوں کا تعاقب کرسکے،کوئی پوچھ سکےان سے، آج ان کو بڑا حق یاد آرہا ہے۔

انہوں نےکہا کہ قانون یہ کیوں نہیں پوچھ رہا؟قانون سےتوسوال یہ ہےکہ  خاتون اعتراف کررہی ہےکہ میرے دو سال سے ناجائز تعلقات تھے،اس کےخلاف کیاایکشن ہوگا،میں سمجھتا ہوں یہ ہماری معاشرتی اقدارپربھی ایک حملہ ہےکہ آپ جہاں چاہیں،جس طرح چاہیں،جس سے ناجائز تعلقات قائم کریں اور پھر اگر کوئی پوچھے توآپ کہیں کہ انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ میں ان سب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جو آج کہتے ہیں کہ خاتون جن کے شوہر عثمان صاحب ہیں، یہ غلط ہے کہ کیا وہ اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا چاہیں گے؟کوئی ایک خاتون اُن کی بیٹی کےشوہر سے ناجائزتعلق رکھے اور پھر وہ کہیں کہ وہ بڑی مظلوم ہے۔یہ بھی سوال قانون کو کرنا چاہیے کہ دو سال سے ناجائز تعلقات قائم رکھنے والے کی بھی تو کوئی سزا ہوگی؟۔

علامہ طاہر اشرفی کا کہناتھا کہ معاشرے کو یہ بھی پوچھنا چاہیے،یہ مادر پدر آزاد معاشرہ نہیں ہے،نہ ہم یہاں یہ ہونے دیں گے کہ آپ ایک جائز منکوحہ بیوی کو چھوڑیں اور ایک ناجائز عورت کو رکھیں اور پھر اس کے بعد وہ بیوی آواز بلند کرے تو اس کے خلاف آپ سوشل میڈیا پر کمپین شروع کردیں،میں سمجھتا ہوں ہماری عدلیہ کو ہماری پولیس کو، ہماری انتظامیہ کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا سوال اتنا ہے کہ قانون کا دروازہ اس کے لیے کیوں نہیں کھلتا، قانون اس پر گرفت کیوں نہیں کرتا ہے کہ جو آکر لاہور پریس کلب میں اور میڈیا پر علی الاعلان اعتراف کیا ہے کہ میرے تو دو سال سے ناجائز تعلقات ہیں۔ کیا ان ناجائز تعلقات پر بھی قانون کی دفعہ لگتی ہے؟ہم اپنے معاشرے کو ان لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بننے نہیں دیں گے،یہاں پر پاکستان کا قانون جو قرآن و سنت کے تابع ہے اسی کے مطابق سارا کچھ چلے گا۔

مزید :

قومی -