امریکی جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ

امریکی جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ
 امریکی جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قدرتِ خداوندی کے رنگ نرالے ہیں۔ جب اکتشافاتِ حقائق کا وقت آتا ہے تو قدرتِ خداوندی ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے کہ حق آشکار ہو کر رہتا ہے۔ اگر ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اپنے خبث باطن کو ظاہر نہ کرتا تو شاید ڈیمو کریٹک بھی مسلمانوں کی حمایت میں نہ بولتے۔ ڈیمو کریٹک نیشنل کنونشن میں ہیلری کلنٹن کو باقاعدہ طور پر نامزد کرنے کے موقع پر امریکی خاتون اول مشعل اوباما نے جو خطاب کیا،وہ بہت جذباتی اور بہت پُرجوش تھا۔ اس خطاب کی ویڈیو اس وقت بھی انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے اور اسے سننے والے بے پناہ داد دیتے ہیں اور مسلمان خوش ہوتے ہیں۔ مشل اوباما کی اس تقریر کا ایک جملہ ہے کہ ’’مسلمان کون ہیں، مسلمان ہم‘‘ ہیں۔۔۔ ہیلری کلنٹن نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا:مسلمان تو ہمارے ساتھ ’’امریکی انقلاب‘‘ میں بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ امریکن اپنی آزادی کی جدوجہد کو ’’امریکی انقلاب‘‘ کہتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے اس مختصر سے فقرے کو بہت کم لوگوں نے نوٹ کیا،لیکن ایک ری پبلکن ویب سائٹ نے اس کا مذاق اُڑایا کہ اچھا اب ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہماری آزادی کی جدوجہد کرنے والے آباء بھی مسلمان تھے؟ ہیلری کلنٹن ایک وسیع المطالعہ خاتون ہے۔مجھے یقین ہے کہ اُس نے اِس بارے میں تاریخ پڑھ رکھی ہو گی اور شاید اُس نے ایک امریکی مسلم سکالر کی تاریخی تحقیق پر مبنی کتاب۔۔۔ ''The American Revolution As Affected By The Muslim World''۔۔۔ بھی پڑھی ہو۔ سید محمود کی یہ کتاب ایمیزان پر فروخت ہو رہی ہے اور اس وقت کی بیسٹ سیلرز میں شامل ہے۔ امریکہ میں مطالعے کا اچھا ذوق رکھنے والوں سے ایمیزان پر بکنے والی کوئی کتاب نظر انداز نہیں ہو سکتی۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر ہی ایک طرف جارج واشنگٹن، جان ایڈم، ٹامس جیفرسن، جیمز میڈیسن، بنجامن فرینکلن اور ٹامس وڈرو ولسن کی تصاویر ہیں تو دوسری طرف اسی انداز میں ایوب سلیمان(جاب) سلیم بلالی ابراہام آف سیمینول، عبدالرحمن ابراہم، یارو محمود(محموت) اور عمر ابن سید کی تصاویر چھاپی گئی ہیں۔ ایک طرف اگر بانیان وطن ہیں تو دوسری طرف غلام بنائے گئے افریقی(مسلمان) ہیں۔ مصنف نے تاریخ کے گردو غبار میں اٹی ہوئی کتابوں سے تاریخی حقائق کو تلاش کر کے امریکہ کی تاریخ کے ایک ایسے گوشے کو بے نقاب کیا ہے جس پر اب تک کسی نے توجہ نہیں دی تھی۔ اس کتاب میں یہ بات تاریخی حقائق اور حوالوں سے ثابت کی گئی ہے کہ مسلمان امریکہ کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ بننے سے بہت پہلے یہاں آباد تھے اور وہ اس سرزمین کے معاملات میں اپنا کردار بھی ادا کر رہے تھے۔


