سینیٹر پرویز رشید کی وزارت سے علیحدگی خبر جھوٹی ہے تو پھر یہ سب ہنگامہ کیا ہے؟

سینیٹر پرویز رشید کی وزارت سے علیحدگی خبر جھوٹی ہے تو پھر یہ سب ہنگامہ کیا ہے؟

وزیراعظم نواز شریف نے متنازع خبر کی اشاعت پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کو اُن کے عہدے سے سبکدوش کر دیا ہے،وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیہ کے مطابق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور نیشنل ایکشن پلان سے متعلق6 اکتوبر کو روزنامہ ’’ڈان‘‘ میں پلانٹ کردہ خبر قومی سلامتی کے منافی تھی، اب تک جو ثبوت و شواہد دستیاب ہیں ان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید اس کوتاہی کے ذمے دار ہیں، جنہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں تاکہ آزادانہ اور تفصیلی انکوائری ہو سکے،حکومت کی جانب سے آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے سینئر افسروں پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل کی جا رہی ہے، جو الزامات کا واضح تعین کرے گی، خبر کے پس پردہ مقاصد اور محرکات کو بے نقاب کرے گی اور دیگر ذمے داروں کی نشاندہی کرے گی تاکہ اُن کے خلاف قومی مفاد میں سخت کارروائی کی جا سکے۔

سینیٹر پرویز رشید کو چونکہ ایک ایسے وقت میں وزارت سے ہٹایا گیا ہے، جب تحریکِ انصاف نے حکومت کے خلاف محاذ گرم کر رکھا ہے اور2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں اِس لئے تحریکِ انصاف تو اس خبر پر اپنے ہی انداز میں تبصرہ کرے گی، اور عمران خان کا فوری ردعمل یہی سامنے آیا کہ ایک درباری فارغ ہو گیا اور دوسرا بھاگ گیا ہے، بھاگنے والے سے مراد وزیر دفاع خواجہ آصف ہیں، جو اپنے اعلان کے مطابق نجی دورے پر دبئی گئے اور آج واپس بھی آ گئے۔ اِسی طرح تحریکِ انصاف کے ایک اور رہنما نے اعلان کر دیا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اسلام آباد سے لاہور چلی گئی ہیں، اُن کی لاہور روانگی کو بھی اس رہنما نے اپنی مخصوص عینک سے دیکھا ہے،حالانکہ مریم نواز نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہی موجود ہیں اور لاہور نہیں گئیں،ویسے اگر وہ لاہور آئی بھی ہوتیں ،تو اِس میں اچنبھے کی کیا بات ہے،وزیراعظم ہر ہفتے لاہور آتے ہیں، گزشتہ روز بھی وہ لاہور میں تھے اور انہوں نے پتوکی کے قریب پھول نگر میں ایک عام جلسے سے خطاب کیا۔اب اگر کوئی ان کی لاہور آمد کو مخصوص چوکھٹے میں فٹ کر کے دیکھے تو اسے کیا نام دیا جائے۔اصل ضرورت اِس بات کی ہے کہ تمام واقعات کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور وزیر اطلاعات کے معاملے کو لے کر طوطے مینا کی کہانیاں نہ گھڑی جائیں اور سیاست دان سیاسی بصیرت کا ثبوت دیں۔

جہاں تک خبر کی لیکیج یا پلانٹیشن کا معاملہ ہے اس کی اشاعت کے بعد یہ معاملہ سول اور ملٹری حکام کے درمیان ایک بڑی وج�ۂ نزاع بنا ہوا تھا، چونکہ ذمے داری کا تعین نہیں ہوا تھا اِس لئے قیاس آرائیاں اور حاشیہ آرائیاں زیادہ ہو رہی تھیں،اور بعض لوگ پہلے بھی سینیٹر پرویز رشید کی طرف اشارے کر رہے تھے۔ اب جب وسیع تر انکوائری اور مزید ذمے داروں کے تعین کے لئے کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے، اس کی تحقیق اور نتیجے کا انتظار کرنا چاہئے اور قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہئے،جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے اس کے رہنماؤں کے تبصرے معروضی نہیں،بلکہ اُن کا اپنا ایک پس منظر ہے۔ وزیر اطلاعات ہونے کی حیثیت سے پرویز رشید تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہدفِ تنقید بناتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے تحریکِ انصاف اُن سے خوش نہیں تھی اور بیانات کی اس چاند ماری میں سخت الفاظ کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جاتا تھا اب بھی عمران خان نے انہیں ’’درباری‘‘ کہہ کر اپنا رانجھا راضی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اِس کے جواب میں مسلم لیگ(ن) کا کوئی رہنما ایسی ہی زبان استعمال کرتا ہے، جو عمران خان کو بُری لگے گی، تو جوابی بیانات بھی آئیں گے،اِس لئے بہتر یہی ہے کہ دونوں قسم کے سیاست دان الفاظ کے استعمال میں محتاط رہیں تاکہ الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی کا سلسلہ خواہ مخواہ طویل نہ ہو۔

