پاکستان میں پانی کی کمی…… چند تجاویز!

پاکستان میں پانی کی کمی…… چند تجاویز!
پاکستان میں پانی کی کمی…… چند تجاویز!

  

پانی ایک عظیم نعمت ہے جس کے بغیر اگر کہا جائے کہ زندگی ناممکن ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ کچھ کھائے بغیر تو انسان زندہ رہ سکتا ہے، لیکن پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں،جہاں پانی اس قدر اہمیت کا حامل ہے وہیں پاکستان پانی جیسی عظیم نعمت کی کمی کا شکار ہے۔ کسی بھی ملک کی صنعت، زراعت اور معیشت کا انحصار پانی پر ہے جب ایک ملک پانی کی کمی کا شکار ہو گا تو وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے؟ پاکستان کی زراعت کا بڑا حصہ پانی کی وافر مقدار پر منحصر ہے۔اگر یہی حالات رہے، پانی کا بحران جاری رہا اور بہتر اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان 2025ء تک خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے شاندار آبی وسائل رکھتا ہے اور ایسی جگہ آباد ہے جہاں اگر بارش نہ ہو تو بھی میٹھا اور تازہ پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان تازہ اور میٹھے پانی سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے، اس کی جگہ گندے پانی نے لے لی ہے جو اپنے ساتھ کئی جان لیوا بیماریاں بھی لاتا ہے۔ کراچی میں بھی ملک کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جو سیم نالوں کی آلودگی اور پانی کی کمی کے باعث خطرے کا شکار ہے۔ سطح سمندر سے زیادہ گہرائی سے جو پانی نکالا جاتا ہے اس کی وجہ سے کھارا پانی میٹھے پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو ملک بہت جلد میٹھے پانی سے محروم اور کھارا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوگا۔

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے صرف دو بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے صرف 30 دن کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 21 بلین ڈالر مالیت کا میٹھا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے، کیونکہ ہمارے پاس اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے مصنوعی جھیلیں اور ڈیمز نہیں ہیں۔ شدید بارشوں کے موسم میں برسنے والا پانی اور پہاڑوں پر برف کے پگھلنے سے بہنے والا پانی بھی ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔ حکومت نے اب کچھ ڈیم بنانے کی طرف توجہ تو دی ہے لیکن ان کی تعمیر کے لئے ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔  زیر زمین پانی بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے ”سندھ طاس“ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں، بیاس، راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دے دیا گیا۔ زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے آنے والے پانی پر ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت ہر ایک پاکستانی کے لئے پانچ ہزار کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہوتے ہوتے ایک ہزار کیوبک میٹر سے بھی کم ہو چکا ہے۔ اگلے کچھ برسوں تک پانی کی فی کس مقدار 750 کیوبک میٹر تک ہونے کا خطرہ ہے جس سے پاکستان  پانی کی شدید کمی والے ممالک میں شامل ہو جائے گا،جو پاکستانیوں کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔پاکستان میں استعمال شدہ پانی کو ری سائیکل کرنے کے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات موجود نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً دس بڑے شہر 65 فیصد سے زیادہ گندے پانی کا اخراج کرتے ہیں، جس میں سے صرف 8 فیصد پانی کو ہی ری سائیکل کیا جاتا ہے،جبکہ باقی پانی دریاؤں میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ ملک کی آبادی لگ بھگ 22کروڑ سے زائد ہے اور ملک میں پانی کی صورت حال کے پیش نظر شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ 

 پاکستان کے دریاؤں میں پانی روز بروز تیزی سے کم ہو رہا ہے۔تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول تک پہنچ چکاہے۔دریائے سندھ میں پانی کی قلت بڑھنے لگی ہے،سکھر بیراج انتظامیہ نے کاشت کاروں کو یکم جون تک چاول کی فصل کاشت نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی قلت 39 فیصد اور سکھر بیراج پر 36 فیصد ہے۔ تربیلا اور منگلا میں پانی کی آمد سے زیادہ اخراج جاری ہے، جبکہ منگلا سے سندھ کو 8000 کیوسک پانی کی فراہمی بڑھا دی گئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ترجمان خالد رانا کے مطابق ملک بھر کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ 7 سے 8 روز کا رہ گیا ہے۔ پانی کی دستیابی سے متعلق صورتحال 3 سے چار روز میں واضح ہو گی تاہم یہ بتانا قبل از وقت ہو گا کہ ملک میں فصل خریف کو پانی کی کتنی قلت آ سکتی ہے۔ اس وقت ڈیموں میں 10 لاکھ ایکڑ فٹ تک پانی موجود ہے جو سات سے آٹھ روز کے لیے کافی ہے۔

ارسا کی جانب سے الرٹ جاری ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چودھری مونس الٰہی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویش ناک اطلاع ہے کہ ملک بھر کے ڈیموں میں صرف 7 سے 8 دن کا پانی باقی رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دشمن کی اندھی تقلید میں کالا باغ ڈیم پر تنقید کرنے والوں کو  اب اپنی آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔  ہمیں اپنا نہیں تو اپنی آنے والی نسلوں کے متعلق سوچنا چاہیے۔انہوں نے ٹویٹر پیغام میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا نعرہ بھی لگایا اور کہا کہ کالا باغ ڈیم بناؤ ملک بچاؤ! ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو پانی کی کمی سے بچانے کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہر چھوٹے بڑے شہر کے اطراف میں پانی کی مصنوعی جھیلیں، بیراج اور چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں،جن میں برسات کے دنوں میں فالتو پانی کا ذخیرہ ہو سکے جو ان شہروں کی حد تک پانی کی کمی کو پورا کر سکے گا۔

مزید :

رائے -کالم -