عرس مبارک حضرت سوہنا سائیںؒ

عرس مبارک حضرت سوہنا سائیںؒ

  



                                        سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ پیر طریقت رہبر شریعت عالم باعمل خواجہ خواجگان حضرت اللہ بخشؒ کی شخصیت عظےم انقلابی اور دینی فکر کی حامل تھی، جنہیں لوگ پیار سے حضرت سوہنا سائیںؒ کہتے تھے، جن کی پوری زندگی تبلیغ دین کے لئے وقف رہی۔آپ نے اپنی ساری زندگی مخلوق خدا کی خدمت کی، ان میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اتباع رسول اجاگر فرمائی۔آپ کے پاس امیر، غریب، وڈیرہ ،خان،چودھری ، ملک اور مہر سب ایک ہی نظر سے دیکھے جاتے تھے، جو بھی صدق دل سے طالب بن کر آتا، اس کو اسم اعظم اللہ جل جلالہ کا وظیفہ عطا فرماتے، کیونکہ اسم اعظم کے بغیر اضطراب ،خناس اور شیطان دفع نہیں ہوتے، خواہ ساری عمر ہی عربی کا معلم بنا رہے اور فقہ کے مسائل پڑھاتا رہے، خواہ ساری عمر ریاضت میں صرف کرے۔آپ کی فکر رنگ لائی، آپ نے ہمیشہ مخلوق خدا کی خدمت کی اور امت محمدیہ کو اپنے مقاصد آمد کائنات سے روشناس فرمایا۔ انسان کا اس دنیا میں آنے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول کی اتباع ہے۔آپ نے اپنی زندگی میں مسلمانوں کی فلاح کے لئے جماعت اسلامی المسلمین پاکستان تشکیل دی۔عورتوں کے لئے جماعت اصلاح خواتین بنائی، علمائے کرام کے لئے جمعیت علمائے بخشیہ بنائی۔سکولوں اور کالجوں کے طلباءکی جماعت تیار فرمائی، جس کا نام روحانی طلباءجماعت رکھا۔

یہ ایک ایسا طبقہ ہے،جس سے ماں باپ استاد اور اہل محلہ تنگ ہوتے ہیں، لیکن اس جماعت کے طالب علم الحمدللہ پانچ وقت کے نمازی تو کیا، بلکہ تہجد گزار اور ماں باپ کے فرمانبردار استاد کا ادب کرنے والے ٹھہرے۔آپ نے اپنی زندگی میں ہر طبقے سے پیار کیا۔آپ نے اپنی زندگی میں کئی مراکز قائم فرمائے۔آپ نے دسمبر 1983ءمیں وصال فرمایا۔آپ کا جانشین آپ کے لخت جگر حضرت خواجہ محمد طاہر المعروف سجن سائیں کو چنا، جو پہلے ہی آپ کے باطنی اور روحانی فیض سے منور تھے، جنہیں لوگ پیار سے سجن سائیں مدظلہ کے نام سے پکارتے ہیں جو اس وقت اپنی تمام ذمہ داریاں بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔آپ کی سرپرستی میں نہ صرف پاکستان، بلکہ بیرون ممالک میں بھی یہ روحانی فیض عام ہو رہا ہے۔آپ کا مسکن درگاہ آلٰہ آباد متصل تحصیل کنڈویار وشہر(میں جی ٹی روڈ) ضلع نوشہرہ فیروز سندھ میں ہے۔حضرت خواجہ محمد طاہر عباسی بخشی نقشبندی المعروف سجن سائیں مدظلہ ایک صاحب طریقت،صاحب معرفت ،صاحب اوصاف اور تصوف سے تعلق رکھنے والے اسلام کے حقیقی تعلیم کا درس دینے والے، وقت کے عظیم مصلح و روحانی شخصیت ہیں۔آپ کی ولادت 21مارچ 1963ءکو لاڑکانہ میں ہوئی۔

حضرت خواجہ سجن سائیں کا پیغام بہت سادہ اور تبلیغ و تعلیم بہت مسحور کن ہے کہ ہم سب اپنے اعمال کا اعادہ کرکے اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پر نظر رکھیں ۔کسی دوسرے فرقے یا مذہب کو بُرا نہ کہیں، صرف اپنے کردار ایمان اور دیگر انسانوں کی فلاح کو مدنظر رکھیں ، اپنی ذات، اپنی طاقت اور اپنی حیثیت سے خلق خدا کو نقصان نہ پہنچائیں۔خاموشی سے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے زیر زمین بہنے والے چشمے کی طرح دوسروں کو سیراب کرتے رہیں۔دین و دنیا کی بہترین کے لئے ہر وقت قلبی ذکر کرتے حوئے اللہ سے اپنا رابطہ رکھیں اور نبی اکرمؑؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے رب اور نبی کی رضا حاصل کریں۔قابل عز و شرف سجن سائیں کی تعلیمات، محبت، اخوت، ہمدردی اور مساوات پر مشتمل منافقت و منافرت سے مبرا اور ان کی اپنی حلیمیت اور جاذب نظر شخصیت کی طرح پُرسکون اور مسحور کن ہیں، جس سے انسان کے اندر تسلی و تشفی پیدا ہوتی ہے، جو اسے پاک شفاف بنانے میں معاونت کرتی ہے۔

آپ کے کافی خلفائے کرام صوبہ سندھ، پنجاب ،خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ،بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مقیم ہیں، جو دن رات مخلوق خدا کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔جماعت اصلاح المسلمین کے اغراض ومقاصد لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کا حقیقی عشق پیدا کرنا،زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی طرز حیات پیدا کرنا، جہاں تک ہو سکے۔اسلام اور روحانیت کا پیغام عوام الناس تک پہنچانا، عوام الناس میں ذکر الٰہی کا ذوق اور صحالین کی محبت و صحبت پیدا کرنا، دنیا بھر میں اپنے مراکز اور اداروں سے تعلق پیدا کرنا اور لوگوں میں تقریری، تحریری، عملی، انفرادی اور اجتماعی تبلیغ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔آپ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال نومبر میں جماعت المسلمین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہوتا ہے۔ اس سال 2،3 نومبر 2013ءکو ہے۔عرس کی رسومات حضرت سوہنا سائیں کے مزار شریف پر چادر کشائی سے شروع ہوتی ہیں اور آخری دن نماز فجر کے بعد قرآن خوانی ہوتی ہے، اس کے بعد صاحبزادہ حضرت خواجہ محمد طاہر المعروف سجن سائیں کا خصوصی خطاب دلنواز اور اختتامی دعا ہوتی ہے۔     ٭

مزید : کالم