افغان دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کی بھارتی کوشش

افغان دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کی بھارتی کوشش
 افغان دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کی بھارتی کوشش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بھارت پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے اور پانی بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے اس نے اپنے ان مذموم مقاصد میں افغانستان کو بھی ساتھ ملا لیا ہے اور دونوں ملکوں نے مل کر پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت وہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر کوئی تعمیرات نہیں کر سکتا،مگر پھر بھی وہ پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر بند باندھ رہا ہے اور ڈیم بنا رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے مابین ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں، حالانکہ اس کے کئی دریا پاکستان میں آتے ہیں۔


’’ ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے بتایا ہے کہ اب بھارت نے افغانی دریاؤں پر بند باندھنے اور ڈیم بنانے میں افغانستان کی معاونت شروع کر دی ہے تاکہ افغانستان سے پاکستان آنے والے پانی کو روکا جا سکے۔ اب تک افغانستان ان دریاؤں سے بالکل استفادہ نہیں کر رہا تھا اور ان کا تمام پانی براہِ راست پاکستان آ رہا تھا۔ افغانستان کے پاکستان آنے والے ان مشرقی دریاؤں میں دریائے کابل بالخصوص قابل ذکر ہے اور بھارت اس پرخصوصی طور پر بجلی کی پیداوار کے منصوبے شروع کرنے میں افغانستان کی معاونت کر رہا ہے۔ دریائے کابل اور دریائے چناب میں کافی مماثلت ہے۔ان دونوں میں پانی کی مقدار بھی لگ بھگ برابر ہے،جو 2کروڑ 30 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔ افغانستان اس دریا پر بجلی کے پیداواری منصوبے لگانے کے لئے بے چین ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دریائے کنڑ اور دریائے چترال پر بھی ایسے ہی منصوبے شروع کرنا چاہتا ہے۔ یہ دریا بھی سیدھے پاکستان میں آتے ہیں۔ ان دریاؤں پر تعمیراتی کام کر کے بھارت پاکستان کو ایک سخت پیغام دے سکتا ہے۔ افغان صدر محمد اشرف غنی جب گزشتہ ماہ بھارت گئے تھے تو انہوں نے یہ منصوبے خصوصی طور پر موضوع گفتگو بنائے تھے۔


بھارت نے دریائے چناب پر مزید تین ڈیم بنانے کے لئے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کر لئے ہیں جب کہ افغانستان دریائے کابل پر ورلڈ بینک کے سات ارب ڈالر قرضے سے بارہ ڈیم تعمیر کرے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے باوجود دونوں ممالک کے مابین آبی مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر رہے ہیں۔ اب بھارت نے پاکستان کی اجازت کے بغیر دریائے چناب پر مزید تین ڈیموں کی تعمیر کے لئے اقوام متحدہ سے کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹ حاصل کرلئے ہیں۔ بھارت دریائے چناب پر تین ڈیموں کی تعمیر سے دو کروڑ کیوبک فٹ پانی روک سکے گا۔
اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت دریائے کابل پر افغانستان میں بارہ ڈیموں کی تعمیر میں اس کی مدد کرے گا اور ان بارہ ڈیموں کی تعمیر کے لئے ورلڈ بینک افغانستان کو سات ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کر رہا ہے۔ بھارت عرصے سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم پر دونوں ممالک میں قانونی جنگ بھی جاری رہی اور اس پر ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔


حکومت پاکستان کو اس حوالے سے متحرک ایکشن لینا چاہئے۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں پانی نہیں ہو گا ،تو یہاں زراعت کیسے زندہ رہے گی اور یہاں پن بجلی کیسے پیدا ہو گی۔ پاکستان کو نئے ڈیم بنانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی فورمز پر بھی پانی کا مسئلہ اُٹھانا چاہئے، کیونکہ اس معاملے میں تاخیر پاکستان کی معیشت کے لئے تباہی کا باعث ہو سکتی ہے۔حکومت پاکستان آبی معاملات پر بھارت اور افغانستان سے معنی خیز بات چیت آگے بڑھائے۔پانی کے معاملات ایسے ہیں جو پاکستان کے لئے اولین ترجیح ہونی چاہئیں۔


پاکستان نے دریائے کابل کے پانی کو شیئر کرنے کا فارمولا طے کرنے کے لئے ایک بار پھر کابل سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے معاہدے طے کرنے کے حوالے سے افغانستان سے بات چیت کی یہ تیسری کوشش ہو گی۔ پیپلزپارٹی اور مشرف کے دور میں بھی پاکستان کی طرف سے افغانستان سے رابطہ کیا تھا، تاہم اس وقت افغان نیشنل واٹر پالیسی کی عدم موجودگی کسی معاہدے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ افغانستان نے دریائے کابل پر 1177 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد والے 12 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوری میں نریندر مودی نے اپنے دورہ کابل کے موقع پر اس دریا پر ہائیڈل پراجیکٹ کا افتتاح بھی کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان 9 دریا مشترک ہیں، جن سے سالانہ 18.3 ملین ایکڑ فٹ (ایم ے ایف) پانی بہتا ہے۔ اس میں سے 16.5 ایم اے ایف پانی دریائے کابل سے گزرتا ہے۔ پاکستان کا دریائے چترال میں پانی کا سالانہ بہاؤ 8.5 ایم اے ایف ہے۔ یہ دریا جب افغانستان میں داخل ہوتا ہے اس کا نام دریائے کنٹر ہو جاتا ہے۔ یہ جلال آباد کے قریب دریائے کابل سے ملتا ہے اور پھر پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔پاکستان کو افغانستان میں پراجیکٹس پر اعتراض نہیں، تاہم افغانستان عالمی قوانین کے تحت باہمی معاہدے کے بغیر پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا۔ اس طرح یہ معاہدہ کرنا عالمی قوانین کے تحت بھی ضروری ہے۔

مزید :

کالم -