زیر گردش کرنسی کی مالیت میں اضافہ,2015کے مقابلہ میں30.5فیصد تک پہنچ گیا

زیر گردش کرنسی کی مالیت میں اضافہ,2015کے مقابلہ میں30.5فیصد تک پہنچ گیا

 کراچی(آن لائن) ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مالیت میں بھی غیرمعمولی اضافہ،زیرگردش کرنسی نوٹوں کی مالیت میں اضافہ2015کے مقابلہ میں30.5فیصد تک پہنچ گیا اس کی وجہ بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس وصولی کی وجہ سے نجی کاروباری شعبہ بینکوں کے بجائے نقد لین دین کو ترجیح دے رہا ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 24ستمبر کو منعقدہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے منٹس جاری کردیے گئے ہیں جن کے مطابق سال 2015 کے دوران زیرگردش کرنسی نوٹوں کی مالیت میں 17.3فیصد کا اضافہ ہواتھا مگر سال 2016 کے دوران یہ اضافہ 30.5فیصد تک پہنچ گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی کاروباری شعبہ بینکوں کے بجائے نقد لین دین کو ترجیح دے رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ڈپازٹس پر منافع کی کم ترین شرح اور بینک ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ہے، بینکوں کے ڈپازٹس میں اضافے کی شرح مالی سال 2015کے دوران 12فیصد تھی جو مالی سال 2016کے دوران کم ہو کر 8.7فیصد کی سطح پر آگئی۔نجی شعبے کے ڈپازٹس میں اضافے کی شرح 9.4فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی کے ساتھ 1.2فیصد تک محدود رہی جس کی وجہ سے زیرگردش کرنسی کا جی ڈی پی سے تناسب 9.3فیصد سے بڑھ کر 11.3فیصد کی سطح پر آگیا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال1300ارب کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کی وجہ سے کمرشل بینکوں کو قرضوں کی ادائیگی کیلیے حکومت کا اسٹیٹ بینک پر قرضوں کا انحصار بڑھ رہا ہے، مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں حکومت نے بینکنگ سسٹم سے 359ارب کے قرضے لیے جو گزشتہ مالی سال 189ارب تھے۔ اجلاس میں10 میں سے 2ارکان نے پالیسی ریٹ 25 بیسس پوائنٹس کم کرنے کی سفارش کی تھی

مزید : کامرس