ٹریفک جام اور سڑکوں کا استعمال

ٹریفک جام اور سڑکوں کا استعمال
 ٹریفک جام اور سڑکوں کا استعمال

  


صوبائی دارالحکومت لاہور آج کل ٹریفک کے بدترین بحران کا شکار ہے۔ شہر کی شاید ہی کوئی سڑک ہو جہاں ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق ہو یا جہاں سے آدھ پون گھنٹہ اضافی صرف کئے بغیر آپ منزل مقصود پر پہنچ سکتے ہوں۔ ٹریفک وارڈنز کی تعیناتی کے بعد خیال کیا جاتا تھا کہ معاملات کچھ سدھر جائیں گے۔ ابتدا میں تو بہتری ضرور دیکھنے میں آئی، لیکن آہستہ آہستہ نئے وارڈنز پر بھی پہلے والے ٹریفک سارجنٹس کا رنگ چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔جن کی غفلت اور عدم توجہی کے باعثبیشتر سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام دکھائی دیتا ہے۔بڑی شاہراہوں سے چھوٹی سڑکوں پرکئی کئی گھنٹے تک ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے۔ شاہراہ قائد اعظم سمیت دو تین سڑکیں تو ایسی ہیں جہاں احتجاج اور مظاہرے ان کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔کئی تنظیمیں اور جماعتیں آئے روز احتجاج کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ چند لوگ اکٹھے کئے، بینر و کتبے اٹھائے اور سڑکوں پر آ گئے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ شہریوں کو ان کے اس اقدام کی کیا قیمت چکاناپڑے گی اور کتنے عذاب سے گزرنا ہو گا؟یہ مظاہرین نہ توکسی مریض کی تکلیف کا احساس کرتے ہیں اور نہ کسی کے ضروری کام کی فکر۔وارڈنز کی اکثریت نے تو یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ وہ چوک اور سگنلز کراس کر کے کھڑے ہوتے ہیں اور اس تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی شہری اشارے کی خلاف ورزی کر کے آئے، اسے قابو کر کے چالان کر دیا جائے ۔حالانکہ ان کا کام ٹریفک کی ریگولیشن (بلا تعطل روانی) ہے نہ کہ خلاف ورزی کرنے کا موقع فراہم کرنا ۔

آج کل شہر میں ٹریفک کا جو عالم ہے اس میں جہاں دیگر کئی عوامل کارفرما ہیں، ان میں وارڈنز کی نا اہلی کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ ان وارڈنز سے بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ ہمارا آج تک کوئی سروس سٹرکچر نہیں بن سکا، ہم سالہا سال سے سب انسپکٹر ہی چلے آ رہے ہیں، معمول کی پولیس سروس میں ہمارا تبادلہ بھی نا ممکن ہے، اس لئے کام پر توجہ دینے کو جی نہیں چاہتا ۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ سروس سٹرکچر نہ ہونے کا بدلہ شہریوں کیجیبوں سے کیوں لیا جا رہا ہے ،اپنے فرائض منصبی دیانتداری سے انجام دینے کی بجائے انتقام کا سہارا لینا کہاں کا انصاف ہے؟۔۔۔ گزشتہ دنوں حکومت کی طرف سے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی نئی نمبر پلیٹوں کی ایک مہم شروع کی گئی جس کے تحت ابتدا میں لاہور کے بعض علاقوں میں خصوصی آپریشن کے تحت پکڑ دھکڑ بھی ہوئی۔ قبل ازیں موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمٹ پہننے کی پابندی کی مہم بھی چلائی گئی تھی، جس کے بارے میں بعدازاں معلوم ہوا کہ وہ مخصوص مقاصد کے لئے چلائی گئی تھی ۔نمبر پلیٹوں کی اس مہم کے پیچھے کوئی خاص مقاصد نہیں تو کوئی بری بات نہیں ، لیکن اس مہم سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ ٹریفک کے معاملات درست کرنے کی مہم چلائی جائے ۔

قوم کا ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی ہے،اسے سڑکوں پر ٹریفک کے اژدھام میں ضائع کرنے سے بچانا بے حد ضروری ہے۔ نمبر پلیٹوں کی مہم پر صرف کی جانے والی توانائیاں اگر ٹریفک کی روانی میں بہتری کے لئے استعمال کی جائیں تو شہر سے بے افرا تفری کافی حد تک خاتمہہوجائے۔شہریوں کو سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسئلہ سے فوری طور پر نہ بچایا گیا تو شایدکچھ عرصہ بعدان شاہراہوں پر تیز چلنا بھی محال ہو جائے گا۔

