تمام ادارے اور ایجنسیاں ایکا کر لیں تو ایک گولی بھی کراچی نہیں آسکتی

تمام ادارے اور ایجنسیاں ایکا کر لیں تو ایک گولی بھی کراچی نہیں آسکتی

  

کراچی(اے این این)سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران شہرقائد میں اسلحہ اور منشیات کی بھرمار پرسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے قراردیاہے کہ جوکچھ ملک میں ہورہاہے وہ کھلی بے حسی ہے ، ہر کوئی پیسہ بنانے میں لگا ہے،ان کی سوچ یہ ہے کہ ملک جائے بھاڑمیں،کراچی جائے بھاڑمیں اورعوام جائیں بھاڑمیں، ملک میں اسلحے کی بھر مار ہے اور ہم آتش فشاں پر بیٹھے ہیں آپریشن کے لئے فوج اور رینجرز کی مدد لی جا سکتی ہے،تمام ادارے اور ایجنسیاں ایکا کر لیں تو ایک گولی نہیں آ سکتی جبکہ دوران سماعت ایف بی آر کے ڈی جی انٹیلی جنس محمد ریاض نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کی افغان بستیاں اور کئی علاقے اسلحہ و منشیات کے گڑھ اور نو گو ایریاز ہیں جہاں سے اسلحہ اور منشیات ملک کے دیگر شہروں اور یورپ تک سمگل ہوتی ہے ان علاقوں میں کارروائی کے لئے کسٹم کے پاس صلاحیت نہیں ہے ،عدالت عظمیٰ کا چیئرمین ایف بی آر کوہنڈی کے ذریعے31 ملین ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کی تحقیقات کا حکم ، کیس کی سماعت (آج)جمعرات کو پھر ہو گی ۔بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4رکنی بینچ نے کراچی بد امنی عملدرآمد کیس کی سماعت کی تودوران سماعت ڈی جی اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل ظفر نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں وضاحت کا موقع دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے ان پر برہمی کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو وضاحت کا کیا موقع دیا جائے آپ لوگ اپنا کام نہیں کر رہے، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے کہا کہ آپ ان سب کو گھر بھیج دیں اور نیا خون لائیں کیونکہ عالمی ایجنڈے کے تحت منشیات کی جو اسمگلنگ ہورہی ہے اس میں پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، کوسٹ گارڈ اور کسٹم اور دیگر ایجنسیاں ملی ہوئیں ہیں، سب پیسہ کمارہے ہیں اور کوئی کام نہیں کر رہا۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ شامتک ان کو بٹھا کر پوچھا جائے کہ یہ لوگ صحیح معنوں میں کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایک موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ کھلی بے حسی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے، یہ مری ہوئی روحیں ہیں، یہاں ہر کوئی پیسہ بنانے میں لگا ہے، یہ سوچتے ہیں کہ کراچی اور عوام جائے بھاڑ میں، کراچی آتش فشاں بن گیا ہے، اسلحہ اور منشیات کی بھرمار ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کر رہا۔ انہوں نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس کو ایک گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کالا پل جائیں اور دیکھیں کہ کیا ہورہا ہے اور اس کے بعد آکر عدالت کو بتایا جائے کراچی میں منشیات کھلے عام بک رہی ہے یا نہیں، کوسٹ گارڈز کی 3ہزار نفری موجود ہے لیکن کچھ ڈیلیور نہیں ہورہا، پولیس، کوسٹ گارڈز، اینٹی نارکوٹکس فورس اور میری ٹائم سب ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس سے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ اب کراچی میں منشیات کی کوئی فروخت نہیں ہوگی۔چیف جسٹسکہا کہ قومی خزانے کو ٹیکس چوری سے بڑا نقصان ہورہا ہے،فیصلے میں یہ بھی لکھیں گے کہ ایف بی آر کو پتا ہے ان کا سسٹم فیل ہوچکا ہے، آپ کو ٹیکس کا پیسہ نہیں مل رہا، اپنا آفس کراچی میں بنائیں اسلام آباد میں بیٹھ کر یہ کام نہیں ہوگا،پورٹ سٹی میں بیٹھیں۔ چیف جسٹس نے میری ٹائم سیکورٹی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ کا کام صرف بھارتی ماہی گیروں کو پکڑنا ہے؟۔ کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سیکورٹی کے ہوتے اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منصوبے کے تحت سمگلنگ ہو رہی ہے۔ کسٹم، کوسٹ گارڈ اور پولیس اس دھندے میں ملی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان فسران کے ساتھ میٹنگ کریں۔ کراچی میں ایک بھی گولی نہیں ملنی چاہیے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں منشیات کا کاروبار ہو رہا ہے۔ دبا و¿پولیس اور رینجرز پر ڈال دیا جاتا ہے۔ آپ کیا کر رہے ہیں۔ ڈی جی این ایف اے نے اعتراف کیا کہ کراچی میں منشیات کا کاروبار ہوتا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ قانون آپ کا ہے پڑھ کر ہم سنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈر صاحب لگتا ہے کہ آپ نے اپنا قانون نہیں دیکھا۔سماعت کے دوران دی جی کسٹم انٹیلی جنس محمد ریاض نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں افغان بستیاں،سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ میں اسلحے اور منشیات کے گودام ہیں۔ افغان خیمہ بستی میں ہیروئن ، چرس، اسلحہ لایا جاتا ہے جنہیں ملک بھر کے ساتھ یورپ بھی اسمگل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ بہت حساس علاقے ہیں لیکن کسٹم کے پاس کارروائی کی اہلیت نہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے استفسار کیا کہ آپ اس رپورٹ پر فوج اور رینجرز کی مدد بھی لے سکتے تھے اور آپریشن کیا جا سکتا ہے،آپریشن کا مقصد لوگوں کو مارنا نہیں اسلحہ اور منشیات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مان لیں کہ نیٹو کا اسلحہ نہیں آتا تو کراچی میں جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟تمام ایجنسیاں اور ادارے مل جائیں تو کراچی میں ایک بھی گولی نہیں لائی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کے خلاف آپریشن کے بلیو پرنٹ پیش کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کا کہنا تھا کہ اشتہار دیکر غیر قانونی اسلحے کیخلاف مہم چلائی گئی اب شہر میں کرفیو لگا کر گھر گھر اسلحہ کی تلاشی لی جائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سب کہتے ہیں ٹارگٹ کلنگ بند کریں، پہلے بھی کہ چکے ہیں کراچی میں زمین کے قبضے اور اختیار کا جھگڑا ہے لیکن کوئی توجہ نہیں دیتا 1994 میں منگوایا جانیوالا اسلحہ آج بھی بندرگاہ پر موجود ہے، موجودگی کی وجہ بتائی جائے۔ چیئرمین ایف بی آر بتائیں کہ کتنے روز میں اسلحہ کی اسمگلنگ اور ڈیوٹی چور ی روک سکتے ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی رینجرز نے کہا تھا کہ وزرات جہاز رانی کی نگرانی میں کنٹینر کھولا گیا ، پھر یہ بیان واپس لے لیا اس کے بعد امریکی سفیر نے خط لکھا اس کا نوٹس لینا چاہئیے تھا۔ چیئرمین ایف بی آر کو امریکی سفیر نے خط لکھا توان سے پوچھا جا سکتا تھا اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ خط میں کنٹینر غائب نہ ہونے کی بات کی گئی، سامان غائب ہونے کا ذکر نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ امریکی سفیر نے چیئرمین ایف بھی آر کو ہی خط کیوں لکھا۔ چیف جسٹس نے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کراچی میں منشیات کا کاروبار نہیں ہو رہا ہے۔ پولیس اور رینجرز پر ہر طرح کا دبا ڈال دیتے ہیں۔ آپ کیا کر رہے ہیں، بتائیں کتنے اسمگلر پکڑے اور کتنوں کی جائیداد ضبط کیں، لوگوں سے جمع ہونے والا جنرل سیلز ٹیکس خزانے میں جمع نہیں ہوتا، چوری شدہ جنرل سیلز ٹیکس کراچی میں جرائم کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا ڈیزل اور پیٹرول کے ٹینکرز کے ٹینکرز اسمگل ہو کر کراچی پہنچ رہے ہیں جس سے ہماری صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں۔ آپ کیا کر ر ہے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کراچی میں کسٹم ڈیوٹی کی چوری کے علاوہ ڈالر اور ہنڈی کا کاروبار بھی چلتا ہے۔ ٹیلی کام سے پیسہ وصول کرنے کی بات ہو تو سیاسی دباو¿ شروع ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر کوہنڈی کے ذریعے31 ملین ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت (آج)جمعرات کو پھر ہو گی۔چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -