پسپائی نما پیش قدمی

پسپائی نما پیش قدمی
 پسپائی نما پیش قدمی

  

کیا تدبر او ر تجربہ مل کر مصلحت یا خوف کی پرداخت کرتے ہیں؟ہما شما کو کیا پتہ کہ فسانہ دل،قصہ جنوں اور حکایات خونچکاں مل جل کر کیسی دنیا آباد کیا کئے۔آنکھیں کھلنے اور زبان کھلنے میں خاص تفریق ہو تو ہو پر پیش قدمی اور پسپائی میں بڑا فرق ہوا کئے۔ صاحب جنوں کیا جانیں کہ فطرت کے بانکپن کو گائے کی خودسپرد گی میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔صاحب شعور ہی باخبر کہ سعادت کے ستارے کیسے سجائے جاتے ہیں اور محبتوں کے جام کیسے لنڈھائے جاتے ہیں۔دلِ ناتواں کی خوش فہمیاں دور ہوئیں کہ ابھی کچھ نہیں بدلا۔جمہوریت ابھی جنگل سے نہیں نکلی اور پتلی پگڈنڈی کھلی گلی میں نہیں بدلی۔مقدس ملکوتی مخلوق آج بھی پردے کے پیچھے سے دیکھا کئے اور مجبور محض انسان آج بھی چپ چاپ مانا کئے ۔سیدھا اورسہل سوال کہ نواز شریف بھی اگر بیٹھ رہے تو پھر کھڑا کون ہو گا؟

پرویز رشید کی رفت پرسیاسی و سماوی مخالفین خوشی کے شادیانے بجانے چلے ہیں۔بجائیے بھائی بجایئے کہ آپ کی مسرت و شادمانیت سوا۔نہلایا دھلایا بیل جب صاف ستھرے تھان پر بیٹھ کر نمک کا ڈھلا چاٹنے لگتا ہے تو دہقان کی بھی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔دکھی دلوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی خوشی کس کی غمی میں مضمر ہے۔امہات مصیبت یہ کہ حکومت کی پسپائی نما پیش قدمی آئینی طاقت کے ضعف پر دلالت کرتی ہے ۔ سوال اٹھایا جا نا چاہئے کہ کون سی قومی سلامتی کو خطرہ تھا؟ ملکی سلامتی کوئی آبگینہ نہیں ہوتی کہ ذرا سی ٹھیس لگے تو ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جائے ۔بھائی قومی سلامتی کو تو تب بھی کوئی خطرہ نہ ہوا جب شب کی تاریکی میں دو ہیلی کاپٹرایبٹ آباد سے بن لادن کو لے اڑے ۔ناقدین اور معترضین کی سوال کی ہتھیلی پر کون جواب کا سکہ دھرے کہ تب قومی سلامتی تشریف نہیں لے گئی ؟

دھرنے کے دجل کی بساط بچھانے میں ایک ہستی کا کلیدی کردار اب راز کہاں۔کہا جاتا ہے کہ اس نورانی نور کی گردن قادری کی اطاعت کی بیعت سے بندھی تھی،کیا اس زہریلے اور دوشاخے اقدام سے ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ نہ تھا ؟کیا تب بھی لوگوں کو اسی طرح ہٹایا گیا ؟سیاسی قیادت مصلحت کی بکل مارے بیٹھی رہی ورنہ قومی سلامتی کے نام پر کچھ تو ہوا ہوتا۔مصلحت کی چادر اور سیاست کا بھی چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ۔تسلیم وتائید کہ بصارت اوربصیرت میں فراست کینہیں بلکہ طاقت ہی کی جیت ہوتی آئی ہے ۔آخر کب تک ؟کب تک آخر؟ دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل اب بھی اگر زوال کو نہیں پہنچتا تو پھر طے جانئے کہ یونہی جاری رہے گا ؟عجیب حقیقت بلکہ عجب تر حقیقت کہ سیاست کی قربان گاہ پر متوسط مینڈھے کی ہی قربانی ہو ا کئے۔مشاہداللہ خان ہو ں کہ پرویز رشید،کیا ہم اس حقیقت سے آنکھیں چار یا چرا سکتے ہیں کہ ان کی گردن پر چھری تبھی چلی کہ یہ سرمایہ دار،جاگیردار یا صنعت کار نہ تھے ۔جاوید ہاشمی ایسے باغی کے بانکپن کی حقیقت اپنی جگہ۔۔۔ان کی ہوئی رفت اور نہ ہوتی آمد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔

