پاکستان کی شوگر انڈسٹری 300ملین ڈالر کی چینی برآمد کر سکتی ہے

پاکستان کی شوگر انڈسٹری 300ملین ڈالر کی چینی برآمد کر سکتی ہے

پاکستان کے مایہ ناز بزنس مین اور اہم سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے چوہدری ذکاء اشرف سے بات چیت

چوہدری ذکاء اشرف پاکستان کے مایہ ناز بزنس مین ہیں جو پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی بھی کر چکے ہیں۔

روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ صادق پبلک سکول بہاولپور کے بعد کیڈٹ کالج پٹارومیں تعلیم حاصل کرچکے ہیں ۔ جس زمانے میں انہوں نے کیڈٹ کالج پٹاروجوائن کیا پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی وہیں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے گریجوایشن کر رکھی ہے۔انہوں نے نارتھ یورپ مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ اوسلو ، ناروے میں اعلیٰ تعلیم کے داخلہ لیا لیکن ان کے چچا نے اس لئے نہ جانے دیا کہ کہیں وہ وہاں سے کسی میم کو نہ بیاہ لائیں۔

چوہدری ذکاء اشرف بچپن میں فوج کو جوائن کرنے کے شوقین تھے اور 49پی ایم اے بھی پاس کیا تھا لیکن فیملی بزنس کی وجہ سے جوائن نہ کر سکے۔ ایک مرحلے پر انہیں ایئرفورس میں پائلٹ بننے کا شوق چرایا تو اس کا امتحان بھی پاس کر لیا جس پر ان کے والد چوہدری محمد اشرف نے ایئرمارشل رحیم سے کہا کہ وہ سمجھائیں کہ فیملی بزنس کے لئے ان کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ یوں پاکستان کی انڈسٹری کو چوہدری ذکاء اشرف جیسا اہم سپوت حاصل ہوا جنھوں نے اس میدان میں بھی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔

چوہدری ذکاء اشرف کے والد سندھ میں پنجابی آبادکاروں کے سرخیل تھے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں وہ حیدرآباد میں بی ڈی ممبر بھی رہ چکے تھے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو ان کی نگہہِ انتخاب ان پر پڑی ۔ لیکن انہوں نے کہا وہ پیپلز پارٹی کے سوشلزم کے نعرے سے متفق نہیں ہیں جس پر بھٹو نے وضاحت کی وہ چاہتے ہیں کہ 22خاندانوں کی دولت غریبوں میں تقسیم ہولیکن ان کا مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ ہر بزنس مین کے کاروبار کو سرکاری تحویل میں لے لیں۔ چنانچہ چوہدری محمد اشرف نے پیپلز پارٹی کو جوائن کیا اور سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے۔ چوہدری ذکاء اشرف بتاتے ہیں کہ وہ اوائل جوانی سے اپنے ہاتھ سے ذوالفقار علی بھٹو کو چائے بھی پیش کر چکے ہیں جو اس زمانے کسی مہمان کو انتہائی عزت دینے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ شوگر بزنس میں کیسے آئے تو کہنے لگے کہ ان کی فیملی کا مائننگ کا بزنس بہت پھیلا ہوا تھا اور سال میں ایک مرتبہ وہ پاکستان بھر میں اپنی پارٹیوں سے ملاقات کیا کرتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پی آئی ڈی پی نے جب بہاولپور، پتوکی اور لاڑکانہ میں شوگر ملز کو پرائیویٹائز کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ٹینڈر میں حصہ لیا، چنانچہ بہاولپور والی مل انہیں مل گئی تھی جس کی مشینری ، جسے بھٹو نے چین سے منگوایا تھا، ابھی نصب نہیں ہوئی تھی۔ مل کا نام اشرف شوگر ملز رکھا گیا اور ابتدا میں اس کا پلانٹ 1500ٹن کا تھا ۔ جب جنرل ضیاء الحق نے ڈی زوننگ کی تو پلانٹ کو 4000ٹن کا کردیا گیا اور اس وقت یہ capacityکل ملا کر 12000ٹن تک پہنچ چکی ہے۔

اس دوران لیہ شوگر ملز کی پرائیویٹائزیشن کا قضیہ شروع ہوا تو پہلی مرتبہ اس فیملی نے بینکوں سے بیس کروڑ روپیہ قرضہ لیا ، ابھی آدھا قرضہ ہی ملا تھا کہ حکومت تبدیل ہوگئی اور چوہدری فیملی کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بناتے ہوئے بینکوں کو منع کیا گیا کہ وہ قرضہ نہ دیں۔ اس اعتبار سے اشرف گروپ آف انڈسٹریز پر یہ ابتلا کا وقت تھا جسے انتہائی حکمت سے نبھایا گیا اور ایک بھی پیسہ معاف کروائے بغیر نہ صرف پورا قرضہ بلکہ اس پر عائد سود بھی ادا کیا گیا۔ چوہدری ذکاء اشرف کہتے ہیں کہ ان کے والد بینکوں سے قرضہ لینے کے حق میں کبھی نہ ہوتے تھے اور جب انہوں نے ایسی کوشش کی تو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔

پاکستان میں شوگر انڈسٹری کے مسائل پر بات چیت کرتے ہوئے چوہدری ذکاء اشرف نے بتایا کہ اس وقت انڈسٹری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں گنے کی فصل میں اضافے کے لئے کوئی بھی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی شوگر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بھی نہیں ہے جس وجہ سے پاکستان میں شوگر ٹیکنالوجی کا فروغ نہیں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایسے 14ادارے ہیں جو آسٹریلیا کے تعاون سے کامیابی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن تھے تو آسٹریلیا سے یہ تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کامیابی نہ ہو سکی کیونکہ یہاں پر اس حوالے سے مناسب آگاہی موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شوگر انڈسٹری اس لئے بھی انڈرپرفارم کر رہی ہے کہ حکومت گنے کی قیمت کو تو کنٹرول کرتی ہے مگر چینی کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ کسانوں کو بروقت گنے کی قیمت کی ادائیگی نہیں ہو پاتی ۔ جب اس کا حل پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یا تو حکومت گنے کی قیمت بھی طے نہ کرے یا پھر چینی کی مارکیٹ کو بین الاقوامی مارکیٹ سے جوڑ دے اور کسانوں اور مل مالکان کو بین الاقوامی منڈی کے مطابق نفع نقصان ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چینی کی برآمد کو بڑھانے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئے تاکہ گنے کے کسان کو حقیقی فائدہ ہو۔ اگر حکومت ایکسپورٹ سبسڈی دے تو پاکستان کی شوگر انڈسٹری 300ملین ڈالر کی چینی برآمد کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں لگ بھگ 100شوگر ملیں لگ چکی ہیں ۔

سرخیاں

حکومت کو چینی کی برآمد کو بڑھانے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئے

پاکستان میں لگ بھگ 100شوگر ملیں لگ چکی ہیں

حکومت گنے کی قیمت کنٹرول کرتی ہے مگر چینی کی قیمت مستحکم رکھنے کے لئے کچھ نہیں کرتی

پاکستان میں شوگر ٹیکنالوجی کا فروغ نہیں ہو رہا ہے

پاکستان میں گنے کی فصل میں اضافے کے لئے کوئی بھی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نہیں ہے

مزید : ایڈیشن 2