اپنی مدد آپ کا ثمر

اپنی مدد آپ کا ثمر
اپنی مدد آپ کا ثمر

  

                            گذشتہ دنوں مجھے ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور جانے کا اتفاق ہوا ، میرے قریب ہی ایک مرد اور خاتون بھی اپنے نو یا دس سال کے بچے کے ہمراہ خریداری کررہے تھے، بچے نے ایک شیلف میں پڑا خوبصورت پیک شدہ کھلونا اٹھایا اور اُلٹا پلٹا کر غور سے دیکھتے ہوئے اپنے باپ سے سوال کیا "پاپا، یہ ہر چیز پر میڈ اِن چائنا اور میڈ اِن جاپان کیوں لکھا ہوتا ہے، میڈ اِن پاکستان کیوں نہیں لکھا ہوتا" ، بچے کا سوال سُن کر اُس کا باپ مسکرایا اور اُس کی انگلی تھام کر آگے چل دیا کیونکہ اُس کے پاس اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔وہ باپ بیٹا تو چلے گئے لیکن قطرے میں سمائے ہوئے سمندر کی مانند اُس سوال نے میرے لیے سوچ اور فکر کا ایک نیا دریچہ کھول دیا۔یہ بڑی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے وہ تقریباً تمام وسائل ہمارے پاس موجود ہیں جوہمیں معاشی قوت اور ہمارے صنعتی شعبے کو دنیا بھر کی مارکیٹوں پر حکمرانی کے قابل بناسکتے ہیںلیکن یہ تو بہت دور کی بات ہے ہماری اپنی مارکیٹیں میڈ اِن چائنا سے بھری پڑی ہیں۔

چین اگر آج دنیا کی بہت بڑی معاشی قوت بن چکا ہے تو اُس کی آخر بنیادی وجہ کیا ہے، یہ جاننے کے لیے میں نے تاریخ کے ورق اُلٹے تو بڑا زبردست انکشاف ہوا۔ 70ءکی دہائی میں ایک انتہائی ہولناک زلزلے کے نتیجے میں چین کا صوبہ ٹینگ فنگ تباہ و برباد اور لاکھوں افراد جاں بحق ہوگئے، دنیا بھر نے چین کو مدد کی پیشکش کی لیکن چین کے لیڈرماﺅزے تنگ نے یہ کہہ کر خود کو حقیقی معنوں میں ایک لیڈر ثابت کردیا کہ "یہ قدرتی آفت جو ہم پرنازل ہوئی ہے اس کا مقابلہ بھی ہم خود ہی کریں گے"اور انہوں نے یہ کرکے دکھایا۔ ماﺅزے تنگ نے چین کے مختلف حصوں سے لوگوں کو بطور رضاکار زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجا، متاثرہ افراد کو چین کے مختلف حصوں میں منتقل کیا اور مقامی آبادی کو پابند کیا کہ وہ نہ صرف ان کا خیال رکھیں گے بلکہ انہیں کسی نہ کسی ہنر سے بھی آراستہ کریں گے تاکہ یہ بھکاری نہ بنیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد زلزلے سے تباہ و برباد ہونے والا علاقہ اس قدر تیزی سے بحال اور ترقی یافتہ ہوا کہ دنیا بھر کے لیے مثال بن گیا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب جاپان زلزلے اور ہولناک سونامی کی وجہ سے بالکل تباہ ہوگیا ۔

 خود مَیں نے ٹی وی پر جب درجنوں فٹ بلند لہروں کو جاپان نگلتے اور تباہی و بربادی کی نئی داستانیں رقم کرتے دیکھا تو مجھے تقریباً یقین ہوگیا کہ اب جاپان دس سالوں تک نہیں اٹھ سکے گا لیکن اُس نے بھی اُسی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کیا جس کی بدولت چند ہی دنوں میں دوبارہ اپنے پیروں پر یوں کھڑا ہوگیا جیسے کبھی کوئی آفت نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو آٹھ اکتوبر 2005ءکو لگنے والے زخم آج تک رِس رہے ہیں۔ زلزلہ آیا تو وہ کونسا در ہے جو اُس وقت کی پاکستانی حکومت نے نہ کھٹکھٹایا ہو لیکن بحالی کا عمل آج تک مکمل نہیں ہوپایا ۔ کیا اِس پر ہمیں شرمندہ نہیں ہوجانا چاہیے کہ ہمارے پاس جو نعمتیں اور وسائل موجود ہیں اُن کی تمنا ترقی پذیر ممالک تو ایک طرف ترقی یافتہ ممالک بھی کرتے ہیں۔

 مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل ملک سے باہر میری ایک جاپانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا کہ پاکستان کے حالات کیسے ہیں تو توانائی کے بحران، امن و امان کی بگڑی ہوئی صورتحال ، بجلی پٹرول گیس کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتوں کی زیادہ پیداواری لاگت جیسے مسائل یکے بعد دیگرے میری نظر سے فلمی مناظر کی طرح گزرنے لگے۔ میں نے اِن مسائل کا تذکرہ کیا تو انہوں نے ایک بڑی ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی یہ بات کہی کہ اگر آپ کے ملک جیسی طاقت ہمارے پاس بھی ہوتی تو آج ساری دنیا پر ہم ہی حکومت کررہے ہوتے۔ میں نے سوچا کہ شاید اُن کا اشارہ ہماری ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت، پاک فوج ، کھربوں ڈالر کی معدنیات اور سونے جیسی زرخیز زمین کی طرف ہے لیکن نہیں۔

 انہوں نے مجھے حیرت کے ایک اور سمندر میں غوطہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی آبادی ساڑھے بارہ کروڑ سے کچھ زائد ہے جس میں سے صرف دس فیصد کے لگ بھگ نوجوان ہیں جبکہ تمہارے ملک کی اٹھارہ کروڑ کی آبادی کا پینسٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو تمہیں بین الاقوامی لیڈر بنا سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ اپنے باقی وسائل سے بھی فائدہ اٹھالو تو زمانہ دیکھے گا ۔ میرا دل بُجھ سا گیا کہ جن نعمتوں پر جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کا ایک باشندہ رشک کررہا ہے اُن پر توجہ دینا سابق حکومتوں نے ضروری نہیں سمجھا جس کی وجہ ہم ایک مقروض اور مسائل کے انبار تلے دبی ہوئی بے بس قوم بن گئے لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ اب صورتحال بتدریج مثبت موڑ لے رہی ہے جس کی وجہ وزیراعظم میاں نواز شریف کو اس حقیقت کا ادراک ہونا ہے کہ غیرت ہے بڑی چیز جہاں تگ و دو میں، پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا چنانچہ انہوں نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کا موقف بڑی جرات کے ساتھ پیش کرتے ہوئے ڈرون حملے روکنے، پاکستان کو امریکی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی اور تجارتی و معاشی تعاون کو فروغ دینے کے مطالبات پیش کیے ہیں جن کے جواب میں امریکی حکومت نے بھی بڑے مثبت ردّ عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

 میری نظر میں امریکہ دورہ پاکستان کی خود مختاری کی جانب پہلا قدم ہے کیونکہ عرصہ دراز کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ نے یوں دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف پیش کیا ہے جبکہ ملکی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانا دوسرا قدم ہوگا۔ ہم سب توقع کرتے ہیں کہ اس کے لیے بھی ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور جلد ہی وزیراعظم میاں نواز شریف اس سلسلے میں بھی اہم اقدامات اٹھائیں گے ۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو ہر دلعزیز شخصیت اور ہمارے دیرینہ دوست میاں شہباز شریف صنعت و تجارت اور معیشت سے متعلقہ تمام معاملات میں کاروباری برادری کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں اور اِن کی آراءو تجاویز کو ہر موقع پر خیر مقدم رکھتے ہیں لیکن کاروباری برادری کے رہنماﺅں کو قومی سطح پر بھی حکومت کے شانہ بشانہ ملکی سلامتی و خوشحالی کے لیے کردار ادا کرکے بڑی خوشی ہوگی جس کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ وزارتوں اور کمیٹیوں میں کاروباری برادری کی نمائندگی ملحوظ خاطر رکھی جائے۔  ٭

مزید :

کالم -