اکثر سڑکوں کے بیچوں بیچ پارکنگ سٹینڈ قائم ہیں اور ان غیر قانونی سٹینڈ ز کو لاہور پارکنگ کمپنی کی مہر لگا کر جعلی تصدیق کر دی گئی ہے۔ فٹ پاتھ بھی نہیں چھوڑے گئے، کہیں عارضی دکانیں سجی ہیں تو کہیں مارکیٹنگ کی غرض سے کیمپ لگائے گئے ہیں ۔شاہراہ قائد اعظم سمیت کئی سڑکیں دشوار گزار راستوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آبادی میں اضافہ ٹریفک میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، لیکن بدلتے حالات میں معاملات کو تبدیل کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ بات غور طلب ہے ۔سڑکوں پر ڈوجنگ کارز کی طرز پر ٹریفک بآسانی دیکھی جا سکتی ہے، بعض شہری بالخصوص منچلے نوجوان قانون توڑنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ون وے اور سگنلز کی خلاف ورزی ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ۔یکطرفہ ٹریفک پر دوطرفہ ٹریفک چلانے میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔ ٹریفک کے اس کمزور اور لاغر نظام کے باعث ٹریفک حادثات بھی معمول بن چکے ہیں ۔شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو کہ پنجاب کے کسی شہر میں کوئی بڑا ٹریفک حادثہ رونما نہ ہوتا ہو۔ لاہور میں تو جان لیوا ایکسیڈنٹ عام ہیں۔ زیادہ تر موٹر سائیکل سوار سڑکوں پر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔حادثات کے بعد تھانوں میں درج کئے جانے والے مقدمات کا مستقبل بھی زیادہ اچھا نہیں ہوتا ۔کہا جاتا ہے کہ ایکسیڈنٹ کا پرچہ بعد میں درج ہوتا ہے، ملزم ضمانت پر پہلے رہائی پا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قانون سازی میں اس قسم کی کمزوریاں معاملات کو درست کرنے میں کس طرح حائل ہیں۔

ٹریفک وارڈنز نے سیٹ بیلٹ باندھنے کے قانون پر بڑے احسن انداز میں عملدرآمد کروایا۔ اب کار سواروں کی اکثریت بیلٹ باندھ کر گاڑی سڑکوں پر لاتی ہے ۔جیل روڈ اور مین بلیوارڈ گلبرگ کی طرح جو سڑکیں سگنلز فری کی گئی ہیں، ان پر یو ٹرن کا دو طرفہ استعمال نہ صرف عام، بلکہ انتہائی خطرناک ہے،اس کا مشاہدہ ہر روز کیا جا سکتا ہے ۔ان سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر کے جو کراسنگ پل بنائے گئے ہیں، ان پر سے شاید ہی کوئی گزرتا ہو ۔ ایک سال گزر جانے کے باوجود’’ روزنامہ پاکستان‘‘ کے نزدیک کاروں کے شو رومز کے درمیان جو پل موجود ہے، اس پر سیبہت کم کسی شہری کو سڑک عبور کرتے دیکھا گیا ہے بلکہ لوگ برق رفتار ٹریفک کے درمیان سے بھاگ کر دو سڑکیں پار کرتے ہیں ۔اسے محض جہالت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ لاہور کالج یونیورسٹی برائے خواتین کی اکثر طالبات اور ان کے والدین بھی کالج کے مین گیٹ کے باہر لگے پل پر سے جانے کی بجائے سڑک ہی کراس کرتے ہیں ۔جہاں اس طرح کے پیدل گزرنے کے راستے بنائے گئے ہیں، وہاں سڑک کے درمیان میں آہنی جنگلے لگانے کی ضرورت ہے ۔لاہور میں ٹریفک کا نظام درست کرنے کے لئے وارڈنز کا قبلہ درست کرنے کے ساتھ ساتھ لین اور لائن کی پابندی کویقینی بنانا ہو گا،اگر یہ کام آج نہ کیا گیا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا ، پھر شاید یہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائے ۔

مزید : کالم