ڈرون حملے، جمائما کی فلم اورشمالی وزیرستان کی بچی نے متاثر کیا

ڈرون حملے، جمائما کی فلم اورشمالی وزیرستان کی بچی نے متاثر کیا
ڈرون حملے، جمائما کی فلم اورشمالی وزیرستان کی بچی نے متاثر کیا

  

ڈرون حملے ایک بڑامسئلہ بن چکے ہیں، حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے فائدہ کی بجائے نقصان ہو رہا ہے کیونکہ ڈرون کے میزائلوں کی زد میں عام شہری آ رہے ہیں۔ اگر کسی حملے میں ایک آدھ تشدد پسند مارا جاتا ہے تو درجنوں بوڑھے، بچے اور خواتین زد میں آ کر جاں بحق ہو جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے احتجاج کی پروا ہ نہیں کی گئی حتیٰ کہ یہ مسئلہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں پیش کرنے کے علاوہ خود وزیراعظم نے امریکی صدر اوباما کے سامنے بھی اٹھایا ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اس حوالے سے اپنا انداز فکر بیان کرتی ہے کہ غاروں اور شمالی وزیرستان میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی موثر ثابت ہوئی ہے۔ یوں بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے لئے زمین پر مخبر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ مخبر بھی انہی باشندوں ہی میں سے ہوتے ہیں جو مقامی ہیں اور ان کو سی آئی اے کے ایجنٹ اقوام دے کر خریدتے ہیں جوکمپیوٹر چپ مطلوبہ مقام پر رکھتے یا چپکاتے ہیں جس کے بعد ڈرون کا حملہ اس نشانے پر ہوتا ہے ڈرون کا حملہ اس نشانے پر ہوتا ہے تاہم پاکستان کا موقف تسلسل سے یہی ہے کہ یہ فائدے کی بجائے نقصان دہ ہیں اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ لئے ہوئے ہے اوراب تو یہ بھی بتایا گیا کہ تیاریاں مکمل ہو گئیں اور مذاکرات جلد شروع ہوں گے اس سلسلے میں دانشور اور صلح جو حضرات نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ فریقین مذاکرات سے قبل جنگ بندی کر دیں۔ طالبان دھماکے اور حملے بند کریں تو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے لیکن کالعدم تحریک طالبان نے یہ بات مسترد کی اور ان کا مطالبہ ہے کہ ڈرون حملے بند ہونے کے بعد ہی جنگ بندی ہو سکتی ہے جو بند نہیں ہو رہے اور یوں مذاکرات شروع ہوئے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکی انتظامیہ متاثر تو نہیں ہو رہی لیکن امریکی رائے عامہ پر اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی مطلقہ جمائما جو اب بھی جمائما خان کہلاتی ہیں، نے اس سلسلے میںاپنی این جی او کی مدد سے پیش قدمی کی پہلے ایک ڈاکو مینٹری بنائی جس میں ڈرون سے ہونے والے نقصانات کا ذکر موجود ہے اور یہ ایک اچھی دستاویزی فلم ثابت ہوئی جس سے مغربی دنیا متاثر ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی جمائما نے شمالی وزیرستان کے ایک متاثرہ خاندان کو یورپ اور امریکہ کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے ایک خاندان کے تین افراد کا سامنا امریکی کانگرس کے اراکین سے کر دیا۔ ترجمان کی وساطت سے جو داستان غم بچی نبیلہ اور اس کے بھائی زبیر نے سنائی وہ اتنی متاثر کن تھی کہ خود ترجمان رو پڑی۔ بچی نبیلہ کا سوال تھا کہ اس کی دادی کا کیا قصور تھا کہ میزائل نے اس کے چھیتڑے اڑا دئیے بچی نے بتایا کہ وہ کھلے آسمان تلے اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا پسند کرتی تھی لیکن اب اسے کھلے اور نیلے آسمان سے خوف آتا ہے۔ اور وہ دعا کرتی ہے کہ اوپر بادل ہی چھائے رہیں کہ ڈرون تو نظر نہ آئے ،کانگرس کے اراکین نے بھی ہمدردی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ اپنی سی کوشش کریں گے۔یہ سب اپنی جگہ اس کے باوجود کالعدم تحریک طالبان کا یہ مطالبہ بے محل دکھائی دیتا ہے کہ جنگ بندی ڈرزون حملوں سے مشروط ہے حالانکہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کی کوشش سامنے آئے اور پھر طالبان کے حملے امریکیوں کے خلاف نہیں پاکستانیوں کے خلاف ہوتے ہیں۔ ابھی منگل کے روز کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ کے متعدد شہروں میں کریکر دھماکے ہوئے مالی نقصان ہوا، ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے احتجاجاً ہڑتال کی گئی یہ نقصان امریکیوں کا نہیں پاکستان کے معصوم شہریوں کا ہوا ہے۔ یوں بہتر فضا قائم نہیں ہوتی۔ یوں بھی طالبان خصوصاً شمالی وزیرستان میں موجود سب کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہماری افواج اور حکومتوں نے امریکی دباﺅ کا مسلسل سامنا کیا اور شمالی وزیرستان میں آپریشن سے گریز کیا ماسوا ایسی کارروائی کے جو دفاعی نوعیت کی تھی۔ ان حضرات کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض کٹھ پتلی لوگ ان کو پاکستان پر دباﺅ کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ پاکستان سے اپنے مطالب کا معاہدہ کرا سکیں حالانکہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلہ پر ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہے اور مداخلت نہیں کرے گا تاہم نیٹو، امریکہ اور افغانستان کو بھی بھارتی تسلط سے بچنا اور بچانا ہو گا وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی برطانوی وزیراعظم کے ساتھ حامد کرزئی سے ملاقات کا مقصد بھی یہی ہے تینوں رہنماﺅں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا اللہ کرے کرزئی واپس کابل پہنچ کر اس پر قائم بھی رہیں۔ بہرحال اگر وزیرداخلہ مذاکرات شروع ہونے کی نوید سناتے ہیں تو اب دیر کا ہے کی ہے۔تجزیہ چودھری خادم حسین

مزید :

تجزیہ -