مصنف نے اپنی کتاب کی غرض و غایت یوں بیان کی ہے کہ اس کا مقصد تحقیق و جستجو کے ذریعے امریکی انقلاب کی تاریخ کو چھان پھٹک کر اس سے متعلق مسلمانوں اور دُنیائے اسلام کے تعلق اور کردار کو اُجاگر کرنا ہے۔ سٹی کالج آف سان فرانسیسکو کے انگریزی کے پروفیسر عبدالجبار کا کہنا ہے کہ مصنف نے بے حد عرق ریزی سے صحیح اور قابلِ اعتبار ذرائع سے امریکہ میں مسلمانوں کے اُس تاریخی کردار کو اُجاگر کیا ہے۔ امریکہ میں مسلمانوں کی تاریخ بہت طویل ہے،لیکن اکثر امریکیوں کو اس کا ادراک اور اندازہ نہیں ہے۔ سید محمود نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ کے ریاست بننے سے تین سو سال قبل یہاں مسلمانوں کے قدم پہنچ چکے تھے۔ 1492ء میں جب کولمبس امریکہ آیا تو اُس کے دو کپتان عرب مسلمان تھے۔مَیں نے اپنے کالم بسلسلہ کولمبس میں عرض کیا تھا کہ کولمبس کی آمد سے بہت پہلے مسلمان زمین کے کرُوی(گول) ہونے سے آگاہ تھے اور مسلمان جہاز ران دور دور کے سفر کر چکے تھے۔ ان مسلمانوں کو سمندر میں راستے کے تعین کے سلسلے میں ستاروں کے ذریعے رہنمائی حاصل کرنے میں بھی خصوصی مہارت حاصل تھی۔ بحری جہاز کے آلات میں خرابی کی صورت میں ستاروں سے کیسے راستہ معلوم کیا جائے، جہاز رانی کے کورس میں آج بھی یہ علم شامل ہے اور اس کی تمام اصطلاحات اور نام عربی میں ہیں۔ کولمبس کی آمد سے قبل مسلمان سپین میں ایک عظیم الشان دور گزار چکے تھے جو علوم میں انقلابی ترقی کا دور تھا۔ سپین میں مسلمانوں کی شکست کے بعد ہی کولمبس نے بحری سفر کئے، اِس لئے لامحالہ اُس کے سامنے مسلمانوں کے اکتشافات موجود تھے اور تجربہ کار عرب مسلمان ملاح(جہاز ران) بھی اُس کی مدد کے لئے موجود تھے، جس سے کولمبس نے فائدہ اُٹھایا۔ یاد رہے کہ واسکو ڈی گاما کو بھی کلکتہ کی بندرگاہ تک رہنمائی کر کے لانے والا احمد نامی ایک عرب ملاح تھا۔


کتاب میں مصنف ایک سیاہ فام مسلمان کا بھی ذکر کرتا ہے جو ازامور سے ساحل اوقیانوس پر اُترا اور دُور تک علاقے میں تحقیق و تفتیش کی۔ اُسے1550ء میں اری زونا اور نیو میکسیکو کی دریافت کا کریڈٹ حاصل ہے۔ ایک مصری شہزادے نے1586ء میں ہڈسن دریا کے کنارے رہائش اختیار کی۔ اُس دور میں بحری قذاقوں کی بے حد عزت تھی۔ فلمPirate بھی اس پر کچھ روشنی ڈالتی ہے۔ یہ باغی لوگ ہوتے تھے،لیکن انہیں بعض حکومتوں کا تعاون اور حمایت بھی حاصل ہوتی تھی۔ایسے ہی ایک انگریز مہم جو اور بحری قذاق سرفرانسس ڈریک نے سپینش اور پرتگیزی جہازوں پر حملہ کیا۔ جہازوں پر قبضہ کر لیا اور عملے کے ہزاروں افراد کو قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔ یہ غلاموں کی تجارت کی گرم بازاری کا دور تھا، اِس لئے یہ قیدی گویا بہت قیمتی تھے،لیکن وہ دو سو کے قریب، مور(سپینشن مسلمان) ترک، مغربی افریقی اور پرتگیزی نارتھ کیرولائنا کے جزیرے رونوک میں چھوڑ گیا۔سیاہ فام غلاموں کے بارے میں ایک عظیم الشان کتاب ’’رُوٹس‘‘ جس پر امریکہ میں ایک سلسلہ وار ٹی وی فلم بھی بن چکی ہے،اس میں کتاب کا مصنف ایلیکس ہیلی ایک مسلمان کو افریقہ سے جبراً اُٹھا کر امریکہ لانے اور غلام بنانے کی درد انگیز داستان بیان کرتا ہے۔ مصنف خود افریقہ میں اُن مقامات کو دیکھنے گیا تھا جہاں سے اس کتاب کے مرکزی کردار کُنتا کنتے کو اغوا کر کے لایا گیا تھا۔ ایلیکس ہیلی چونکہ مسلم روایات، ناموں اور ثقافت سے آگاہ نہیں تھا،اِس لئے وہ اس کی نشاندہی تو نہیں کر سکا،لیکن وہ افریقہ میں جا کر جومذہبی رسوم، شادی بیاہ کی تقریبات اور گاؤں کے مُکھیا کو ’’امامو‘‘ (امام) کہلانے وغیرہ کا ذکر کرتا ہے، اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ مسلمان تھے۔ واشنگٹن ڈی سی کے ایک سیاہ فام مسلم سکالر نے غلاموں کے عجائب گھر میں ایسی چیزیں دریافت کی ہیں، جن سے اُن کے مسلمان ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ ان چیزوں میں سے بعض کاغذ کے پرزے ہیں جن پر کوئی آیت یا عربی کے کچھ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔


