ہوم ایجوکیشن کا شاہکار کارنامہ

ہوم ایجوکیشن کا شاہکار کارنامہ

  

ذراسی بات- محمدعاصم حفیظ

سلام پروفیسر خالد محمود۔ عزم و ہمت کی انوکھی داستان

ایک ماں باپ نے کر دکھایا۔ معاشرے کے "گمنام ہیرو"

پروفیسر خالد محمود کے بیٹے شیراز خالد نے صرف بیس سال کی عمر میں ملک کے کمسن ترین ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈر ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے۔ پروفیسر خالد محمود گورنمنٹ ڈگری کالج شرق پور شریف میں فزکس کے استاد ہیں۔ انتہائی محنتی اور ہمہ وقت مصروف۔ بیوی بھی ٹیچر ہیں۔

ان کے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کسی کرشمے سے کم نہیں۔ میاں بیوی ملکر میٹرک تک بچوں کو گھر پر ہی پڑھاتے ہیں۔ آپ ان کے بچوں سے ملکر خوشی و حیرت میں ڈوب جائیں گے جتنے سال عمر وہی کلاس ہو گی۔ میری ملاقات  چھوٹے بیٹے اور بیٹی سے ہوئی۔ نو سال کی بچی میٹرک کے امتحانات کی تیاری کر چکی تھی۔ لیکن قانونی رکاوٹ آ گئی اور لاہور بورڈ نے امتحان میں نہیں بیٹھنے دیا۔ 

ڈاکٹر شیراز خالد اور ایک بیٹے نے اس قانون سازی سے پہلے ہی صرف دس سال کی عمر میں میٹرک کر لیا۔ بارہ سال میں ایف ایس سی۔  شیراز نے دو سال میڈیکل انٹری ٹیسٹ رپیٹ کیا  نمایاں پوزیشن اور میڈیکل کالج میں داخلہ 14 سال کی عمر میں۔ اب 20 سال کی عمر میں میڈیکل کی ڈگری۔

اسکا چھوٹا بھائی فراز خالد 10 سال کی عمر میں میٹرک۔ 12 سال کی عمر میں ایف ایس سی۔ 15  سال کی عمر میں بی ایس سی اور 17 سال کی عمر میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی کیمسٹری مکمل کر چکا ہے۔

آپ کی طرح سوال میرے ذہن میں بھی تھا کہ کیسے آٹھ سال کا بچہ مڈل۔ دس سال کا میٹرک اور بارہ سال میں انٹرمیڈیٹ۔

پروفیسر خالد محمود نے اپنے بچوں کے لیے ہوم ایجوکیشن کا ایک شاہکار ماڈل بنا رکھا ہے۔ وہ انہیں میٹرک تک خود پڑھاتے ہیں۔ میتھ۔ سائنس انگریزی اور جنرل نالج سیکھانے کے حوالے سے انہوں نے خاص ترکیب بنا رکھی ہے۔ ان کے بچے رٹے سے نہیں بلکہ واقعی سمجھ کر۔ کنسیپٹ کلئیر کرکے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ دو بچوں نے دس سال کی عمر میں میٹرک کیا لیکن اس کے بعد قانون سازی ہو گئی کہ بارہ سال سے پہلے میٹرک امتحان میں نہیں بیٹھ سکتے۔ سپریم کورٹ تک مقدمہ کر چکے ہیں کہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے۔ بیٹی نے تین سال قبل 2018 میں صرف 9 سال کی عمر میں میٹرک کی تیاری کی نویں کے پیپرز دینے تھے لیکن قانون سازی کی وجہ سے 2021 میں اس سال عمر 12 سال ہونے پر امتحان دے سکے گی۔ سپریم کورٹ میں عمر کی حد کو چیلنج بھی کیا لیکن بے سود۔ اس حوالے سے میڈیا نے بھی رپورٹس چلائیں۔ اسکا ویڈیو پیغام بھی کافی وائرل ہوا لیکن اجازت نہ مل سکی۔ 

پروفیسر خالد محمود کی انتھک محنت کا ثمر ہے کہ آج ان کے دو بڑے بیٹے 20 سال کی عمر میں ایم بی بی ایس جبکہ اس سے چھوٹا جی سی یونیورسٹی لاہور سے ایم ایس سی کمیسٹری کر چکا ہے۔ 

یہ ہمارے معاشرے کے گمنام ہیرو ہیں۔ ایجوکیشن سے منسلک ریسرچرز اور طلبہ کو پروفیسر خالد محمود سے ملکر ان کے شاہکار ماڈل پر تحقیق کرنی چاہیے کس طرح وہ اپنے بچوں کو اتنی کم عمر میں بہترین تیاری کرالیتے ہیں۔ یہ واقعی حیران کن کاررنامہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -