جو آپس میں لڑتے ہیں، وہ دشمن کا کام کرتے ہیں

جو آپس میں لڑتے ہیں، وہ دشمن کا کام کرتے ہیں
جو آپس میں لڑتے ہیں، وہ دشمن کا کام کرتے ہیں

  

تاریخ بھی بڑی چیز ہے، بشرطیکہ کوئی اسے جانے، سمجھے اور اسے یاد رکھ سکے،بلکہ دہراتا بھی رہے،اگر کوئی اسے نہ یاد رکھے اور نہ دہرائے تو یہ خود کو دہرا دیتی ہے، لیکن اپنی مرضی سے اور اپنے رنگ میں.... اپنے نریندر مودی ہی کہ دیکھ لیجئے جو اندرا گاندھی کی تاریخ کو بھی دہرانا چاہتے ہیں اور خود اپنی تاریخ کو بھی، وہ ایک اور سقوط ڈھاکہ اور ایک اور خون گجرات کے موڈ میں لگتے ہیں، مگر ڈھاکہ کہاں سے لائیں گے؟ ہاں گجرات ان کا اپنا ہے، جب چاہیں خون خرابہ تو ان کے لئے معمول کی بات ہے! خدا خیر کرے ۔اب موصوف کی نظر ِ بد کشمیر پر ہے اور پاکستان کو بھی نہیں بھولنا چاہئے! تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق دہرائیں تو کیسے دہرائیں؟ کیونکہ تاریخ تو بڑی چیز ہے، یہ تو ایک مونہہ زور گھوڑے کی مانند ہے!

موصوف ایک طرف دیکھتے ہیں ،تو طبیعت خراب ہو جاتی ہے، کشمیریوں کو تو اب مرنا آ گیا ہے اور جب کسی قوم کو مرنا آ جاتا ہے تو وہ زندہ ہو جاتی ہے، اسی سے مودی صاحب گھبراتے ہیں، کیونکہ گجراتی مسلمانوں کا خون ہی ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا، اِسی خون نے تو ان کے چہرے پر ”بزدل دہشت گرد“ کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ موصوف جدھر جاتے ہیں اپنا بھدا چہرہ ساتھ لے جانا پڑتا ہے اور لوگ انہیں دہشت گرد بھی کہتے ہیں تو ایک بزدل دہشت گرد، جو اپنی محکوم اقلیت کا قتل عام اپنی حکومتی مشینری سے کرواتے ہیں! اب بھی شاید وہ یہ کرتوت انجام دے کر آر ایس ایس کے ہندو سورماﺅں میں اپنا نام اونچا کرنا چاہتے ہیں، مگر آزادی¿ کشمیر کے پہاڑوں.... سید علی گیلانی، مولوی عمرفاروق اور یٰسین ملک کو دیکھ کر لرزنے لگتے ہیں جو تقریباً پون صدی سے سات لاکھ فوجیوں کو بھنبھنانے والی مکھیوں سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے اور ان کی سنگینوں کو گھاس کے تنکے سمجھتے ہیں، جنہیں وہ ہاتھ کی انگلی سے ہی ٹیڑھا کر دیتے ہیں!

مودی صاحب کریں تو کیا کریں، جائیں تو کدھر جائیں؟ کیونکہ وہ جب دوسری طرف نظر بد اُٹھا کر دیکھتے ہیں توکانپ جاتے ہیں اور دانت کھٹے ہو جاتے ہیں! .... پاکستان کا ایٹم بم! اُف! لیکن اس سے بھی بڑا بم پاکستان کا سپاہی! پاکستان کا یہ ایٹم بم تو دنیا بھر کے تمام بموں سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے! اس سے تو ایڈوانی جی بھی بہت ڈرتے تھے،مودی تو ان کا بچہ ہے! مودی جی بھی پاکستانی سپاہی کو کھیم کرن، چونڈہ اور کرگل کی چوٹیوں پر غضبناک شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے سُن کر اور دیکھ کر رام رام پکار اٹھتا ہے! باہر کی دنیا کی طرف جھانکتے ہیں تو مودی جی کو کہیں برطانوی پارلیمنٹ فلسطین کی آزاد ریاست کے حق میں متفقہ قرارداد پاس کر کے اسرائیل کے صہیونیوں کو سانپ کی طرح بل کھانے پرمجبور کر رہی ہے اور کہیں کشمیریوں کا ایک ملین مارچ 10ڈاﺅننگ سٹریٹ میں ڈیوڈ کیمرون کوستا رہا ہے، جو نوید ہے اس بات کی کہ دنیا کا ہر باضمیر انسان جاگ گیا ہے، اس لئے اب ایڈوانیوں، مودیوں اور اندرا گاندھیوں کا دور بیت چکا! اب آزادی پسند اقوام کے حق خود ارادیت کو غصب کرنے والوں کی خیر نہیں! اب نریندر مودی اپنی مرضی کی تاریخ نہیں دہرا سکتا!

ہاں نریند مودی کو امید کی ایک کرن، بلکہ کئی کرنیں نظر آ گئی ہیں! پاکستانی دھرنوں میں جکڑے ہوئے ہیں! لیڈر دھرنوں کی رونقوں پر جھوم رہے ہیں، لہرا رہے ہیں، غربت اور بھوک کے مارے کراہ رہے ہیں، لیڈر خفیہ عطیات کھا کر بدہضمی کے ڈکار مارتے ہوئے رفو چکر ہو رہے ہیں یا دھرنوں کی رونقیں بحال رکھنے کے لئے چندے مانگ رہے ہیں اور وہ بھی دھرنوں میں مبتلا غریبوں سے جو بھوک کے مارے چیخ رہے ہیں،بس کچھ لیڈر ہیں جو انہیں جمہوریت کی لوریاں سُنا کر سلا دینے کے جتن کر رہے ہیں! افراتفری کا یہ ماحول اور اس پر حرام خوروں کی کرپشن کا طوفان ہے جو اس امیر ملک کے غریبوں کو مہنگائی، معاشی بدحالی اور دہشت گردی کے گڑھوں میں پھینک کر باہر بھاگ رہے ہیں!

یہ افراتفری، یہ ہنگامہ آرائی ہمارے مودی جی کے لئے امید کی کرنیں ہیں! یہ نام نہاد لیڈر دراصل اس مودی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ جو آپس میں لڑتے ہیں وہ درحقیقت اپنے دشمن کے کام کر رہے ہوتے ہیں! قوم چلا چلا کر کہہ رہی ہے کہ ان دھرنیات کی مستیوں، جلوسی چونچلوں اور گومگو کو چھوڑو! یہ سب بے وقت کی راگنیاں ہیں، پہلے الیکشن کے آداب سیکھو، قواعد و ضوابط پر اتفاق کرو، اس کے بغیر الیکشن ہوئے تو نتائج اور ماحول وہی ہو گا، جو پہلے دیکھتے رہے ہو، جمہوریت کی لوریوں سے نہ مسائل حل ہوں گے، نہ عوام کے پیٹ بھریں گے! یہ لمحہ آزادی¿ کشمیر کا لمحہ ہے! آپس میں لڑ جھگڑ کر مودی کے سپاہی مت بنو، کشمیریوں کے ترجمان بن کر دنیا میں ہر سطح پر چیخو، چلاﺅ اور بیدار مغز اور زندہ ضمیر انسانوں پر واضح کر دو کہ کشمیری حق پر ہیں، مودی غاصب ہے، اس کے فریب کو تار تار کر دو! اگر اس فضا اور اس فیصلہ کن لمحے میں کچھ نہ کر پائے تو مر جاﺅ گے او ر مر کر بھی پچھتاﺅ گے!

مزید :

کالم -