لاہورچیمبراور ترک سفارتخانہ تجارت بڑھانے کیلئے طریقہ کار وضع کرینگے

لاہورچیمبراور ترک سفارتخانہ تجارت بڑھانے کیلئے طریقہ کار وضع کرینگے

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ترکی کا سفارتخانہ دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کرے گا۔ یہ فیصلہ ترکی کے سفیر ایس بابر جرجن اور لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری کے درمیان لاہور چیمبر میں ہونے والی ایک ملاقات میں ہوا۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ ترکش سفیر نے کہا کہ نیا طریقہ کار وضع کرنے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک میں موجود پوٹینشل سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر پر زور دیا کہ وہ لاہور چیمبر میں ترکی ڈیسک قائم کریں تاکہ تجارت سے متعلقہ معلومات کاروباری برادری تک پہنچائی جاسکیں۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کو استنبول چیمبر کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کرنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر لاہور اور استنبول کے درمیان براہِ راست پروازیں شروع کی جائیں گی جو ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان کو مستقبل کا ملک تصور کرتا اور بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ معاشی حوالے سے ترکی دنیا بھر کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے ہمیشہ ہر کڑے وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ اگرچہ پاکستان اور ترکی دو خود مختار ملک ہیں مگر ان کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس پراجیکٹ پاک ترکی تعلقات کی بہترین مثال ہے۔ یہ پراجیکٹ ترکی کے تعاون سے ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا اور اب ہر روز ایک لاکھ پچھتر ہزار افراد اس کے ذریعے سفر کرتے یں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ترکی کے تعاون سے صفائی کا جدید نظام انہتائی کامیابی سے جاری ہے اور اب اس کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر شہروں تک بڑھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول مہیا کر اور مراعات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم کرنے چاہئیں۔

 اگرچہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت بتدریج بڑھ رہی ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجر ترکی کو نیم تیار شدہ اشیاءبرآمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا اس سلسلے میں ترکی پاکستان کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترکی کو برآمدات میں کپاس، پلاسٹک، بیوریج، کپڑا اور لیدر وغیرہ شامل ہیں جبکہ ترکی پاکستان کو مشینری، شپ، کیمیکلز، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، آئرن اینڈ سٹیل اور پلاسٹک پروڈکٹس وغیرہ برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی مارکیٹ پوٹینشل کو مدّنظر رکھتے ہوئے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کار کو نئی بلندیوں پر لے جایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ اقدامات اٹھانے اور مشترکہ منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہوگی۔

مزید :

کامرس -