ایلیکس ہیلی کی کتاب رُوٹس کے مطابق کتاب کے مرکزی کردار کو1750ء میں گیمبیا سے پکڑ کر لایا گیا اور میری لینڈ میں اُس نے غلامی کی زندگی گزاری۔1767ء میں اُسے جبراً مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اسی طرح اکثر کے نام تبدیل کر دیئے گئے۔ ایک غلام پیٹر سیلم جنگ آزادی (امریکی انقلاب) کا ہیرو تھا،اُس کی یاد میں1970ء میں ڈاک کا ٹکٹ جاری کیا گیا۔ 1860ء میں کھیتوں میں چالیس لاکھ افریقی غلام کام کرتے تھے۔38ہزار سیاہ فاموں نے امریکہ کی سول وار (خانہ جنگی یونیسنٹ اور فیڈریٹ کے مابین) میں اپنی جانیں قربان کیں،ان غلاموں میں20سے30فیصد مسلمان تھے۔ سول وار کے ریکارڈز میں 292 مسلمانوں کے نام موجود ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے کرانیکل میں ایک ہزار575 مسلمانوں کے نام ملتے ہیں، جنہوں نے اس عظیم جنگ میں حصہ لیا۔افریقہ کے جن سیاہ فام مسلمانوں کو غلام بنایا گیا، اُن میں سے بعض کا تعلق شاہی خاندانوں سے تھا۔ اگرچہ یہ مسلمان اپنے ساتھ بعض ایسی مہارتیں لے کر آئے تھے جن سے اُن کے گورے آقا آشنا نہیں تھے۔ انہوں نے امریکی معاشرے کو ثقافتی لحاظ سے مالا مال کیا،لیکن آج کے ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح اُس دور میں بھی بعض بدبخت اُن کے خلاف تھے اور مسلمانوں کے بارے میں یہ منفی تاثر پھیلانے میں بعض گورے مستشرقین کا بڑا ہاتھ تھا۔ اگر ان مستشرقین کی ریشہ دوانیوں کا پورا علم حاصل کرنا ہو تو اس کے لئے ایڈورڈ سعید کی1978ء کی کتاب ’’اورئینٹلزم‘‘ پڑھئے۔ سید محمود کی کتاب کا ایک دلچسپ حصہ امریکہ کے مسلم ممالک سے تعلقات پر مبنی ہے۔ کیا کسی کو اب یہ بات یاد ہے کہ مراکش وہ اسلامی مُلک تھا، جس نے سب سے پہلے امریکہ کو تسلیم کیا،اُس وقت جب ابھی کسی غیر مسلم یورپی مُلک نے بھی امریکہ کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ امریکہ اور بربری ریاستوں الجیر، مراکش، تریپولی اور تیونس کے تعلقات کی نوعیت بہت پیچیدہ تھی۔ یہ غلاموں کی تجارت کی گرم بازاری کا دور تھا اور مغربی اقوام کے بحری قذاقوں نے کئی گوروں کو پکڑ کر ان بربری ریاستوں میں غلام بنا کر بیچ دیا تھا۔ بعض مغربی ممالک میں اسی طرح مسلمانوں کو غلام بنا کر بیچ دیا گیا تھا۔


بربری ساحلی مسلم ریاستیں اُس وقت بہت طاقتور تھیں۔ امریکہ کی جنگِ آزادی کے دوران بہت سے امریکی بحری جہاز برطانوی بحریہ نے تباہ کر دیئے تھے۔ مسلم ممالک کی رضا مندی کے بغیر ان دِنوں بحیرۂ روم میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ داخل بھی ہو سکتا۔1976ء میں معاہدۂ تریپولی سے یہ ممکن ہوا کہ امریکہ کے جہاز بے خطر سفر کرنے لگے، کیونکہ اس معاہدے کے ذریعے امریکہ کے تعلقات اُس وقت کی سپر پاور خلافت عثمانیہ سے استوار ہو گئے اور یورپی ممالک کا امریکہ کو تنہا کر دینے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔امریکی انقلاب کے اس فراموش کردہ باب کے سلسلے میں مصنف نے امریکہ میں غلاموں پر ہونے والے مظالم کا بہت تفصیل اور دل سوزی سے ذکر کیا ہے۔ اس سے قبل غالباً اس تفصیل اور جزئیات نگاری کے ساتھ اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ بلاشبہ ایلکس ہیلی نے کسی قدر تفصیل دی ہے،لیکن اس نے واقعات کو ’’ناول‘‘ کے انداز میں لکھا ہے۔ یہ ناول معمول سے کچھ زیادہ ضخیم ہو گیا ہے۔ناول کے تقاضے صرف غلاموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ سید محمود نے ان تفاصیل کا حق ادا کر دیا ہے۔ آج کے سیاہ فام اگر یہ تحریک چلاتے ہیں کہ۔۔۔ ’’Black lives Matter‘‘۔۔۔ تو یہ ایک طرح سے اُسی عہد ستم سے متعلق ہو جاتی ہے اور اس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ملتی ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ آج امریکہ کو عظیم بنانے کا نعرہ لگا رہا ہے، لیکن سیاہ فام امریکیوں نے اس مُلک کو عظیم تر بنانے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ ہمارے ہاں کچھ گمراہ لوگ حکومت کی ذرا سی سختی پر مُلک کو توڑنے اور اس کے بنانے کو جرم اور گناہ کہنے پر اُتر آئے ہیں، ان کی انگلی میں خراش بھی آ جائے تو کہتے ہیں ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔۔۔ سیاہ فاموں نے ہر شعبۂ زندگی میں امریکہ کو عظیم بنانے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا، خون بہا یا، جانیں قربان کیں،لیکن اس عظیم مُلک کو عظیم بنانے کے دعویداروں کی نظروں میں سیاہ فام اب بھی کمتر ہیں۔ دُنیا بھر میں سب سے زیادہ قیدی امریکہ میں ہیں اور ان قیدیوں میں80فیصد سیاہ فام ہیں، ہر دوسرے تیسرے روز کہیں نہ کہیں کوئی گورا پولیس والا کسی سیاہ فام کو گولی مار دیتا ہے۔ بھیڑیوں، سوروں، کتوں، بلیوں اور جنگلی جانوروں کی نسلیں بچانے کے لئے اربوں روپے خرچ کرنے اور ملکوں ملکوں فنڈز جمع کرنے والوں کے مُلک میں سیاہ فاموں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ دوسرے ممالک میں کسی اقلیی گروہ کے پاؤں میں کانٹا چبھ جانے پر تڑپ اُٹھنے اور تشویش کا اظہار کرنے والوں کے لئے آئے روز سیاہ فاموں کا پولیس کے ہاتھوں قتل معمول کی،بلکہ معمولی بات ہے۔


امریکہ میں سیاہ فاموں اور مسلمانوں میں ایک خصوصی تعلق ہے،ایک قدیمی رشتہ ہے۔ کتاب کے مطابق امریکہ کے چھ ملین (ساٹھ لاکھ) مسلمانوں میں دو ملین(20لاکھ) سیاہ فام مسلمان ہیں،سیاہ فاموں پر تو عرصہ دراز سے سیاہ رات چھائی ہوئی تھی، غیر سیاہ مسلمانوں کی حالت بھی نائن الیون کے بعد ابتر ہے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مجرم بنا دیا گیا ہے۔ٹرمپ اور ری پبلکن چاہتے ہیں کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پرپابندی لگا دی جائے یا اسے محدود کر دیا جائے۔ان کی مساجد اور گھروں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔دوسرے یورپی ممالک میں پایا جانے والا ’’اسلامو فوبیا‘‘ امریکہ میں زیادہ بھی ہے اور اپنی بدترین شکل میں بھی ہے۔۔۔مصنف سید محمود ایک مخلص اور محب وطن امریکی ہونے کے ناتے امریکی حکمرانوں سے کہتا ہے کہ عالم اسلام کے بارے میں شرم ناک دوغلی پالیسی کو ترک کر دیں،یہ عظیم امریکہ کے شایان شان نہیں ہے۔ مصنف خاص طور پر عراق اور افغانستان کا ذکر کرتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی اس سلسلے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔دوہرے معیار نے ہمیں شرمناک حد تک اپنی تصویر کو مسخ کرنے والا مُلک بنا دیا ہے۔ ہم مسلسل اپنے دوستوں کو دشمن بناتے چلے جا رہے ہیں۔ مسلم دُنیا میں کوئی ہمارا اعتبار نہیں کرتا۔ ہم دُنیا بھر میں دوست پیدا کرنے کے لئے بے تحاشا ڈالر خرچ کرتے ہیں،لیکن ہمارے دوستوں میں ہمارا اعتبار اور وقار نہیں ہے۔
اس کالم کے لئے پروفیسر عبدالجبار کے تبصرے سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ’’جرنل آف امریکہ‘‘ کے ایڈیٹر اور روح رواں جناب عبدالستار غزالی کا خصوصی شکریہ واجب ہے،جنہوں نے اس مواد سے استفادے اور اس کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔

مزید :

کالم -