وزیراعظم آفس کے اعلان میں اس کوتاہی کا تذکرہ موجود ہے، جو پرویز رشید سے سرزد ہو چکی،اِس لئے غیر جانبدار تحقیقات کے لئے اُن کو عہدے سے ہٹا کر ایک ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جسے بنظرِ تحسین دیکھا جانا چاہئے،لیکن ہماری سیاست میں جو تازہ ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘ رواج پا گیا ہے اس کے تحت چیزوں کو مختلف زاویئے سے دیکھا جاتا ہے اور غلط یا صحیح کی تمیز باقی نہیں رکھی جاتی، اِس اقدام کو بھی اسی طرح دیکھا گیا ہے،حالانکہ انکوائری کمیٹی کے بعد ہی معاملے کی اصل صورت سامنے آئے گی۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اتوار کے روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ جو کمیٹی تشکیل پانے والی ہے وہ بہت اہم ہے ابھی سربراہ کا تعین ہونا ہے اور کمیٹی میں مزید نام بھی ڈالے جائیں گے۔انہوں نے خبر کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اُنہیں بہت افسوس ہے کہ سیکرٹری خارجہ کو بھی اِس میں گھسیٹا گیا، اُن کا کہنا تھا کہ پوری قوم چاہتی ہے کہ وہ لوگ سامنے آئیں جو حقیقی طور پر اس کے ذمہ دار ہیں اِس سلسلے میں پرویز رشید کا بھی ایک موقف ہے جو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی آئے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خبر غلط تھی اور جو الفاظ اجلاس میں مختلف شخصیات سے اخبار کی خبر میں منسوب کئے گئے وہ انہوں نے ادا نہیں کئے تھے۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ خبر رپورٹ نہیں کی گئی، بلکہ ’’خبر سازی‘‘ کی گئی تو پھر ایک جھوٹی خبر پر اتنا ہنگامہ کیوں؟جو الفاظ رپورٹ ہوئے وہ کسی نے کہے ہی نہیں اور جو رپورٹ ہوئے وہ غلط تھے تو پھر اِس سلسلے کو اتنا طول دینے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اخبار نے ایک سے زیادہ بار اصرار کے ساتھ لکھا کہ وہ اپنی خبر کی صحت پر قائم ہے۔ اس لئے اب صرف یہی معلوم نہیں کرنا کہ خبر ’’فیڈ‘‘ کس نے کی، بلکہ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ جھوٹی خبر ’’فیڈ‘‘ کرنے کے پس پردہ محرکات کیا تھے۔یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ فیڈ ہوا وہ جھوٹ تھا یا جو شائع ہوا وہ فیڈ سے مختلف اور خانہ ساز تھا۔اب معاملہ اگر تحقیقات کی جانب چل پڑا ہے تو پھر ہر لحاظ سے جامع اور تسلی بخش تحقیقات ہونی چاہئے، جس کا آغاز تو متعلقہ رپورٹر اور اخبار سے ہونا چاہئے، وہیں سے بات آگے چلے گی۔تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے، البتہ جو لوگ اسے اسلام آباد دھرنے سے جوڑ کر خوش ہو رہے تھے،اُنہیں خواجہ آصف کی واپسی کی خبر نے مایوس تو کیا ہو گا جو پروگرام کے مطابق واپس آ گئے ہیں۔

مزید : اداریہ