بے محابا طاقت جنگل کے قانون کی جانب لے جاتی ہے ۔پھر یہ دائیں دیکھے نہ بائیں اور آگے پیچھے سے بھی اس کو سروکار کیسا۔طاقت کا بھلا خارجیت سے کیا واسطہ ،یہ تو داخلیت کی غلام ٹھہری۔شیر کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے مگر وہ اپنی طاقت کو جنگل کے دوسرے جانورو ں کے لئے وقف کرنے کا روادار نہیں۔اس کی اپنی طاقت تو محض اس کی شکم پروری کی احتیاج تک محدود رہا کئے ۔جادوگروں کی اسرائیلیات میں بھی بلا کی قوت ٹھہری،یہ دشمن کے خلاف ہی بروئے کار آئے تو اچھا۔ آئے روز ہر حکومت میں کھینچا تانی،پھڈا بازی، معشوقانہ زنگاری اور جبیں پر سلوٹوں کی مشق ساری ۔۔۔زوال کا یہ تسلسل اور انحراف کی یہ علامت کہیں تو رک جانی چاہئے ۔ دفاع کی رعونت شاہی ،قومی مفاد کی چھڑی ،سیکیورٹی کی کج کلاہی اور طاقت کی جباری و قہاری ۔۔۔کیا نہیں جو ان کی دسترس اور حضور میں نہیں رہا ۔گماں گزرتا ہے کوئی تمنا وکامنا نہ ہوگی جو اب ان کے سینوں میں مچلتی ہو گی کہ بن مانگے ملتا رہا اور بغیر کہے عمل ہوتا رہا ۔سیاست کی سہمی ہوئی حویلی میں مگر اب کی بار پرویز ایسے خلیل کی قربانی کوئی اور ہی کہانی سناتی ہے ۔دلو ں اور نیتوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔شواہدوقرائن لیکن پتہ دیتے ہیں کہ ابھی ناتمام حسرتیں باقی ہیں۔ابھی بھی ہے اک حسرت اور خواہش کہ ہم خدا نہیں تھے :

مضحکہ خیز بھی ہے اور باعث حیرانی بھی

کچھ نہ ہوتے ہوئے بندوں کا خدا ہو جانا

باشعوروں ،باغیوں اور بالغ نظروں نے کتنے خواب دیکھے تھے کہ اب کی بار نواز شریف ہر ادارے کو اس کے آئینی دائرے اور قانونی چوکھٹے میں مقید و محصور کر کے چھوڑیں گے ۔وادریغا!مصلحت کی حیات یا راست جرات کی موت کہ میاں صاحب ایسا مدبر اور مصلح بھی غلط فہمیوں کی چٹانوں سے سرٹکرا کر رہ گیا۔پیچھے ہٹ کر پھرڈٹ جا نا یا بر بنائے مصلحت پسپائی اختیار کرنا ۔۔۔ممکن ہے یدھ میں یہ تدبیر برتی جاتی ہو ۔آسمان کی نیلی بوڑھی آنکھوں نے مگر دیکھا کہ پسپائی میں پڑاؤ اور ہوتے ہیں اور پیش قدمی میں پڑاؤ چیزے دیگر است ۔پاؤں میں پڑی بیڑی کو کاٹنے کی ہر تمنا شاید اس لئے بھی ناکام ہوئی جاتی ہو کہ قیدی خود زنجیروں کی محبت میں مبتلا ہو چکا ہو ۔

مزید : کالم